ہمسفر جسے پاک ذات نے ہمارے لیے چن لیا ہو، اس کے جملہ حقوق ہمارے ہاں محفوظ کر دیے ہوں. زندگی کے سفر میں ہمسفر کا ہونا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اس کی ہمراہی بھی اہمیت کی حامل ہے۔
اور پھر اس ہمسفر کا ساتھ ہم نہیـــں جانتے کہ وہ ہمارے حق میں بہتر بھی ہے کہ نہیـــں…؟
تو پھر یاد رکھو کہ جیسا مرد ہوگا ویسی عورت ملے گئی.
یہ کہانی ہے “فاطق مراد” کی جسے ایک قدم رکھنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے اور دوسری طرف بنا سوچے سمجھے زندگی کے ہر پل کو ایڈونچر سمجھ کر گزارنے والی، ضدی اور نکچڑی “حدیقہ بتول” کی۔
انسان مکمل کب ہوتا ہے۔۔؟ یہ تو ہمسفرکی ہمراہی ہے جو اس کے نامکمل کو بھی مکمل کر دیتی ہے۔
کہتے ہیں عشق اور مشق چھپائے نہیں چھپتا…. سہی کہتے ہیں. ایک فریق اپنی محبت کو کتنا ہی چھپالے لیکن آنکھیں سب بولتی ہیں،کیونکہ آنکھیں دل کی ترجمان ہوتی ہیں. اس کہانی میں اس ستمگر کی آنکھیں سب بیان کرتی ہیں. لیکن وہ منہ سے کچھ بھی بیان کرنے کو تیار ہی نہیں….. آخر کب تک؟