وقت کا سیل رواں یونہی گزر رہا تھا کبھی کوئی لہر انہیں قریب لے آتی اور کبھی کوئی موج دور پٹخ دیتی ۔دونوں ہی ضدی تھے ایک کی مانگنے کی خو نہیں تھی تو دوسرا بن مانگے دینے کا عادی نہیں تھا
مرد اور عورت کی دوستی کبھی بے غرض نہیں ہوتی۔ خارجی یا اندرونی عوامل اسے آلودہ کر ہی دیتے ہیں۔مگر ثومیہ کے لیے یہ ماننا آسان نہیں تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ۔۔۔۔