Novels

Auraq e Gul Bikhar Gaye Chapter 3

اس زخمی چڑیا کی کہانی، جسے زندگی کے سب موسم خوف دلاتے ہیں۔ کچھ اپنے رشتے، اسے بےحد ستاتے ہیں۔ دل کے نہاں خانے بدگمانی راج کرتی ہے۔ اسے تلاش ہے، سکون کی۔ ایسا سکوں جو اسے نگل جائے۔ ذہن مفلوج ہے مگر یہ ایک روح ہے، جو روشنی استعارہ چاہتی ہے۔ وہ سراپا حزن ایسے دیس کو رستہ بناتی ہے جہاں خون رنگ شامیں، افق سے لاڈ کرتیں ماتم کناں منظر تشکیل دیتی ہیں۔ سفر دشوار ہے لیکن اک پریتم ہے جس کی آغوش وہ ٹھہر کر میٹھی نیند سوتی ہے۔ محبت زاد چند پریاں ان کے سنگ کھلکھلاتی ہیں۔ یہ سب خواب کا محض حصہ ہے اور بس۔۔

Jigar Para by Dahim Nazeer

انسان کی روح اس دنیا میں تنہا ہی آئی تھی
ایک اجنبی مسافر، ایک خاموش مسکراہٹ کے ساتھ۔
زندگی کے راستے پر بے شمار چہرے ملے
کچھ ایسے جو وقت کے ساتھ مٹ گئے
اور کچھ ایسے جو دل میں گہرے نقوش چھوڑ گئے
جو کبھی مٹ نہ پائے
مگر کیا وقت نے کبھی کسی پر رحم کیا؟
یہ دریا ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں بہا
جو کل ساتھ تھے
آج کہیں کھو گئے
ہم لاکھ روکیں، لاکھ پکاریں
مگر تقدیر کے فیصلے کبھی نہیں بدلتے
جو کبھی دل کا سکون تھے
وہ لمحوں کے طوفان میں بہہ گئے
آخرکار، سب کچھ مٹ جاتا ہے
مگر وہ لمحے، وہ یادیں
جو دل کی گہرائیوں میں چھپ جاتی ہیں
وہ ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ رہتی ہیں

Death Certificate by Eraj Swalaheen

یہ کہانی ہے ایک ایسی موٹیویشنل اسپیکر کی جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے ڈاکٹر کی جو اپنی لیب میں کائنات کے قانون میں دخل اندازی کر رہا ہے مگر کوئی ہے جسے یہ سب پسند نہیں آیا اور اس نے کیا پھر کچھ ایسا جو آپ کو چونکا دے گا۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ ایک سائنس فکشن اور موٹویشنل ناول ہے۔

Alfaaz by Namra Mehran

کہانی اُن دلوں کی جنہیں لفظوں نے توڑا
اور ان نرم دلوں کی جنہوں نے زخمی دلوں پر مرہم رکھا ۔
کہانی ٹوٹے دلوں کی
اور جوڑنے والے دلوں کی
کہانی ایک اداس اور زخمی دل لڑکے کی
اور اس پر مرہم رکھنے والی لڑکی کے لفظوں کی!

Sirat e Mustaqeem by Taisha Shabbir

“یہ کہانی ایک ایسے لڑکے کی جو اپنے مذہب سے دور تھا۔ وہ شاید اس خوبصورت مزہب کی خوبصورتی کو جاننا نہیں چاہتا تھا۔
کہانی ہے ارزم درانی کی جس نے ایک لڑکی سے بے پناہ محبت کی۔
کہانی ہے حیا فاطمہ کی جو ایک لڑکے کی بے پناہ محبت بن گئی۔

Bakht e Muflis by Kainat Jameel Abbasi

کوئی زخموں پر مرہم رکھتا تھا…
کوئی تحریروں سے امیدیں جگاتا تھا…
کوئی سچ کی آنکھ بنا ہوا تھا…
وہ ایک امید تھے، ایک آواز تھے…
ایک روشنی، ایک انقلاب تھے وہ…
مگر امیدیں ٹوٹ گئیں، آوازیں دفن ہو گئیں…
روشنی پر اندھیرے نے راج کر لیا…
اور انقلاب… کبھی آ نہ سکا…
وجہ؟
وہ لوگ… جن کے دلوں میں دل نہیں، پتھر تھے…
جن کے ضمیر مر چکے تھے…
جو لاپرواہ، بےحس، اور خاموش تماشائی بنے رہے…
سب مٹی ہو گئے…
اور جو باقی رہ گئے۔۔
ان کو بچانے بھی کوئی آگے نہیں بڑھا۔
وہ… تنہا رہ گئی…
نم آنکھیں، لرزتے لب،
بہتے آنسو، اور کچھ دعائیں۔۔
چاروں طرف آگ کا طواف…
جس کی تپش اس تک پہنچ رہی تھی۔
اور اس کی آہیں، اس کی پکار…
بس ایک رب سن رہا تھا…
کیا اس کا سننا کافی نہیں؟
کہیں میں اور آپ بھی تکلیف کی شدت میں زبان سے ادا ہونے والی ان بددعائوں میں شامل تو نہیں؟
کیا ہم خاموش تماشائیوں پر عذاب نہیں آئے گا؟
1 2 144
Open chat
Hello 👋
How can we help you?