All

Dastan e Shahadat Part 3

یہ ناول ایک ایسی لڑکی پر ہے جس نے اپنی زندگی کا سب کچھ گنوا دیا اور ایک ایسی لڑکی جس نے اپنا سب سے بڑا خواب خود اپنے ہاتھوں سے توڑا لیکن اپنا وعدہ نبھایا اس وعدے پر ہی لکھا گیا ہے داستانِ شہادت۔ ایک شہید کی داستان محبت کی داستان اور ایک دوستی کی داستان

Dastan e Shahadat Part 4

یہ ناول ایک ایسی لڑکی پر ہے جس نے اپنی زندگی کا سب کچھ گنوا دیا اور ایک ایسی لڑکی جس نے اپنا سب سے بڑا خواب خود اپنے ہاتھوں سے توڑا لیکن اپنا وعدہ نبھایا اس وعدے پر ہی لکھا گیا ہے داستانِ شہادت۔ ایک شہید کی داستان محبت کی داستان اور ایک دوستی کی داستان

Dastan e Tanhai Novel by Mahnoor Ahsan Shaikh

یہ حیا کی داستان ہے—بیس برس کی ایک نازک دل اور حساس لڑکی جو اپنی خاموشی میں سب کچھ محسوس کرتی ہے۔ کتابوں کی خوشبو، بارش کی ہلکی بوندیں اور لائبریری کی خاموش فضائیں اُس کے دل کی گہرائیوں کی ترجمانی کرتی ہیں۔ حیا محبت کو لفظوں میں نہیں بلکہ دل کے سکون اور چھوٹے چھوٹے لمحوں میں پاتی ہے۔ ازلان اُس کی زندگی میں ایک خاموش مگر پُراثر روشنی کی طرح آتا ہے، جو اُس کے خوف، درد اور خاموشیوں کو سمجھتا ہے اور اُنہیں سکون اور اطمینان میں بدل دیتا ہے۔ یہ داستان اُن دونوں کے دلوں کے سفر کی ہے—خاموشیوں، محسوسات اور محبت کے اُن لمحوں کی جو الفاظ سے بڑھ کر ہیں، اور جو زندگی بھر یاد رہ جاتے ہیں۔

Dastoor ul Amal

اگر کوئی کہانی اور اُس کے موضوع پر غور کرے گا تو حقیقتا ًمیرے بات کی تہہ تک رسائی حاصل کر لے گا۔ ہمارے معاشرے میں کئی جگاہوں پر آج بھی غیرت کے نام پر قتل،بلی چڑھ جانا،خودکشی جیسے مسائل عام ہیں اور اس میں بھی کثیر تعداد عورتوں کی ہوتی ہےفقط صرف ایک چیزوں کی کمی کی بدولت اور وہ ہے بھروسہ۔ اب شاید اکثر لوگ میری اوپر کی گئی بات سے اختلاف رکھیں گیں مگر آپ اگر توجہ دیں تو یہ سب کچھ آج بھی بہت عام ہے۔ اب لوگ بولیں گیں کہ ہر بار عورت ٹھیک نہیں ہوتی پر میں یہاں اقلیت کی نہیں بلکہ اکثریت کی بات کر رہی ہوں ایک بار کھلے دماغ سے غور و فکر ضرور کیجئے گا۔ برحال کہانی کے دو کردار ہیں عون اسحاق اور زینہ بتول۔میرے نزدیک سب سے مضبوط کردار عون اسحاق کا ہے کیونکہ اصل میں کہانی میں درست اقدام لینے والا،صحیح اور غلط کا تعین کرنے والا، اپنے فیصلوں میں اٹل اور سب سے بڑھ کر متضاد صنف پر اعتماد کرکے ایک بار پھر زینہ کو بےاعتباری سے اعتبار کے سفر تک پہنچانے والا وہی تھا۔وہ تھا جس نے معاشرے کا دستور العلوم توڑا جہاں عورت کی وضاحت اور دلیلیں محض منہ زبانی سن کر رد کردی جاتی ہیں اور اکثر جگاہوں پر تو صفائی کا موقع دیے بغیر اُس کی ذات سے منسلک فیصلے خود لے لیے جاتے ہیں
1 99 100 101 503