All

Qalb e Emaan Episode 2

کچھ چیزیں ہماری زندگی میں ہمارا نصیب بن کر آتی ہیں۔ مگر ہمیں احساس تاخیر سے ہوتا ہے۔ قلبِ ایمان۔ بھی کجھ اس طرح کی کہانی ہے۔ ایمان نامی ایک ایسی لڑکی کا جو دنیا کی بھیڑ میں الجھی منزل سے بھٹکی تھی۔ وہ ڈاکٹر تھی۔ ہر لڑکی کی طرح اسے بھی اسکی خوبصورتی نے ہی رسوا کا تھا مگر نا تو وہ کوئی معصوم لڑکی تھی نا ہی کم عقل، اپنے کزن سے حرام کا رشتہ اس نے اپنی کم عمری میں قائم کیا تھا گو وہ آگے چل کر نکاح میں بدلا تھا مگر عقل آنے پر اس نے توبہ نا کی۔زندگی نے ایمان کے امتحان بہت امتحان لئے پہلا جب وہ افواہ ہوئی اور جب اس پر ایسڈ اٹیک ہوا۔ ایمان کے ساتھ ساتھ یہ آمنہ نامی لڑکی اور بابر نامی ترک لڑکے کی بھی کہانی ہے۔

Nisaar e Yaar

نثارِ یار کہانی ہے ایک ایسے لڑکے کی جو زندگی کی تلخیوں سے بچنے کیلئے افسانوی زندگی میں جیتا ہے….اور ایک ایسی لڑکی کی جو اپنے خوابوں سے بچنے کیلئے حقیقتوں کو تھام کر چلتی ہے.. کہانی ہے ایک ایسے یار کی قربانی کی جس نے اپنی محبت کو اُس کی محبت کیلئے باخوشی قربان کر دیا….ایسی قربانی جس کی داستان جتنی خاموشی سے لکھی گئی ہے اُس کا چرچا اتنا ہی دنیا میں ہوا ہے۔۔
کیونکہ یہ ہے نثارِ یار کی ایک خاموش داستاں

Khayal e Yaar Season 1

یہ کہانی ہے اپنی شناخت کھو دینے والی اس لڑکی کی۔۔
یہ کہانی ہے اپنی شناخت کو چھپا کر رکھنا والے اس درندے کی۔۔
اپنوں کے راز جان کر ۔۔اپنی معصومیت کو کھو دینے والوں کی۔۔
محبت سے نفرت کرنے والوں کی۔۔۔
یہ کہانی ہے ایک قتل کے راز کی۔۔۔
اعتبار سے اعتبار اٹھانے والوں کی۔۔۔
یہ کہانی ہے عشق کے دو مکینوں کی۔۔۔۔
یہ کہانی ہے انتظار کی, بدلے کی,دوستی کی ۔۔۔
یہ کہانی ہے یار کےخیال میں رہنے والوں کی۔۔

Dastoor ul Amal

اگر کوئی کہانی اور اُس کے موضوع پر غور کرے گا تو حقیقتا ًمیرے بات کی تہہ تک رسائی حاصل کر لے گا۔ ہمارے معاشرے میں کئی جگاہوں پر آج بھی غیرت کے نام پر قتل،بلی چڑھ جانا،خودکشی جیسے مسائل عام ہیں اور اس میں بھی کثیر تعداد عورتوں کی ہوتی ہےفقط صرف ایک چیزوں کی کمی کی بدولت اور وہ ہے بھروسہ۔ اب شاید اکثر لوگ میری اوپر کی گئی بات سے اختلاف رکھیں گیں مگر آپ اگر توجہ دیں تو یہ سب کچھ آج بھی بہت عام ہے۔ اب لوگ بولیں گیں کہ ہر بار عورت ٹھیک نہیں ہوتی پر میں یہاں اقلیت کی نہیں بلکہ اکثریت کی بات کر رہی ہوں ایک بار کھلے دماغ سے غور و فکر ضرور کیجئے گا۔ برحال کہانی کے دو کردار ہیں عون اسحاق اور زینہ بتول۔میرے نزدیک سب سے مضبوط کردار عون اسحاق کا ہے کیونکہ اصل میں کہانی میں درست اقدام لینے والا،صحیح اور غلط کا تعین کرنے والا، اپنے فیصلوں میں اٹل اور سب سے بڑھ کر متضاد صنف پر اعتماد کرکے ایک بار پھر زینہ کو بےاعتباری سے اعتبار کے سفر تک پہنچانے والا وہی تھا۔وہ تھا جس نے معاشرے کا دستور العلوم توڑا جہاں عورت کی وضاحت اور دلیلیں محض منہ زبانی سن کر رد کردی جاتی ہیں اور اکثر جگاہوں پر تو صفائی کا موقع دیے بغیر اُس کی ذات سے منسلک فیصلے خود لے لیے جاتے ہیں
1 98 99 100 503