کہانی ہے کچھ سرمائی کرداروں کی
جو لڑ رہے ہیں اپنے آپ سے ہی ایک جنگ
قفس میں قید ایک وجود
جس کی تقدیر ہے وہ قید
ایسی قید جیسے اُسے پل پل جینا ہے
صبر کی سلیب پر سہنا ہے۔۔
اور جیتے جی مرنا ہے۔
میرا ناول برِّصغیر کے وقت پر ہے۔ یہ اُس دور پر ہے جب ہندو مسلمان اکٹھے رہتے تھے۔ یہ ناول میں نے میرے ذہن میں آنے والے مختلف خیال کو اکٹھا کر کے لکھا ہے، اس کا یا اس کے کرداروں کا حقیقت سے دُور دُور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔