Ongoing Novels

Zill Il Hub Episode 7 by Maham Mehmood Paracha

حب یعنی محبت۔۔۔کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی سے ہو ہی جاتی ہے۔اور دل۔۔۔کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی کا ٹوٹ ہی جاتا ہے۔
محبت کا ہونا اور دل کا ٹوٹنا ایسے ہے جیسے زندگی کا ہونا اور پھر موت آجانا،بہار کا ہونا اور پھر خزاں آجانا۔
یہ کہانی کچھ انہیں طرح کے پہلوؤں کے گرد گردش کرتی ہے۔۔۔محبت،نفرت اور انتقام۔۔۔جہاں محبت میں قرب کی طلب ہوتی ہے وہیں نفرت میں انتقام کی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس محبت،نفرت اور انتقام کی جنگ میں جیت آخر کس کی ہوتی ہے۔

 

Aah Neem Kash Episode 1 by Aasiya Raees Khan

Aah Neem Kash is a Family Based Novel by Aasiya Raees Khan. Publishing in Shuaa Digest Monthly.
آسیہ رئیس خان کے خوبصورت لکھنے کے انداز سے بھلا کون واقف نہیں؟ ہم سب ہی ان کے شارٹ ناولز بڑے شوق اور مزے سے پڑھتے ہیں مگر یہ ان کا پہلا سلسلہ وار ناول ہے۔
کہانی شروع ہوتی ہے اوک ہاؤس کی اُداس سبیل سے، جن پر نہ جانے کتنے پہرے بٹھائے گئے ہیں، جو عام لڑکیوں کی طرح ایک آزاد زندگی نہیں گزار رہیں۔
وہ اوک ہاؤس میں اپنی دادی اور صفا (اپنی دوست) کے ساتھ رہتی ہے۔ صفا جسے صرف اس کی نگرانی اور حفاظت کے لیے رکھا گیا ہے۔ مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ سبیل کو آخر اتنے سخت پہرے میں کیوں رکھا گیا ہے؟ آخر کس سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے؟
کہانی کے دوسرے کردار بیگم عنایت جہاں، میر قربان علی خان، میر عثمان اور عدن کا تعلق کوٹھی خیاباں سے ہے، جہاں کا نظام بیگم عنایت جہاں دیکھتی ہیں، جو ایک با رُعب شخصیت کی مالک اور سیاستدان ہیں۔ مگر کہانی میں ان کا تعلق اوک ہاؤس کے مکینوں سے بھی دکھایا گیا ہے۔
لیکن بیگم عنایت جہاں کا سبیل سے آخر کیا تعلق ہو سکتا ہے؟
کہانی میں سسپنس بھی موجود ہے۔
کیا آپ نے آہ نیم کش کی پہلی قسط پڑھی ہے؟ اگر ہاں تو کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے ضرور بتائیے۔

Masloob Episode 1 by Iqra Butt

مصلوب” فلسطین کی مٹی پر لکھی گئی ایک کہانی ہے—ظلم، قربانی اور سچائی کی پکار کی۔ یہ اُن دلوں کی گواہی ہے جو خوں میں نہا کر بھی ایمان سے پیچھے نہیں ہٹے، اور اُن خوابوں کا ذکر ہے جو ملبے تلے دفن ہونے کے باوجود زندہ رہتے ہیں۔ یہ ناول اُن آنکھوں کا آئینہ ہے جنہوں نے جبر کی سیاہی میں بھی آزادی کا سورج تلاش کیا

Auraq e Parishaan Episode 1 by Vardah Yildiz

کچھ کہانیاں ہوتی ہیں جو ختم تو ہو جاتی ہیں مگر ہماری زندگیوں میں اپنا گہرہ اثر چھوڑ جاتیں ہیں۔ انسان کا ماضی بھی اِنہیں کہانیوں جیسا ہوتا ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے اور ماضی خود کو امر کر لیتا ہے۔ پھر یہ ماضی آپ سے جڑے لوگوں پر اثرانداز کرتا ہے اور آپ کے قریبی رشتوں میں دراڑ پیدا کرتا ہے جیسے ایک ماضی صالح ابراہیم اور سُمل التاف کے خوبصورت رشتے کی تلخیوں کا سبب بنا تھا۔
1 41 42 43 210