یہ افسانہ دو دوستوں مِرحا اور نمرہ کی کہانی ہے جن کی دوستی سب کے لیے مثال تھی، مگر ایک لمحے کی انا نے برسوں کے رشتے کو اجنبی بنا دیا۔ معمولی جملے خنجر بن گئے اور خاموشی کی دیوار کھڑی ہو گئی۔ جدائی کا زہر ان کی روح میں اتر گیا، اور ضد نے دلوں کو قریب آنے نہ دیا۔ مِرحا کے دل میں نمرہ کی یاد ایک زخم کی طرح ہمیشہ زندہ رہی۔ انہی دنوں حارث کی آمد نے اس کے دل کو نرمی اور سکون دیا۔ وہ محبت جس نے مِرحا کو انا کے اندھیرے سے باہر نکالا، مگر پرانی دوستی کی ادھوری یاد ہمیشہ دل میں ایک سوال چھوڑ گئی کہ:
کیا کچھ رشتے کبھی مکمل طور پر جڑ نہیں پاتے؟