یہ داستان ہے ایسے لڑکے کی جو 10 سال بعد اپنی محبت کو ڈھونڈنے اسکردو سے اسلام آباد آتا ہے ۔ جسے وہ اپنے رب سے مانگتا ہے ۔ یہ داستان ہے شاہ زین عباس کی۔ جو اپنے بابا کا خواب پورا کرنے اسلام آباد آیا تھا ۔
یہ داستان ہے اس لڑکی کی جو اپنے رب سے اپنی محبت کو بھول جانے کی دعا مانگتی تھی ۔ یہ داستان ہے آیت کی ۔
یہ داستان ہے کشمالا نور کی جس کی زندگی میں صرف دکھ کے علاوا کچھ بھی نہیں ۔۔
یہ داستان ہے ایسے مغرور لڑکے کی جو اپنا دل پہلے ہی نظر میں کسی مغرور لڑکی پر ہار بیٹھا تھا ۔ یہ داستان ہے دانیال شاہ کی کہ وہ اپنی محبت کو پانے کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا
یہ داستان ہے اس مغرور لڑکی کی جو اپنی شادی سے بچنے کے لیے اپنی کلاس فیلو کے ساتھ نکلی منگنی کا دکھاوا کرتی ہے یہ داستان ہے گل زارا خان کی ۔
یہ داستان ہے ایسے ولن کی جو اپنی محبت کو پانے کے لیے اس کی محبت کو ختم کرنے چلا تھا لیکن قسمت نے اس سے اس کی محبت ہی چھین لی ۔۔
پریشے کی کہانی جس نے ماں باپ کی خوشی کیلئے ارسل سے شادی کر لی مگر دونوں میاں بیوی کے درمیان محبت ہونے کے باوجود کوئی اپنا پن نہیں ہے اور دونوں ایک دوسرے سے دور ہیں اور شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کی زندگی بہت مختلف ہے اب دونوں کو فیصلہ کرنا ہے
یہ کہانی ہے محبتوں کی مُختلِف کیفیات میں مقید کرداروں کی کئی ایسی صورتوں پے مبنی ہے جس میں آپ غلط سہی کا فیصلہ کرنے سے کاصر ہوتے ہیں اور کچھ جذباتوں کی جو آپ کو بے اختیار کر دیتے ہیں اور پھر سب سے بڑھ کے قسمت کی جو آپ کو کئی ایسے ادوار سے گزارتی ہے جِس کا آپ کو گُماں بھی نہیں ہوتا
یہ ہر اس شخص کی داستان ہے جو باطل سے اپنی اپنی جنگ لڑتا رہا۔ کہانی میں موجودہ وقت کی کڑیاں ماضی میں ہوئے ایک حادثے سے جا ملتی ہیں جس حادثے سے ناول کے سبھی کردار کسی نہ کسی طرح منسلک ہیں۔ جیسے جیسے ماضی اور حال کے واقعات کا تعلق سمجھ میں آتا یے، دلچسپی بڑھتی جاتی ہے۔
اس کہانی میں بحرینی شاعر السید ہاشم المحفوظ کی کچھ عربی نظمیں ان کی اجازت سے اردو میں ترجمہ کر کے شامل کی گئی ہیں۔
اگر کوئی کہانی اور اُس کے موضوع پر غور کرے گا تو حقیقتا ًمیرے بات کی تہہ تک رسائی حاصل کر لے گا۔ ہمارے معاشرے میں کئی جگاہوں پر آج بھی غیرت کے نام پر قتل،بلی چڑھ جانا،خودکشی جیسے مسائل عام ہیں اور اس میں بھی کثیر تعداد عورتوں کی ہوتی ہےفقط صرف ایک چیزوں کی کمی کی بدولت اور وہ ہے بھروسہ۔ اب شاید اکثر لوگ میری اوپر کی گئی بات سے اختلاف رکھیں گیں مگر آپ اگر توجہ دیں تو یہ سب کچھ آج بھی بہت عام ہے۔ اب لوگ بولیں گیں کہ ہر بار عورت ٹھیک نہیں ہوتی پر میں یہاں اقلیت کی نہیں بلکہ اکثریت کی بات کر رہی ہوں ایک بار کھلے دماغ سے غور و فکر ضرور کیجئے گا۔ برحال کہانی کے دو کردار ہیں عون اسحاق اور زینہ بتول۔میرے نزدیک سب سے مضبوط کردار عون اسحاق کا ہے کیونکہ اصل میں کہانی میں درست اقدام لینے والا،صحیح اور غلط کا تعین کرنے والا، اپنے فیصلوں میں اٹل اور سب سے بڑھ کر متضاد صنف پر اعتماد کرکے ایک بار پھر زینہ کو بےاعتباری سے اعتبار کے سفر تک پہنچانے والا وہی تھا۔وہ تھا جس نے معاشرے کا دستور العلوم توڑا جہاں عورت کی وضاحت اور دلیلیں محض منہ زبانی سن کر رد کردی جاتی ہیں اور اکثر جگاہوں پر تو صفائی کا موقع دیے بغیر اُس کی ذات سے منسلک فیصلے خود لے لیے جاتے ہیں
یہ کہانی ہے اپنی شناخت کھو دینے والی اس لڑکی کی۔۔
یہ کہانی ہے اپنی شناخت کو چھپا کر رکھنا والے اس درندے کی۔۔
اپنوں کے راز جان کر ۔۔اپنی معصومیت کو کھو دینے والوں کی۔۔
محبت سے نفرت کرنے والوں کی۔۔۔
یہ کہانی ہے ایک قتل کے راز کی۔۔۔
اعتبار سے اعتبار اٹھانے والوں کی۔۔۔
یہ کہانی ہے عشق کے دو مکینوں کی۔۔۔۔
یہ کہانی ہے انتظار کی, بدلے کی,دوستی کی ۔۔۔
یہ کہانی ہے یار کےخیال میں رہنے والوں کی۔۔
It is a story of some friends, disappointed with the government, who want to do something about the atrocities in Palestine, and then, in their own way, launch a boycott campaign against Israeli products.