All

Mohlat

 کہتے ہیں زندگی میں یہ اہم ہے وہ اہم ہے۔لیکن اگر غور کریں تو صرف زندگی کا ہونا اور اُس میں ہمارا سیدھے راستے پر ہونا اہم ہے۔ منوں مٹی تلے سوئے ہزاروں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی میں خواب تھے ، خواہشیں تھیں ، دنیا کی خوش نما آسائشیں تھیں اور وہ انھیں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے قبر کے اندھیرے میں جا پہنچے لیکن اب اگر اُنہیں اُٹھا کر پوچھا جائے تو وہ کہیں گے صرف زندگی اور بس زندگی۔ ایک موقعہ ، بس ایک آخری موقعہ ۔
مرنے والے کے سرہانے کھڑے ہوکر اس کے ادھورے رہ چکے خوابوں کے پورا ہوجانے کی دعا نہیں کی جاتی ، اس کی مغفرت کی دعا کی جاتی ہے۔

Molvi Abdul Khaliq by Aqdas Huda

یہ کہانی ایک دیندار اور نرم دل امام، مولوی عبدالخالق کی ہے جو غربت اور آزمائشوں میں بھی اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش ان کا بیٹا عبدالرحمن ہے، جو دل کی بیماری میں مبتلا ہے۔ علاج کے لیے پیسوں کی کمی ان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ محلے کے سیاستدان مرزا صاحب کے پاس جائیں۔ مرزا صاحب ان کو قرض کے بدلے میں ایمان بیچنے پر آمادہ کرتے ہیں، لیکن مولوی عبدالخالق ایمان پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ کہانی غربت، ماں باپ کی محبت، شوہر اور بیوی کے تعلقات، سیاست کی گندگی، اور سب سے بڑھ کر ایمان کی مضبوطی کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ کہانی قاری کو رلا دینے کے ساتھ ساتھ اللہ پر بھروسہ کرنے کا درس دیتی ہے۔

Morr To Sare Mann Ke Hain Novel by Humaira Ali

Morr To Sare Mann Ke Hain is a Cousin Marriage | Childhood Nikkah | Family Drama | Social Romantic | Digest Based | Happy Ending Based Romantic Novel by Humaira Ali Published in Shuaa Digest February 2026.
ناول: موڑ تو سارے من کے ہیں از حمیرا علی
شعاع ڈائجسٹ فروری ۴۰۴۶
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
کہانی کی شروعات کچھ یوں ہوتی ہے کہ شار ئین، جو کہانی کی مرکزی کردار ہے، اپنے جائز حق اور حقِ مہر کے حصول کے لیے بھارت سے پاکستان اپنے والد کے گھر آتی ہے۔ اس کا نکاح بچپن ہی میں اس کے تایا زاد کے ساتھ کر دیا جاتا ہے، مگر والدین کی علیحدگی کے بعد وہ اس کی ماں شار ئین کو اپنے ساتھ بھارت لے جاتی ہیں۔ وہاں اسے ہمیشہ اپنے والد اور خاندان کے بارے میں غلط باتیں بتائی جاتی رہیں، جس کے باعث اس کے دل میں ان کے لیے شدید بدگمانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
اپنے والد اور خاندان کے درمیان رہتے ہوئے بھی وہ ان سے فاصلہ رکھتی ہے اور طلاق لینے کا ارادہ رکھتی ہے، مگر حقیقت چاہے جتنی بھی چھپانے کی کوشش کی جائے، آخرکار سامنے آ ہی جاتی ہے۔ کہانی میں ایک بہت بڑا اور چونکا دینے والا موڑ ہے جو قاری کو بے حد حیران کر دیتا ہے۔
حمیرا علی کے منفرد اور خوبصورت اسلوبِ تحریر نے کہانی کو مزید نکھار دیا ہے۔
یہ ناول ضرور پڑھیں۔
1 300 301 302 504