یہ کہانی ہے اُس سرزمین کی جسے خون سے رنگ دیا گیا۔
جہاں سورج بھی لاشیں گنتا ہوا طلوع ہوتا
اور آہیں سنتا ہوا غروب ہو جاتا۔
جہاں ستاروں میں محض چمک نہیں تھی،
بلکہ آنکھوں میں سوال تھے۔
یہ کہانی ہے اُن تین نفوس کی
جو اسی سرزمین کی گلیوں میں پروان چڑھے۔
کبھی وہاں کے میدانوں میں خواب دیکھے،
تو کبھی انہی خوابوں کو کرچی کرچی ہوتے دیکھنے پر مجبور ہو گئے
کیا تم جانتے ہو وہ تین لوگ کون تھے؟