یہ کہانی ہے محبتوں کی مُختلِف کیفیات میں مقید کرداروں کی کئی ایسی صورتوں پے مبنی ہے جس میں آپ غلط سہی کا فیصلہ کرنے سے کاصر ہوتے ہیں اور کچھ جذباتوں کی جو آپ کو بے اختیار کر دیتے ہیں اور پھر سب سے بڑھ کے قسمت کی جو آپ کو کئی ایسے ادوار سے گزارتی ہے جِس کا آپ کو گُماں بھی نہیں ہوتا
یہ ہر اس شخص کی داستان ہے جو باطل سے اپنی اپنی جنگ لڑتا رہا۔ کہانی میں موجودہ وقت کی کڑیاں ماضی میں ہوئے ایک حادثے سے جا ملتی ہیں جس حادثے سے ناول کے سبھی کردار کسی نہ کسی طرح منسلک ہیں۔ جیسے جیسے ماضی اور حال کے واقعات کا تعلق سمجھ میں آتا یے، دلچسپی بڑھتی جاتی ہے۔
اس کہانی میں بحرینی شاعر السید ہاشم المحفوظ کی کچھ عربی نظمیں ان کی اجازت سے اردو میں ترجمہ کر کے شامل کی گئی ہیں۔
اگر کوئی کہانی اور اُس کے موضوع پر غور کرے گا تو حقیقتا ًمیرے بات کی تہہ تک رسائی حاصل کر لے گا۔ ہمارے معاشرے میں کئی جگاہوں پر آج بھی غیرت کے نام پر قتل،بلی چڑھ جانا،خودکشی جیسے مسائل عام ہیں اور اس میں بھی کثیر تعداد عورتوں کی ہوتی ہےفقط صرف ایک چیزوں کی کمی کی بدولت اور وہ ہے بھروسہ۔ اب شاید اکثر لوگ میری اوپر کی گئی بات سے اختلاف رکھیں گیں مگر آپ اگر توجہ دیں تو یہ سب کچھ آج بھی بہت عام ہے۔ اب لوگ بولیں گیں کہ ہر بار عورت ٹھیک نہیں ہوتی پر میں یہاں اقلیت کی نہیں بلکہ اکثریت کی بات کر رہی ہوں ایک بار کھلے دماغ سے غور و فکر ضرور کیجئے گا۔ برحال کہانی کے دو کردار ہیں عون اسحاق اور زینہ بتول۔میرے نزدیک سب سے مضبوط کردار عون اسحاق کا ہے کیونکہ اصل میں کہانی میں درست اقدام لینے والا،صحیح اور غلط کا تعین کرنے والا، اپنے فیصلوں میں اٹل اور سب سے بڑھ کر متضاد صنف پر اعتماد کرکے ایک بار پھر زینہ کو بےاعتباری سے اعتبار کے سفر تک پہنچانے والا وہی تھا۔وہ تھا جس نے معاشرے کا دستور العلوم توڑا جہاں عورت کی وضاحت اور دلیلیں محض منہ زبانی سن کر رد کردی جاتی ہیں اور اکثر جگاہوں پر تو صفائی کا موقع دیے بغیر اُس کی ذات سے منسلک فیصلے خود لے لیے جاتے ہیں
یہ کہانی ہے اپنی شناخت کھو دینے والی اس لڑکی کی۔۔
یہ کہانی ہے اپنی شناخت کو چھپا کر رکھنا والے اس درندے کی۔۔
اپنوں کے راز جان کر ۔۔اپنی معصومیت کو کھو دینے والوں کی۔۔
محبت سے نفرت کرنے والوں کی۔۔۔
یہ کہانی ہے ایک قتل کے راز کی۔۔۔
اعتبار سے اعتبار اٹھانے والوں کی۔۔۔
یہ کہانی ہے عشق کے دو مکینوں کی۔۔۔۔
یہ کہانی ہے انتظار کی, بدلے کی,دوستی کی ۔۔۔
یہ کہانی ہے یار کےخیال میں رہنے والوں کی۔۔
It is a story of some friends, disappointed with the government, who want to do something about the atrocities in Palestine, and then, in their own way, launch a boycott campaign against Israeli products.
حکومت سے مایوس کچھ دوستوں کی کہانی جو فلسطین میں جاری مظالم کے خلاف کچھ کرنا چاہتے ہیں اور پھر اپنے طریقے سے اسرائیلی پراڈکٹس کے خلاف بائیکاٹ مہم چلاتے ہیں
نثارِ یار کہانی ہے ایک ایسے لڑکے کی جو زندگی کی تلخیوں سے بچنے کیلئے افسانوی زندگی میں جیتا ہے….اور ایک ایسی لڑکی کی جو اپنے خوابوں سے بچنے کیلئے حقیقتوں کو تھام کر چلتی ہے.. کہانی ہے ایک ایسے یار کی قربانی کی جس نے اپنی محبت کو اُس کی محبت کیلئے باخوشی قربان کر دیا….ایسی قربانی جس کی داستان جتنی خاموشی سے لکھی گئی ہے اُس کا چرچا اتنا ہی دنیا میں ہوا ہے۔۔
کیونکہ یہ ہے نثارِ یار کی ایک خاموش داستاں