Novelettes

Mehandi Ka Rang Pheeka by Abeera Kanwal

یہ کہانی مشال کی مہندی کی رسم سے شروع ہوتی ہے جب خاندان کی عورتیں اُس کے ہاتھوں پر مہندی کا پھیکا رنگ دیکھ کر باتیں کرتیں ہیں کہ مشال کی عمر اپنے ہونے والا شوہر سے زیادہ ہے اسی وجہ سے اُسکا دُلہا رشتے سے خوش نہیں ہے اور اس کا ثبوت مہندی کا پھیکا رنگ ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مہندی سے الرجی کی وجہ سے ہی مشال نے مہندی رنگ آنے سے پہلے ہاتھوں سے ہٹا دی تھی مگر عورتوں کی باتیں مشال کے ذہن میں بیٹھ جاتیں ہیں اور وہ رخصتی کے بعد تک خوفزدہ رہتی ہے۔پھر اصفہان کہانی کا ہیرو اپنے اچھے رویے اور محبت بھرے انداز سے مشال کے سب خدشے دُور کرتا ہے اور اُس کے لیے ایک اچھا شوہر ثابت ہوتا ہے۔اُن کی ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھی گزرتی ہے درمیان میں کچھ سسرالی مسائل اور رشتے داروں کے طنز بھی ہوتے ہیں مگر اچھی زندگی کے لیے اصفہان اور مشال ان سب چیزوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔

Eid e Vasal Novel by Sadia Shahzad

یہ کہانی ہے دل کے رشتوں کی جو دِل سے نکل کر روح میں اُتر جاتے ہیں۔
اُس خون کی جو رگوں میں دوڑتا ہے لیکن وقت کے ساتھ سفید ہو جاتا ہے۔
رشتوں میں آئی دراڑ کی جو وقت کے ساتھ گہری ہو جاتی ہے۔
کہانی ہے ہجر کی، کہانی ہے وصل کی۔
کہانی ہے اس عید کی، جب ہجر تمام ہوا اور عید کے چاند کے ہمراہ لمحہ وصل نے بھی جنم لیا۔

Khezish Novel by Nazish Munir

منیزہ اور رائد کی کہانی جنگ زدہ سرزمین سے امید کے چراغ جلانے تک کا سفر ہے، جہاں ایک محققہ اپنے علم کے ذریعے ٹوٹے ہوئے معاشروں کو سمجھنے آتی ہے اور ایک خاموش مگر مضبوط نوجوان اس کے ساتھ روشنی بانٹنے کا عزم لے کر کھڑا ہوتا ہے۔ تعز کی ویران گلیوں سے لے کر ایران کے پُرسکون مناظر تک، یہ ناول محبت، قربانی، ذمہ داری اور وعدوں کی پاسداری کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے، جہاں سحری کی خاموش دعائیں، خوف کے سائے میں جلتے خواب، اور دو دلوں کا ایک دوسرے میں گھر بنا لینا زندگی کے سب سے بڑے معجزے بن جاتے ہیں۔ پھر نکاح اور ہنی مون کے بعد عید کی نرم خوشیاں، پیار بھرے لمحے، ایک دوسرے کا خیال، ہنسی مذاق اور مشترکہ خواب ان کی زندگی کو نئی روشنی دے دیتے ہیں۔ یہ کہانی صرف رومان نہیں بلکہ اندھیروں میں امید، ٹوٹے دلوں میں حوصلہ اور انسانیت کی اصل طاقت کا پیغام ہے۔

Difference Between Me and Him by Syeda Noor ul Ain

اس ناولٹ
Difference between me or him
کو میں نے ایک اہم مقصد کے تحت لکھا یے اور وہ یہی ہے کہ ہمارا معاشرہ
ایک دوسرے کو اور بالخصوص جو کسی طرح سے بھی عام لوگوں سے مختلف ہیں، یعنی کہ قد، جسامت اور رنگ ذات وغیرہ
سے تو انہیں تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے اور نہ ہی ان کی دل آزاری کی جائے۔
اس ہی کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں کچھ عجیب ہی قسم کے معاملات ہیں۔
اگر لڑکی کی شادی کسی بھی وجہ سے رک جائے، تو ماں باپ اور لڑکی کا سارا زمانہ دشمن بن جاتا ہے۔
اس سب میں لڑکی کو بہت مشکلات فیس کرنی پڑتیں ہیں،
تو ہمیشہ معاملے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے لڑکی اور اس کے گھر والوں پر آزمائش بننے کے بجائے، انہیں سمجھا جائے، ان
کا احساس کیا جائے کیونکہ یہی انسانیت ہے۔
آخر میں یہی کہتی چلوں گی کہ جہالت کو مزید نہ بڑھائے بلکہ وقت پر اسے ختم کر کے اپنی سوچ کو اچھی طرح سے بدلیں۔
اگر اس ناولٹ میں کوئی لفظ آپ کے دل سے ہو گزرا ہو، تو مجھے سپورٹ کیجیے اور اگر کہیں کسی قسم کی لکھنے میں غلطی
ہوگئی ہو گئی ہو، تو میں پہلے اپنے اللہ سے معافی چاہتی ہوں اور پھر آپ سب سے درخواست ہے کہ اس بندہ ناقص کی غلطی کو
نظر انداز کر دیجئے گا۔
مجھے اپنی خاص دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھئے۔

Ishq Ka Aakhri Daur by Tanzeela Noori

عشق کا آخری دور ایک گہری درد سے گزرتی اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی کہانی ہے جہاں محبت صرف پانے کی خواہش نہیں رہتی بلکہ خود کو اللہ کے فیصلوں کے سپرد کرنے کا نام بن جاتی ہے۔ یہ افسانہ اس مرحلے کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں دل چاہتا ہے مگر ایمان روک لیتا ہےجہاں قربت کی خواہش ہوتی ہے مگر حدودِ حلال کو چن لیا جاتا ہے یہاں عشق اپنی آخری شکل میں سامنے آتا ہے نہ شکوہ، نہ ضد، نہ مطالبہ بس صبر، دعا اور خاموش قربانی۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ ہر محبت کا انجام وصال نہیں ہوتا کچھ عشق اپنی تکمیل اللہ پر چھوڑ دینے میں پاتے ہیں

Matlooba Anasir by Waris Ali Abbasi

“مطلوبہ عناصر” ایک تاریک اور سنسنی خیز اردو کرائم تھرلر ہے جو طاقت، خوف اور نظام کے اندر چھپے ہوئے شیطان کو بے نقاب کرتا ہے۔
کہانی ایک پولیس تفتیشی کمرے سے شروع ہوتی ہے، جہاں ایک لنگڑا ملزم کامل رضا اپنی زندگی کی داستان سناتا ہے ایک ایسی داستان جس میں پانچ عام لوگ ایک انجانے ہاتھ کے ذریعے جرائم کی دنیا میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ گاڑی چوری سے لے کر اغوا، قتل اور سیاسی دہشت گردی تک، ہر قدم پر انہیں ایک نظر نہ آنے والا ماسٹر مائنڈ کنٹرول کرتا ہے جسے سب سرمد شاہ کے نام سے جانتے ہیں

Gawah Novel by Anoosha Muhammad Rafique Arzoo

یہ ناولٹ ایک ایسے گواہ کے نام ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انسان کی محدود سوچ سے پرے، بہت آگے کہیں کی یہ بات ہے۔ ایک گواہ کی گواہی کا راز ہے۔ یہ ناولٹ ”ایس-پی میرین البلوشی“ کی ایمانداری اور وطنِ عزیز سے محبت کا اظہار ہے۔
یہ ناولٹ، یہ کہانی آپ کو خود اپنا تعارف کرئے گی۔ یہ کہانی خود بتائے گی کہ یہ کہانی کیوں لکھی گئی ہے۔
اور اسی کہانی کے ذریعے آپ ملیں گے انوشہ آرزو کے آنے والے نئے ناول کے کرداروں سے۔ ایک پٹھان ”نگین یوسفزئی“ اور ایک بلوچ ”میرین البلوشی“ کی انوکھی داستان آپ کی منتظر ہے۔
گواہ سے ایک جھلک:
”شکر ہے کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے۔ جب ثبوت اور گواہ ہی نہیں ہوں گے تو سزا کیسے ملے گی۔“ وہ استہزائیہ ہنسا، اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں اس کی سزا کا تعین بھی کر چکا ہے۔ زمین کے دو فٹ نیچے اپنے گناہ کے تمام ثبوت سمیت وہ اس گناہ کو بھی دفنا رہا تھا جو اس کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ آزادی تھی۔ زندگی سے آزادی۔ ایسی زندگی سے آزادی جو اسی شخص کے باعث اس وجود کے لیے موت سے بدتر ہونے والی تھی۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ سب کر کے بھی وہ کوئی سزا نہیں پائے گا کیونکہ اس کے گناہ کا اس کے نزدیک کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب انسان کو لگتا ہےکہ اسے گناہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا کوئی گواہ نہیں کوئی ثبوت پیچھے باقی نہیں تب اسی لمحے قدرت اس کی حماقت پر مسکراتی ہے کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی گناہ نہیں جس کا کوئی گواہ نہ ہو۔ قدرت وسیلے بناتی ہے، اسباب پیدا کرتی ہے اور انسان گھوم پھر کر اپنے گناہ کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے وہ بے خبر چلا ہوتا ہے اس بات سے کہ ان اللہ بصیر بالعباد (سورۃ فاطر: ۴۴)
1 2 3 32