All

Belofte Chapter 1 PART 3

 کہانی ہے دو لوگوں کی جو میلوں دور ایک دوسرے ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں۔ کہانی ہے پاکستان میں موجود اقلیتوں کے حقوق کی… کہانی ہے انصاف کی… انتقام کی… اور دو ان دیکھے دشمنوں کی…

Bismil Episode 7

کچھ کہانیاں ازل سے ہی زخموں سے چور ہوتی ہیں،
ان میں نا تو کوئ مرہم رکھنے والا ہوتا ہے،
اور نا ہی کوئ آپ کے لئے جنگ جیتنے والا،
ایسی کہانیوں میں آپ کو خود لڑنا ہوتا ہے،
چاہے آپ اس میں جیتیں یا نا جیتیں،
چاہے آپ کی روح چھلنی ہو یا دل کرچی کرچی،
چاہے آپ سب کچھ پاکے بھی سب کچھ کھودیں،
چاہے آپ اپنی کہانی کے ابلیس ہی کیوں نا بن جائیں،
کچھ کہانیوں کو صرف جیتنے کے لئے کھیلا جاتا ہے،
بنا ہتھیار، بنا کوچ کے،
ایسی کہانیوں میں ہتھیار اور مہراہ، دونوں انسان ہوا کرتے ہیں،
یہی ان کہانیوں کا راز ہے،
یہاں جیت جتنی گہری ہو، اتنا ہی زخم بھی گہرا ہوتا ہے،
اور یوں آپ کہانی تو جیت جاتے ہیں،
لیکن اختتام پہ آپ فاتح سے بسمل ہوجاتے ہیں!

R.I.P Episode 12

یہ ایک کرائم فیکشن اسٹوری ہے، جسمیں ہمارے معاشرے میں دو خاموش اور گمنام پہلوؤں کا ذکر ہے، ٹاکسک پیرنٹنگ اور سائیکوپیتھی. کہانی ہے کرداروں کے بھولے ماضی اور ناگہانی مستقبل کی. کہانی کے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ کردار کیسے روپ بدلیں گے یہ جاننے کے لیے آپکو کہانی بھی اُن کرداروں کے ساتھ ساتھ پڑھنا ہوگی

Raaz e Ulfat

یہ کہانی ھے زونایشہ سلطان اور ہاشم محمود خان کی، جن کے درمیان حدید ہمایوں خان نہ ہوتے ہوئے بھی موجود ھے،اور یہ دونوں اپنی منزل سے کوسوں دوری پر ھیں۔
ایک غلط فہمی دونوں کے کے درمیان ایک لمبے عرصے تک موجود رہتی ھے اور وہ غلط فہمی کیا ھے جاننے کے لئے آپ کو ناول پڑھنا پڑے گا۔ اس میں موجود اور بھی بہت سے کردار ھیں جو آپ کو پسند آئیں گے، رائیٹر آپ کی حوصلہ افزائی منتظر۔

Sang e Dar e Ishq

کہانی اس الہام کی جو تقدیر کے صفحوں کو روشن کرتا ہے۔کہانی اس سفر کی جو جو رلائے تو آنکھوں کو مسکراہٹ سونپے۔ جو ہنسائے تو ہونٹوں کو سسکیاں بخشے۔ جو تھکائے تو روح کو سکوں دے۔جو خوش کرے تو دل کو کرب سے آزمائے۔ کہانی ان کرداروں کی جو خود میں کھو کر محبت سے ملے۔ الہام سے ملے۔ وحدانیت سے ملے۔ حق سے ملے۔ مسکراتی ہوئی محبت کی داستان۔

Bogi Number Baara (12)

ریل گاڑی کے سفر میں ،ایک دھرتی سے دوسری دھرتی ۔
کچھ خواب آنکھوں کے ،کچھ خیال نئے خطے کے ،ان سب کے درمیان کئی لوگ چلے ۔
وہ لوگ جنہوں نے جانیں لٹائیں ،وہ کہ جنہوں نے عصمتیں برباد کروائیں ۔
ان کی آنکھیں الوہی خواب بنتی تھیں ،انکے ارادے کئی عزم بناتے تھے ۔
وہ لوگ اب نہیں ،وہ خواب برباد ہوئے ،وہ قربانیاں رائیگاں گئیں ۔
کیا خواب ،عزم ،حوصلے ،ہمتیں ،جدوجہد ،قربانیاں کیا یہ سب یونہی غائب ہوجاتا ہے ۔؟
خواب ختم نہیں ہوتے ،آنکھیں بدل جاتی ہیں ،عزم سے دستبرداری نہیں دیتے
انہیں کسی اور کو سونپ دیتے ہیں ،حوصلے ٹوٹتے نہیں کسی اور کے کندھے پہ رکھے جاتے ہیں ۔
مجھ سے سوال کرتے ہو وہ آنکھ کونسی ہے ۔؟وہ کندھے کس کے ہیں ۔؟وہ حوصلے کون جٹائے گا ۔
عزیز من ۔ تم . . . ہاں تم ہو نئے خواب ،مضبوط کندھے ،جواں عزم ،نئے حوصلے ۔ ہاں تم
بس تم ہو بوگی نمبر بارہ کے نئے مسافر
1 444 445 446 503