Novelettes

Teenager Part 1

ٹین ایج یعنی 13 سے 19 سال کی عمر۔۔یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں جو کام یا جو عمل ہم کرتے ہیں وہ ساری زندگی ہمارے ساتھ رہتا ہے۔۔اگر ہم کچھ برا کر رہے ہیں اور اس کے عادی ہو چکے ہیں تو آگے زندگی میں بھی ہم  برے ہی رہیں گے۔۔لیکن اگر کچھ اچھا کرتے ہیں تو ہم آگے جا کر ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔۔ٹین ایج کی جو باتیں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔۔جیسے کہ اگر ہم نے کچھ اچھا کام کیا یا برا کیا تو ہمیں وہ یاد رہتا ہے۔۔۔اور اصل زندگی تو شاید ٹین ایج سے ہی شروع ہوتی ہے۔۔ کیونکہ اس میں ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں بہت کچھ پا لیتے ہیں اور کچھ کھو بھی دیتے ہیں۔۔۔اگر اس عمر میں آپ صبر اور برداشت کرنا سیکھ لیں تو آپ کی آگے کی زندگی پر سکون رہتی ہے۔۔۔جو عادتیں اس عمر میں پکی ہو جائیں وہ کبھی نہیں چھوٹتی۔۔اسی لیے کوشش کیجیے کہ اگر آپ بھی ٹین ایج میں ہیں تو اچھی عادتیں اپنائیں۔۔

Teenager Part 2

ٹین ایج یعنی 13 سے 19 سال کی عمر۔۔یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں جو کام یا جو عمل ہم کرتے ہیں وہ ساری زندگی ہمارے ساتھ رہتا ہے۔۔اگر ہم کچھ برا کر رہے ہیں اور اس کے عادی ہو چکے ہیں تو آگے زندگی میں بھی ہم  برے ہی رہیں گے۔۔لیکن اگر کچھ اچھا کرتے ہیں تو ہم آگے جا کر ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔۔ٹین ایج کی جو باتیں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔۔جیسے کہ اگر ہم نے کچھ اچھا کام کیا یا برا کیا تو ہمیں وہ یاد رہتا ہے۔۔۔اور اصل زندگی تو شاید ٹین ایج سے ہی شروع ہوتی ہے۔۔ کیونکہ اس میں ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں بہت کچھ پا لیتے ہیں اور کچھ کھو بھی دیتے ہیں۔۔۔اگر اس عمر میں آپ صبر اور برداشت کرنا سیکھ لیں تو آپ کی آگے کی زندگی پر سکون رہتی ہے۔۔۔جو عادتیں اس عمر میں پکی ہو جائیں وہ کبھی نہیں چھوٹتی۔۔اسی لیے کوشش کیجیے کہ اگر آپ بھی ٹین ایج میں ہیں تو اچھی عادتیں اپنائیں۔۔

Tere Ikhtyar Ka Mosam

اکثر اوقات انسانی نفسیات کے سرے کچھ منفی رویوں کے باعث یوں الجھ جاتے ہیں کہ پھر رشتوں کو نبھانے کا ہنر تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے ایسے میں کسی پر خلوص انسان کا ساتھ ہی ان الجھی ڈوریوں کو سلجھا سکتا ہے

Train Ka Safar Aur Mein by Eiman Rizvi

جو خود کو تلاش کرنے کا سفر کرتے ہیں نہ وہ اتنے منصوبے نہیں بناتے
یہ لڑکی مجھے عام نہیں لگ رہی کچھ تو عجیب منفرد بات ہے اس میں اس کی آںکھوں میں ایک ان دیکھی قوت کئی راز چھپے ہیں ایسی شخصیتوں سے اب کم ہی سامنہ ہوتا ہے انہوں نے دہیمی آواز میں ساتھ بیٹھے لڑکے کے ساتھ اپنا نظریہ پیش کیا جو چہرا دوسری جانب کیئے بیٹھا تھا
زندگی ٹرین کےایک ڈبے کے مانند ہے جس میں ہم اپنی یادیں بناتے ہیں

پر ٹرین کی سیٹی کی آواز وقتاً بہ وقتاً یہ یاد دلا تی رہتی ہے کہ ہم یہاں کچھ وقت کے مہمان ہیں

ہر کہانی کا اختمام حاصل ہوجانا نہیں ہوتا ۔ حاصل ہوکر کہانی ختم ہوجاتی ہے پوری ہوکر زمانے میں کھو جاتی ہے لیکن کچھ لوگ لاحاصل ہوکر بھی اگلے شخص کا کردار بدل دیتے ہیں اس کی روح ان سے جڑ جاتی ہے

Tum Abhi Se Darte Ho by Ommay Romman Ahmad

ایک کم ظرف سلطنت میں پلا بڑھا با ظرف اسماعیل جس کے ارادے چٹان کی مانند مضبوط تھے تو حوصلے آسمان جتنے وسیع۔ وہ جو سلطنت کے مرکزی شہر کو شہر خاموشاں کہتا تھا تو وجہ کیا تھی؟ وہ سترہ سال کی عمر میں بھی سلطنت کا غرور توڑتا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ لگ سکی۔ وہ اسماعیل جس کے لیے ہر ماں خواں ہو کہ اس سا بیٹا مل جائے،ہر بہن چاہے کہ بھائی ہو تو اس جیسا۔ وہ اسماعیل کون ہے؟ یہی کہانی ہے،یہی افسانہ۔

Tum Ko Dekha To Ye Khayal Aya

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا” محض چند کرداروں پر مشتمل ہے جس کی کہانی ان ہی چند کرداروں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ “نورالعین” اس کہانی کا مرکزی کردار ہے جو اپنی زندگی میں کئی موڑ سے گزرتی ہے۔ کچھ موڑ اسے خوبصورت راستوں اور گلیوں کی سیر کرواتے ہیں تو کچھ موڑ اس کی زندگی کو یکایک تاریکی کی نذر کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی معصومیت اور کم عمری کی وجہ سے کئی دفعہ صحیح سمت کا تعین نہیں کر پاتی ہے اور بعض غلط فیصلے تو عمر بھر کا پچھتاوا مقدر کر دیتے ہیں۔ کیا نور کبھی اس پچھتاوے سے، ان خاردار رستوں سے نکل کر حسین منزل کی سمت بڑھ پائے گی؟
1 28 29 30 32