Afsanay

Hum Islam ki shehzadiyan

Afsana

مورخ جب بھی تاریخ لکھنے کو قلم اُٹھائے..
تم کو لکھنے سے پہلے تم سے سوال کرے…
کون ہو تم ؟
اور تم خود سے پوچھو…
کون ہیں ہم؟
اک خیال پلٹ کر آئے….
 اور مورخ کا قلم بغیر رکے چلتا جائے…
ہم جھکی نظروں کی مالکنیں…!
ہم وسیع و عریض خیالات کی رانیاں…!
 ہم اللہ کی محبت کی خواہشمند….!
ہم نفس پر پہرا بیٹھانے والیں…!
ہم عرش پر نظریں جمانے والیں…!
ہم آرزوئے جنت والیں…!
ہم مسکرا کر اللہ کی خاطر تکلیف سہنے والیں…!
مختصراً، ہم اسلام کی شہزادیاں!
افق پر پھیلے سفید بادلوں نے نیلگوں آسمان کو اپنے پیچھے چھپا لیا تھا۔ تیز ہوا کی دوش پر تیرتے یہ بادل ماحول کو ٹھنڈا اور پرسکون کر رہے تھے۔
“ارے بھئی باہر اتنا اچھا موسم ہورہا ہے اور تم یہاں کن
سوچوں میں گم ہو؟” ادینہ نے صالحہ کو جاءنماز پر گم سم بیٹھے دیکھ کر اس کے پاس ہی نیچے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں کہیں نہیں..” وہ جو کسی گہری سوچ میں گم تھی ادینہ کی آواز پر چونک کر سیدھا ہو کر بیٹھی۔
“اچھا ! مگر تمہاری آنکھیں تو کوئی اور ہی منظر پیش کر رہی ہیں” وہ اس کی بھیگی پلکیں دیکھ کر بے اختیار پوچھ بیٹھی۔
“اووہ ..ہاں ! وہ باہر ہوا چل رہی ہے نا، شاید آنکھوں میں کچھ چلا گیا ہے۔” اس نے جلدی سے اپنی بھیگی پلکوں کو رگڑتے ہوئے نم لہجے میں کہا۔
“بالکل! ہوا باہر چل رہی ہے اندر نہیں۔ بتاؤ گی نہیں کہ کیا ہوا ہے؟” اس نے صالحہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر پوچھا۔ وہ اچانک ہی اس کے لئیے فکرمند ہوئی تھی۔ کیونکہ اگر صالحہ جیسی شوخ چنچل لڑکی رو رہی تھی تو یقیناً کوئی خاص بات تھی۔
صالحہ نم آنکھوں سے بس اپنے بےداغ ہاتھوں کی پشت کو ہی تکے جارہی تھی۔
“صالحہ! میں تم سے بات کر رہی ہوں۔”اسنے اسکی مسلسل خاموشی سے عاجز آکر کہا۔
“ادینہ ! تم سے ایک بات پوچھوں..؟” اس نے کافی گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“افکورس! اور تمہیں کب سے کچھ پوچھنے کے لئیے اجازت کی ضرورت پڑ گئی؟” اسکے انداز پر صالحہ ہلکا سا مسکرائی۔
“ادینہ ! کیا جو لوگ گناہ کر کے راہ راست پر آجاتے ہیں۔ کیا اللہ انہیں معاف نہیں کرتا؟” اس نے نظریں جھکا کر سوال کیا۔ ادینہ اس کے لفظوں میں صاف تکلیف محسوس کر سکتی تھی۔
” صالحہ! اللہ بڑا مہربان ہے وہ ہمیشہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔ چاہے گناہ جتنا بھی بڑا ہو بس توبہ سچی ہونی چاہیے۔” اس نے مسکرا کر کہا۔
“پھر میرے معاملے میں ایسا کیوں نہیں ہے۔ اللہ مجھ پر ہی مہربان کیوں نہیں ہے؟میں نے اللہ کے لئیے سب چھوڑ دیا لیکن اللہ میری دعاؤں کا جواب ہی نہیں دیتے۔” صالحہ نظریں چراتے ہوئے وہ شکوہ لبوں پر لے ہی آئی جو اسے اللہ سے تھا۔ ادینہ نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
” صالحہ یہ صرف ایمان کی کمزوری اور اللہ پر یقین نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یقین کے بغیر دعائیں کھوکھلی ہوتی ہیں۔ دعا ایک ایسا دروازہ ہے جس کی چابی یقین ہے۔ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تم چابی کے بغیر ہی دروازہ کھول لو گی؟ ہم مانگ تو اللہ سے رہے ہوتے ہیں لیکن ہمارے دل وسوسوں میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ اللہ پر مکمل یقین ہی ہمارے ایمان کی پختگی کی نشانی ہے۔”
“ادینہ ایسا نہیں ہے کہ مجھے اللہ پر یقین نہیں ہے۔ مجھے اللہ پر مکمل یقین ہے۔ یہ اللہ کا یقین ہی تو ہے جو مجھے میری پرانی کھوکھلی زندگی سے یہاں کھینچ لایا۔ ایک وقت تھا جب آذان کی آواز میرے کانوں میں تیر کی طرح چبھتی تھی، نمازوں سے میرا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ قرآن بھی صرف رمضان میں کھولنا وہ بھی تب جب امی ڈانتیں۔ لیکن تم آج مجھے دیکھو کوئی نماز چھوڑنا تو دور کی بات اب تو تہجد بھی باقائدگی سے ادا کرتی ہوں۔ اور جب تک قرآن کی تلاوت نہ کر لوں دل کو سکون نہیں ملتا۔” اس نے سامنے ایک غیر مرئی نقطے پر نظریں جما کر مسکراتے ہوئے نم آنکھوں سے کہا۔
” اگر تمہیں اللہ پر اتنا یقین ہے تو اپنے پچھلے تمام گناہوں کے معاف ہو جانے کا بھی یقین رکھو۔ صالحہ تمہیں پتہ ہے اللہ کہتے ہیں کہ اگر تمام فرشتے اور انسان گنہگار ہوجائیں اور اتنے گناہ کریں کہ زمین سے لے کر آسمان گناہوں سے بھر دیں جو کہ ممکن نہیں اور پھر بس ایک دفعہ دل سے توبہ کریں اور دوبارہ ان گناہوں سے بچنے کا وعدہ کریں تو اللہ ان کے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔” ادینہ نے مسکرا کر کہا۔
“ہاں معاف کر دیتے ہوں گے اللہ ۔ ” وہ سرگوشی کے انداز میں بولی۔
“ادینہ ! میں نے سنا تھا کہ اللہ دلوں میں رہتے ہیں۔ اللہ ہم سے بےحد محبت کرتے ہیں۔ اگر ہم اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہیں تو اللہ ہماری طرف دس قدم بڑھاتے ہیں۔ ہم ایک دفعہ اللہ کو پکارتے ہیں تو اللہ کئی بار لبیک کہتے ہیں۔ لیکن اللہ میری پکار نہیں سنتے۔ میں مانتی ہوں میں نے بےشمار گناہ کئیے، لیکن اب تو میں معافی مانگ چکی ہوں۔ اب جو میں اللہ سے مانگتی ہوں اللہ وہ مجھے کیوں نہیں دیتے؟ ادینہ اللہ میری دعائیں پوری کیوں نہیں کرتے؟ میں نے تو اللہ کے لئیے سارے گناہوں کے راستے چھوڑ دئیے۔ پھر بھی میں آج بالکل نیک نہیں ہوں میں اگر نیکی کرتی ہوں تو کوئی گناہ بھی ضرور کر دیتی ہوں۔ میں کتنی دعائیں مانگتی ہوں کہ کوئی گناہ نہ ہو مجھ سے لیکن پھر بھی.. ۔ اللہ مجھے باقیوں کی طرح پرفیکٹ کیوں نہیں بنا دیتے؟ اللہ میری خواہش کیوں پوری نہیں کرتے؟ ” اس نے رو رو کر اپنے دل کی بات ادینہ کے سامنے رکھ دی۔ وہ چاہ کر بھی اپنے آنسوؤں پر باندھا بند قائم نہ رکھ پائی تھی۔ کئی عرصے کی بےچینی دل پر کسی گلیشئیر کی طرح جم سی گئی تھی جو اب زرا سا کاندھا ملتے ہی آنکھوں کے زریعے نکلنے کو بےچین تھی۔
“صالحہ! اگر تم سوچتی ہو کہ تم کبھی پرفیکٹ بن سکتی ہو تو وہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ ہم انسان ہیں فرشتے نہیں۔ اور اللہ نے ہمیں فرفیکٹ بننے کے لئیے تو نہیں بھیجا، ہم تو بس اللہ کو راضی کرنے آئے ہیں۔”
“لیکن پرفیکٹ بنے بغیر ہم اللہ کو کیسے راضی کر سکتے ہیں؟”
“صالحہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ کوئی ایسا ہے کہ پانی پر چلے اور اس کے پاؤں نہ بھیگیں؟ عرض کیا گیا: حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا تو نہیں ہوسکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح دنیادار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔”
” لیکن ادینہ اللہ میری دعا قبول نہیں کرتے۔” اس کی سوئی اب بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
” اچھا ایسا کیا مانگتی ہو جو قبول نہیں ہوتا۔” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
” میں اللہ سے اللہ کو مانگتی ہوں اور اللہ مجھے نہیں ملتے۔ میں کئی کئی گھنٹے سجدے میں سر رکھ کر رو رو کر اللہ کو مانگتی ہوں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے درمیان میں کوئی ان دیکھی دیوار حائل ہو جاتی ہو۔ جو میری صداؤں کو اللہ تک پہنچنے نہیں دیتی۔” ادینہ نے چونک کر صالحہ کو دیکھا۔
“صالحہ تم پردہ کرتی ہو..؟” ادینہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“ادینہ ! تمہارے سامنے ہی تو ہوں میں۔ تمہیں پتہ تو ہے کہ میں گاؤن پہنتی ہوں اور نقاب بھی کرتی ہوں۔ پھر کیوں پوچھ رہی ہو؟” صالحہ نے حیرانگی سے پوچھا۔ اسے کم ازکم اپنی بات کے جواب میں یہ تو نہیں سننا تھا۔
“صالحہ جس پردے کی تم بات کر رہی ہو وہ مشکل نہیں ہے میں اس سے زیادہ مشکل دوسرے پردے کی بات کر رہی ہوں۔ نظر کا پردہ جو ہمیں اللہ کے قریب کردیتا ہے۔ اپنے ظاہر کو پردے میں ڈھانپ کر ہم محفوظ تو ہو جاتے ہیں لیکن اللہ کے قریب تب ہوتے ہیں جب ہمارا اندر بھی باہر کی طرح پاک ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارا ظاہر کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہمارا ظاہر معنی رکھتا ہے اسے ڈھانپنا ضروری ہے لیکن نظر کا پردہ بھی بے حد لازم ہے۔ شیطان ہماری نظر کے زریعے ہی ہمارے دل پر وار کرتا ہے۔”
“نظر کا پردہ…؟”وہ تھوڑا حیران ہوئی تھی۔ اسے لگا اس نے کچھ غلط سنا۔
” ہاں ..! نظر کا پردہ۔” اس نے اتنے ہی اطمینان سے کہا۔
“یار نظر کا پردہ ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ ہم جس سوسائٹی میں رہتے ہیں یہاں ہمیں بات بات پر نامحرموں سے کام پڑتا ہے۔ اور اب ہم گھر میں چار دیواری میں بند ہو کر رہنے سے رہے۔ اب ہم گھر سے باہر جاتے ہیں تو ہماری نظر ہر شہ پر پڑتی ہے آنکھیں بند کرکے تو نہیں چل سکتے۔ نظر کا پردہ تو صرف اس صورت میں کرسکتے ہیں جب ہم مسلسل گھر میں بیٹھیں نہ کسی سے ملیں نہ بات کریں لیکن یہ ناممکن ہے۔”
“کس نے کہا کہ نظروں کا پردہ صرف گھر رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے؟ میں مانتی ہوں جس سوسائٹی میں ہم رہتے ہیں وہاں ہمیں بات بات پر نامحرموں سے کام پڑتا ہے لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ ہمیں دوسروں سے بات کرنے کے لئیے اپنی نظروں کو آوارہ کرنا پڑے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہم منہ اٹھا کر ہر چیز کا معائنہ کریں۔”
“لیکن ادینہ تمہیں پتہ تو ہے کہ آج کل زمانہ کتنا خراب ہے اور لوگوں کی نیتوں کا اندازہ ہم انہیں دیکھ کر ہی کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نظریں جھکا کر چلیں گے تو کب ہمارے ساتھ کیا ہوجائے ہمیں پتہ ہی نا چلے۔”صالحہ ابھی بھی ادینہ سے غیر متعفق تھی۔
” میری جان ! زمانے کو برا نہیں کہتے کیونکہ ایک حدیث ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہی ہوں میرے ہی قبضہ قدرت میں تمام امور ہیں میں رات اور دن کو گردش دیتا ہوں۔ اور صالحہ جب زمانہ اللہ ہے تو ہمارا محافظ بھی اللہ ہی ہے اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ ہم اپنی نظروں سے اگلے انسان کا ارادہ بھانپ سکتے ہیں۔ دین یو آر رونگ! کبھی کبھار فرشتوں سی شکل والے اندر سے درندے ہوتے ہیں اور کبھی عام سی شکل والے، غیر ضروری دکھنے والے اندر سے فرشتے ہوتے ہیں۔ ہم کسی کا ظاہر دیکھ کر اسے جج نہیں کر سکتے۔ ویسے اللہ نے ہم لڑکیوں کو ایسا سینسر ضرور دیا ہوتا ہے جس سے ہم اگلے کی نظروں سے ہی اس کے ارادے بھانپ لیں۔ لیکن صالحہ اس سب کے لئیے بھی نظروں کی آوارگی ضروری نہیں۔ تمہیں پتہ ہے کہ نظروں کی بے باکی سے انسان کی شرم وحیاء ختم ہونے لگ جاتی ہے۔ جسے ہماری سوسائٹی میں کانفیڈینس کا نام دیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو شخص سب سے نظریں ملا کر بہت عام طریقے سے بات کرلیتا ہے بے شک وہ محرم ہو یا نامحرم وہ بہت کانفیڈینٹ ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔”
“تو ادینہ تمہیں لگتا ہے کہ جو نامحرموں سے نظریں ملا کر بات کرتا ہے وہ کانفیڈینٹ نہیں بلکہ بےحیا ہے؟”
“نہیں صالحہ میں نے ایسا نہیں کہا۔ تم نے ٹھیک سے میری بات کو کیچ نہیں کیا۔”
“ادینہ تم نے ابھی کہا کہ اس کی شرم وحیاء ختم ہو جاتی ہے تو مطلب تو اسکا یہی ہوا نا کہ وہ بے حیا ہے۔”
“صالحہ جب انسان کی شرم وحیاء ختم ہونے لگ جائے تو اسے تمام گناہ معمولی محسوس ہوں تب وہ بےحیا کہلاتا ہے۔ اور میں نے کہا کہ نظروں کی آوارگی سے ہماری شرم وحیاء ختم ہونے لگ جاتی ہے اور شرم وحیاء تو ایک ایسا فطری اور اہم وصف ہے جسکا انسان کی سیرت سازی میں بہت زیادہ دخل ہے۔ یہی وہ وصف اور خلق ہے جو انسان کو بہت سے برے کاموں اور بری باتوں سے روکتا ہے اور اچھے اور شریفانہ کاموں کے لئیے آمادہ کرتا ہے، الغرض شرم وحیاء انسان کی بہت سی خوبیوں کی جڑ اور فواحشات سے اسکی محافظ ہے۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم اور تربیت میں اس پر زیادہ زور دیا ہے۔”
” تو یہ ضروری ہے کہ اگر ہم اپنی نظروں کی حفاظت نہیں کریں گے تو بےحیا ہو جائیں گے۔”
“ہاں صالحہ بےحیائی کا آغاز ہی نظروں کی آوارگی ہے۔ اس میں صرف نامحرموں سے ہی نہیں اپنی نظروں کی حفاظت کرنی بلکہ ہر اس چیز سے اپنی نظروں کو بچانا ہے جس سے اللہ نے روکا ہے۔ ہم کیا دیکھتے ہیں، کیا سنتے ہیں اور اپنے دل کو کس کام میں مشغول رکھتے ہیں ہم ہر چیز کے جوابدہ ہیں۔”
” لیکن ادینہ میں تو آوارہ نظروں والی نہیں ہوں۔ نہ میں غلط دیکھتی ہوں اور نہ سنتی ہوں، تو پھر اللہ مجھے کیوں نہیں ملتے؟”
“اچھا پھر کیا تم نے اللہ کو مانگنے سے پہلے اپنے دل کی صفائی کی؟”
“دل کی صفائی..؟” وہ اس بار بھی حیرت زدہ تھی۔
” ہاں دل کی صفائی۔ تمہیں پتہ ہے اللہ کی محبت بہت خوددار ہوتی ہے وہاں نہیں آتی جہاں حرام کام کا شائبہ تک بھی ہو۔ اللہ کی محبت ایک بہت ہی پاک جزبہ ہے جو کہ اس دل میں قیام پذیر ہوتا ہے جو کہ پاک ہو۔ میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا جس دل میں نا محرم ہوتا ہے اس دل میں اللہ نہیں آتا۔ اور دلوں میں نامحرم، نظروں کی آوارگی کی وجہ سے ہی آتے ہیں۔ صالحہ دل بہت پاک جگہ ہوتی ہے جسے اللہ نے صرف پاک چیزوں کے لئیے بنایا ہے۔ اسی لیے قرآن بھی دماغ میں نہیں بلکہ دل میں اتارا گیا اور اللہ بھی دل میں ہوتے ہیں۔ اور سوچو اگر ہم اپنے دل میں ناپاک چیزوں کو پناہ دیں گے تو اللہ کیوں آئیں گے؟ صالحہ پہلے اپنا دل صاف کرو اگر کسی نامحرم محبت نے تمہارے دل میں جگہ لے رکھی ہے تو اسے صاف کرو اور پھر اللہ سے دعا کرو، پھر اللہ سے اللہ کو مانگو اور جب تمہارا دل پاک ہو جائے گا تو اللہ بھی مل جائیں گے لیکن اگر تمہارا دل کسی نامحرم سے منسلک ہوگا تو تمہارا دل بے چین رہے گا اور وہ بے چینی تمہارے اور اللہ کے درمیان حائل ہو جائے گی اور تم چاہ کر بھی اللہ کو نہیں پا سکو گی۔”
“ادینہ دل میں کوئی اجازت لے کر تو داخل نہیں ہوتا اور محبت تو کسی کو بھی ہوسکتی ہے اور کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔” اسکی آواز نم تھی۔
“نہیں صالحہ محبت ہر کسی سے نہیں ہوسکتی۔ ہم نامحرم کو پسند تو کرسکتے ہیں لیکن محبت نہیں۔ اگر آپ نامحرم کے لیے کچھ محسوس کرو تو وہ محبت نہیں جسٹ اٹریکشن ہوتی ہے اور چیزیں اور لوگ کچھ وقت کے بعد اپنی اٹریکشن کھو دیتے ہیں۔ لیکن محبت کبھی ختم نہیں ہوتی اور جو محبت اللہ کا نام لے کر حلال رشتے میں آکر کی جائے وہ ہوتی ہے اصل محبت جس میں اللہ برکت ڈالتے ہیں وہ ہوتی ہے وہ محبت جو دل میں وحی کی طرح نازل ہوتی ہے۔ صالحہ ہم عام نہیں ہیں ہم اسلام کی شہزادیاں ہیں کوئی بھی مسلمان لڑکی عام نہیں ہوتی۔ ہم کیوں اپنے دل کو اتنا بےلگام چھوڑیں کہ اس میں کوئی بھی بغیر اجازت کے داخل ہو جائے؟ یہ جو لوگ کہتے ہیں نا کہ ہم کیا کریں نامحرم محبت ہمارے دل میں اللہ نے ڈالی ہے غلط کہتےہیں۔ یہ صرف شیطان کی طرف سے دیا گیا بہانا ہے، بہلاوہ ہے کہ یہی سوچ کر خود کو بہلاتے رہو۔ اللہ کیوں ایک پاک دل میں نامحرم کو داخل کر کے اسے ناپاک کریں گے؟ لوگ کہتے ہیں محبت پر ہمارا اختیار نہیں، چلو مان لیا کہ نہیں ہے اختیار تو کیا دعاؤں پربھی انکا اختیار نہیں؟ تو کیوں وہ راتوں کو جاگ جاگ کر سجدہ ریز ہو کر اس نامحرم محبت کے نکل جانے کی دعا نہیں کرتے؟ صالحہ محبت ایک پاک جزبہ ہے اس پر اللہ کا، ہمارے ماں باپ، بہن بھائی اور محرم رشتوں کا حق ہے۔ اور جو جزبہ آپ نامحرم کے لیے محسوس کرو وہ محبت ہر گز نہیں بلکہ شیطان کا گمراہی کی طرف پھیلائے جانے والا پہلا جال ہے۔ اگر کوئی پسند ہے تو اس سے اپنے رشتے کو حلال کرو اگر ممکن نہیں تو اسے دل سے باہر نکال پھینکو۔ لیکن امانت میں خیانت نہ کرو۔ تمہیں پتہ ہے ہمارے جزبے، ہمارا وقت اور ہماری محبت ہمارے پاس اسکی امانت ہے جس نے کبھی ہماری زندگی میں ہماری روح کا ساتھی بن کر شامل ہونا ہے۔ اور اگر ہم اس میں نامحرم کو حصہ دار بنائیں گے تو امانت میں خیانت کریں گے۔ تمہیں پتہ ہے منافقین کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ وہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جانتی ہو منافقین کے لیے جہنم کا آخری درجہ ہے جس سے جہنم خود بھی پناہ مانگتی ہے۔ کیا تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ کسی نامحرم کو دل میں اللہ بساتے ہیں؟ اور کیا اب بھی تمہیں لگتا ہے کہ یہ عام اور بےضرر سی بات ہے..؟” صالحہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر نکلا۔وہ اتنے بڑے گناہ میں مبتلا تھی اور بالکل بے خبر تھی۔ اللہ کو ناراض کرکے اسکی ناراضگی کا شکوہ کر رہی تھی۔
“ادینہ تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟” وہ اب فرار چاہتی تھی۔
“نظروں کی حفاظت اور دعا مکمل توکل سے۔” وہ اطمینان سے بولی۔
” لیکن جو خیال انسان کے دل میں ہوتے ہیں انہیں کیسے ختم کریں؟”
“جب بھی اس شخص کا خیال آئےتو ‘لاحولاولاقوۃالاباللہ’ کا ورد کرو بھلا اللہ سے بھی بڑی کوئی قوت ہے؟ اللہ کی قوت پر یقین کرکے دعا کرنا پھر دیکھنا دل کیسے صاف ہو جائے گا اور ہر طرف نور ہی نور ہوگا۔”وہ مسکرا کر بولی تھی اور اس دفعہ صالحہ بھی مسکرائی تھی اس کی الجھن سلجھ گئی تھی۔
“ارے لڑکیوں! باہر بارش ہورہی ہے اور تم دونوں یہاں بیٹھی کون سے دکھڑے بانٹ رہی ہو ؟” رانیہ باہر سے آتی ہوئی بولی۔
” اوو ہاں سچ صالحہ! میں تو تمہیں کہنے آئی تھی کہ باہر اتنا اچھا موسم ہو رہا ہے چلو چل کر ہم سب کے لیے پکوڑے بناؤ” ادینہ اچھل کر بولی۔
” کیوں بھئی میں کیوں بناؤں پکوڑے تم دونوں کیا مہمان آئی ہوئی ہو؟” صالحہ بھی چڑ کر جاءنماز اکٹھی کرتے ہوئے بولی۔
” بھئی پچھلی بار تو میں نےبنائے تھے اب تم دونوں جانو۔” رانیہ آرام سے ہاتھ جھاڑ کر سائیڈ سے نکل گئی۔
“یار میں نے صبح پورے گھر کی صفائی کی ہے۔” ادینہ نے بھی مزے سے معاملے سے نکلنے کی کی۔
“یار میں نے بھی تو برتن دھوئے ہیں۔”صالحہ بھی منہ بنا کر بولی۔
 ” تم تینوں کچھ بھی نا کرو بس باتیں کروا لو جتنی کروانی ہے۔ جان بوجھ کر لڑجھگڑ کر تینوں سائیڈ پر ہوجاتی ہیں اینڈ میں کام تو ماں کو ہی کرنا ہوتا ہے۔” رضیہ بیگم جو باہر سے انکا جھگڑا سن کر آرہی تھیں غصے سے پھٹ پڑیں۔
“ہیں سچی امی ! آپ بنائیں گی پکوڑے؟ چلیں ہمارا جھگڑا تو ختم ہوا۔” صالحہ شرارت سے مسکرا کر بولی۔
“شرم وحیاء تو ختم ہی ہوگئی ہے آج کل کی اولاد میں۔ سو گز لمبی زبانیں ہیں سارا سارا دن موبائلوں پر لگی رہتیں ہیں کام کیا خاک کرنا ہے۔” رضیہ بیگم بہت غصے میں بولیں۔
“اوکےاوکے ہماری پیاری سی غصے والی امی آپ ناراض نہ ہوں، ہم جا رہے ہیں پکوڑے بنانے۔” وہ تینوں مسکراتی ہوئی کچن میں چلی گئیں۔ اور رضیہ بیگم ٹی وی آن کر کے صوفے پر براجمان ہو گئیں۔
” نہیں برتن تم دھو گی۔
آلو تم کاٹو۔
کیا کر رہی ہو رانیہ اتنے موٹے موٹے پیاز نہ کاٹو۔
امی ! ادینہ کو دیکھیں بدتمیزی کر رہی ہے۔
صالحہ پاگل ایسے ہی آئل ڈال دیا کڑاہی کس نےدھونی تھی۔” اس طرح کی اور بھی بہت سی آوازیں رضیہ بیگم باہر بیٹھیں سن رہی تھیں انہوں نے دکھ سے سر پر ہاتھ مارا۔
“یہ نہیں سدھر سکتیں۔” یہ سوچتے ہی انہوں نے معمول کے مطابق ٹی وی کا والیوم بڑھا دیا۔ ان تینوں کے ایک ساتھ کچن میں ہوتے ہوئے طوفان یقینی تھا۔ جس کی زد میں رضیہ بیگم اپنا شو تو بالکل نہیں آنے دینے والی تھیں۔
                                 ختم شد
 حرف آخر۔
میری تحریر سے اگر کسی کی دل شکنی ہوئی ہو تو میں معزرت چاہتی ہوں۔ اس تحریر کو لکھنے کا مقصد اپنی جیسی بہنوں کو بتانا ہے کہ دل کی پاکیزگی بھی کس حد تک ہمارے لیے اہم ہے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دیں اور بےشمار ہمت تاکہ ہم اپنے دل کو پاکیزہ رکھ سکیں۔
آمین ثم آمین ۔
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.