یہ ایک فرضی کہانی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اسے فرضی کہانی کی طرح ہی پڑھا جائے۔۔اس میں بہت سے سینز ایسے ہوں گے جو کہ آپ کو تب تک فضول لگیں گے جب تک کہ آپ ان کو سمجھ نہ لیں۔۔اس ناول میں موجود ہر ٹاپک کو لکھنے کے پیچھے کوئی مقصد ہے اور جو وہ سمجھ جائے وہی عقل مند ہے۔۔علاوہ ازیں جب تک کہانی مکمل نہ ہو جائے اس کے بارے میں کوئی رائے اختیار نہ کریں کیونکہ آخر میں آپ کو پچھتاوا ہو سکتا ہے۔۔یہ کہانی راستوں کو پہچاننے کی ہے۔۔ان راستوں کو پہچاننے کی کہانی جہاں ہمیں جانا تھا مگر ہم بھٹک گئے تھے۔۔
عباد الرحمٰن محض کہانی نہیں بلکہ ایک طویل سفر ہے انتظار سے اقرار تک کا سفر مایوسیوں سے یقین تک کا سفر کمزوریوں سے پختگی تک کا سفر خوف سے مقصدِ زندگی تک کا سفر عباد سے عباد الرحمٰن تک کا سفر
یہ میری زندگی کی پہلی کتاب ہے۔یہ ناول میرے خیالات اور کچھ خواب ہیں جنہیں میں نے الفاظوں میں ڈھلا ہے۔یہ کہانی ہے۔کہیں پہروں سے گزر نے والی خولہ جلال اور خضر جہان صالک کی۔یہ کہانی ہے بہادروں کی۔کہانی ہے شیطان سے آدم کی جنگ کی۔یہ کہانی ہے دو دنیاؤں کی یا شاید ایک ہی دنیاں میں رہنے والے مختلف لوگوں کی۔یہ کہانی ہے ماضی کی غار سے خود کو نکالنے والے بہت سے جنگجوؤں کی۔
ماضی کی تلخ یادیں انسان کی شخصیت کو بری طرح متاثر کرتی ہیں، کوئ ساری زندگی کے لیے خود ذہنی اذیت کا شکار رہتا ہے تو کوئی دوسروں کو اپنے انتقام کی آگ میں جلاتا ہے۔ یہ کہانی ہے بہادری کی،اپنے حق کے لیے لڑنے والوں کی اور ظلم کی،ایسا ظلم جس کے اختتام پر کچھ نا بچ سکے گا،سب راکھ ہو جائے گا۔