یہ کہانی ہے فلسطینی بیٹی کی جو قربانی دینے کے لئے سرگرداں ہے، ایک بہن کی جس نے اپنا بھائی اپنی آنکھوں کے سامنے کھویا ۔۔۔۔۔۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے لڑکے کی جو اللّه کی طرف سے چن لیا گیا ان لوگوں کی آہو پکار خود محسوس کرنے والا ۔۔۔۔۔
“مطلوبہ عناصر” ایک تاریک اور سنسنی خیز اردو کرائم تھرلر ہے جو طاقت، خوف اور نظام کے اندر چھپے ہوئے شیطان کو بے نقاب کرتا ہے۔
کہانی ایک پولیس تفتیشی کمرے سے شروع ہوتی ہے، جہاں ایک لنگڑا ملزم کامل رضا اپنی زندگی کی داستان سناتا ہے ایک ایسی داستان جس میں پانچ عام لوگ ایک انجانے ہاتھ کے ذریعے جرائم کی دنیا میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ گاڑی چوری سے لے کر اغوا، قتل اور سیاسی دہشت گردی تک، ہر قدم پر انہیں ایک نظر نہ آنے والا ماسٹر مائنڈ کنٹرول کرتا ہے جسے سب سرمد شاہ کے نام سے جانتے ہیں
آنکھوں سے لاڈؒے خواب چھین کر ذمہ داریوں کا پلندہ سر پہ لاد دیا جائے تو دل کے ساتھ ساتھ روح بھی گھائل ہو جاتی ہے اور زخمی روحوں سے زیادہ بے بس کوئی نہیں ہوتا۔
یہ کہانی مشال کی مہندی کی رسم سے شروع ہوتی ہے جب خاندان کی عورتیں اُس کے ہاتھوں پر مہندی کا پھیکا رنگ دیکھ کر باتیں کرتیں ہیں کہ مشال کی عمر اپنے ہونے والا شوہر سے زیادہ ہے اسی وجہ سے اُسکا دُلہا رشتے سے خوش نہیں ہے اور اس کا ثبوت مہندی کا پھیکا رنگ ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مہندی سے الرجی کی وجہ سے ہی مشال نے مہندی رنگ آنے سے پہلے ہاتھوں سے ہٹا دی تھی مگر عورتوں کی باتیں مشال کے ذہن میں بیٹھ جاتیں ہیں اور وہ رخصتی کے بعد تک خوفزدہ رہتی ہے۔پھر اصفہان کہانی کا ہیرو اپنے اچھے رویے اور محبت بھرے انداز سے مشال کے سب خدشے دُور کرتا ہے اور اُس کے لیے ایک اچھا شوہر ثابت ہوتا ہے۔اُن کی ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھی گزرتی ہے درمیان میں کچھ سسرالی مسائل اور رشتے داروں کے طنز بھی ہوتے ہیں مگر اچھی زندگی کے لیے اصفہان اور مشال ان سب چیزوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔
یہ ایک سادہ سی مختصر مگر خاص کہانی ہے ۔ اس کہانی نے زندگیاں ، وقت، تعلقات ، جذبات ہر شے کو وقت کے ساتھ محدود ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کہانی کی آنکھیں زخمی اور روح گھائل ہے ۔ اس کہانی کو پڑھنے والے ، اس کہانی سے گزرنے والے ، اس کہانی کے کردار صرف ایک چیز کی جستجو کرتے ہیں ۔
” میں” اور ” تم ” سے واپس ” ہم ” ہونے کی جستجو!
زندگی کی قید میں مقید یہ مٹی کے مجسمے وقت کی ، معاشرے کی ، سازشوں کی ، ٹراماز کی قید میں کھل کر سانس لینے کو زندگی تصور کرتے ہیں ۔ مگر زندگی اسی لمحے سے مٹی کے مجسمے میں بیدار ہوجاتی ہے ۔ جب ” میں” اور ” تم” سانس لینے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔