All

Matlooba Anasir by Waris Ali Abbasi

“مطلوبہ عناصر” ایک تاریک اور سنسنی خیز اردو کرائم تھرلر ہے جو طاقت، خوف اور نظام کے اندر چھپے ہوئے شیطان کو بے نقاب کرتا ہے۔
کہانی ایک پولیس تفتیشی کمرے سے شروع ہوتی ہے، جہاں ایک لنگڑا ملزم کامل رضا اپنی زندگی کی داستان سناتا ہے ایک ایسی داستان جس میں پانچ عام لوگ ایک انجانے ہاتھ کے ذریعے جرائم کی دنیا میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ گاڑی چوری سے لے کر اغوا، قتل اور سیاسی دہشت گردی تک، ہر قدم پر انہیں ایک نظر نہ آنے والا ماسٹر مائنڈ کنٹرول کرتا ہے جسے سب سرمد شاہ کے نام سے جانتے ہیں

Rab Rakha Novel by Sania Hussain

رب راکھا تقسیم ہند کے وقت کی ایک مختصر سی داستان ہے ۔ دلریت اور شہریار کی محبت اور ان کی قربانیوں کی اور ایسی دوستی کی جو انسانیت کے ساتھ مر گئی۔ جس نے یہ بات سکھا دی کی بٹوارے کے وقت صرف زمین کا بٹوارہ ہی نہیں بلکہ دلوں کا بھی بٹوارہ ہوگیا تھا۔ وہ اپنے، جن کے ساتھ عمر گزری تھی وہی ہجرت کے وقت انسانیت کے احساس سے عاری ہوکر درندے بن گئے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی کہ وہاں دِلریت جیسے کتنے ہی لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دی بس اس لیے کہ شہریار جیسے لوگ آزادی کا خواب پورا کر سکیں۔ یہ کہانی ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے لہو سے آزادی کی قیمت ادا کی تھی۔

Gawah Novel by Anoosha Muhammad Rafique Arzoo

یہ ناولٹ ایک ایسے گواہ کے نام ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انسان کی محدود سوچ سے پرے، بہت آگے کہیں کی یہ بات ہے۔ ایک گواہ کی گواہی کا راز ہے۔ یہ ناولٹ ”ایس-پی میرین البلوشی“ کی ایمانداری اور وطنِ عزیز سے محبت کا اظہار ہے۔
یہ ناولٹ، یہ کہانی آپ کو خود اپنا تعارف کرئے گی۔ یہ کہانی خود بتائے گی کہ یہ کہانی کیوں لکھی گئی ہے۔
اور اسی کہانی کے ذریعے آپ ملیں گے انوشہ آرزو کے آنے والے نئے ناول کے کرداروں سے۔ ایک پٹھان ”نگین یوسفزئی“ اور ایک بلوچ ”میرین البلوشی“ کی انوکھی داستان آپ کی منتظر ہے۔
گواہ سے ایک جھلک:
”شکر ہے کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے۔ جب ثبوت اور گواہ ہی نہیں ہوں گے تو سزا کیسے ملے گی۔“ وہ استہزائیہ ہنسا، اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں اس کی سزا کا تعین بھی کر چکا ہے۔ زمین کے دو فٹ نیچے اپنے گناہ کے تمام ثبوت سمیت وہ اس گناہ کو بھی دفنا رہا تھا جو اس کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ آزادی تھی۔ زندگی سے آزادی۔ ایسی زندگی سے آزادی جو اسی شخص کے باعث اس وجود کے لیے موت سے بدتر ہونے والی تھی۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ سب کر کے بھی وہ کوئی سزا نہیں پائے گا کیونکہ اس کے گناہ کا اس کے نزدیک کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب انسان کو لگتا ہےکہ اسے گناہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا کوئی گواہ نہیں کوئی ثبوت پیچھے باقی نہیں تب اسی لمحے قدرت اس کی حماقت پر مسکراتی ہے کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی گناہ نہیں جس کا کوئی گواہ نہ ہو۔ قدرت وسیلے بناتی ہے، اسباب پیدا کرتی ہے اور انسان گھوم پھر کر اپنے گناہ کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے وہ بے خبر چلا ہوتا ہے اس بات سے کہ ان اللہ بصیر بالعباد (سورۃ فاطر: ۴۴)

Jazbiyat Novel by Nayab Hassan

بیڈمنٹن کا وہ کورٹ جس میں زایان کبھی نہیں ہارا تھا۔ دسمبر کی آخری ٹھوکر کے بعد وہ یقینا کبھی کورٹ میں واپس قدم نہ دھرے گا۔ اور پشاور کا وہ آخری چکر جو دیا نے لگایا تھا اس کے بعد وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی۔ ہم ہمیشہ اس غم میں رہیں گے کہ دیا نے کبھی زایان کو کورٹ میں جیتتے نہیں دیکھا۔ اور اس طرح ایک بار پھر دسمبر کے بچھڑے دوبارہ کبھی نہیں ملیں گے۔
کہتے ہیں چند خواہشیں کبھی پوری نہیں ہوتی۔ جاذبیت انھیں خواہشوں کے نام اک دلاسہ ہے۔

Aaramish e Rooh Episode 16 By Wajeeha Asif

یہ کہانی ایک جوان بیوہ ذرجان کی  ہے۔ جو اپنی زندگی اپنے بیٹے کی وجہ سے جی رہی تھی۔ اسکی زندگی پر سکون تھی جبتک اُسکا بچپن کا دوست اسکی زندگی میں واپس نہیں لوٹ آتا۔ جو آتے ساتھ ہی اپنی پسندیدگی کا اظہار کر دیتا ہے۔ اس مرکزی کہانی کے ساتھ اور بھی کہانیاں چلتی ہیں۔
1 52 53 54 503