Ongoing Novels

Batin e Razam Episode 4 by Kulsum Taufeeq

یہ کہانی ہے ان کہی باتوں کہ ایسی باتیں جو ہم سب نے کبھی نہ کبھی سنی ہوگی یا پھر کہی بھی ہوگی مگر اپنے دل میں!
 ہوتے ہے کچھ زخم جو ہمیں اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتے ہیں ویسے ہی کُچھ باتیں ہوتی ہیں جو ہم کہہ نہیں سکتے اسی لیئے وہ ہمیں اندر سے کمزور کر دیتی ہیں۔پھر وہ ہمارے اندر سے کسی بھی صورت باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔جیسے وہ غصّہ ہو،خوف ہو یا پھر نکلی مُسکراہٹ ہو۔
یہ کہانی ہمارے جیسے کرداروں کی ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں میں ایسا کچھ دیکھا اور محسوس کیا ہیں کہ اُن کے دل میں کسی کو کھو دینے کا ،کسی پر اعتبار کرنے یا پھر کھل کر جینے کا ڈر آگیا۔۔
لیکن ہر دِن ایک سا نہیں ہوتا اور ہر کِسی کو اپنے ڈر کو دور کرنے کا موقع ملتا ہے انہیں بھی ملےگا۔۔اب دیکھنا یہ ہیں کہ یہ کردار خود کو کتنا بدلتے ہے!۔

Usse Main Bhool Jaun Gar Episode 4 by Sidrah Nadeem

ہجرتیں دل بڑا کر کے کی جاتی ہیں لیکن کچھ ہجرتیں دل بھی مار دیتی ہیں۔۔
کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جسے اچھے مستقبل کی خواہش لاہور لے آئی۔۔
ایک ایسا شہر جس نے تین دل جوڑے پھر توڑے۔۔
وہ دل۔۔ عیشا کا۔۔شاہ زین کا۔۔ اذان کا۔۔
یہ کہانی ہے ٹوٹے دلوں کے جڑنے کی۔۔ اذیتیں بھلا کر آگے بڑھنے کی۔۔ نہ بڑھ سکیں تو کوشش کرنے کی۔۔ زندگی میں نئی جہتوں کے پیچھے چلنے کی۔۔
یہ کہانی ایک سفر ہے ان کرداروں کا اور ان کے سنگ میرا۔

Masloob Episode 3 by Iqra Butt

مصلوب” فلسطین کی مٹی پر لکھی گئی ایک کہانی ہے—ظلم، قربانی اور سچائی کی پکار کی۔ یہ اُن دلوں کی گواہی ہے جو خوں میں نہا کر بھی ایمان سے پیچھے نہیں ہٹے، اور اُن خوابوں کا ذکر ہے جو ملبے تلے دفن ہونے کے باوجود زندہ رہتے ہیں۔ یہ ناول اُن آنکھوں کا آئینہ ہے جنہوں نے جبر کی سیاہی میں بھی آزادی کا سورج تلاش کیا

Raazon Ke Aseer Episode 3 by Maira Khalid

دلوں کی گہرائیوں میں دفن ہوئے راز ،جو بغاوت کر چکے تھے۔
جو آ چکے تھے حال میں ایک چھوٹی سی چنگاری بن کر،ایک سایہ بن کر یا یہ بھی کہ سکتے ہیں ایک طوفان جو تھا بھیانک —سرد ۔
ہر راز میں تھی تباہی،بربادی اور دھوکہ۔
چہروں کے آگے تھے ہزاروں نقاب۔
**”رازوں کے اسیر”** ایسی ہی داستان ہے…
جہاں سناٹے بھرے راستے، نیم تاریک گلیاں اور بند کمروں کی گہری خاموشی، کسی گہرے راز کی گواہ ہے۔
یہ داستان ہے طاقت، خوف اور بربادی کی…
خاندان کی،انا کی اور عزت کی۔
ماضی ،حال اور مستقبل کی۔
جہاں ماضی کا ایک زہر آلود باب، حال کی بنیادوں کو لرزا دینے والا تھا۔
جہاں چہرے بدلنے تھے، اعتبار بکھر نا تھا اور راز کی قیمت کبھی سکون، کبھی محبت، تو کبھی زندگی بننےبوالی تھی۔
کیا چھپے ہوئے سائے کبھی بے نقاب ہو پائیں گے؟
کیا بربادی کی چنگاریاں بجھ پائیں گی؟
یا رازوں کےیہ اسیر کبھی آزادی کا سورج دیکھے گیں؟
بہت سے سوال لیے ہوے آچکی تھی ایک نئی داستان ۔
**”رازوں کے اسیر”**…
ایک ایسی داستان جہاں خوف، سسپنس اور بے چینی کی لہر آپ کا پیچھا کرے گی،
آخری صفحے تک…
1 185 186 187 204