Afsanay

Hijabi Larki

Hijab

بسم الله الرحمن الرحیم

السلام و علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ

آج کا ٹوپک حجاب میرا فیورٹ

ناجانے کیوں یہ ٹوپک مجھے بہت اٹریکٹ کرتا ہے

حجاب اور اس کی رونق ہی الگ ہے

لڑکی کی زندگی کمپرومائزنگ ہوتی ہے

چاہے وہ کسی بھی رشتے سے منسلک ہو باپ ہو بھائی ہو، شوہر ہو، یا بیٹا ہر جگہ ایک عورت کو جھکنا ہوتا ہے

دراصل کمپرومائز کرنا عورت کی فطرت ہوتی ہے فطرت پر چلنا آسان ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی تکلیف دہ بھی ہوتا ہےلیکن اصل بات بتاؤ جب انسان فطرت پر ہوتا ہے نہ تو چاہے جو بھی حالات ہوں ایک سکون سا رگ وپے میں  سرائیت کرتا ہوتا ہے۔

خیر ہمارا موضوع گفتگو حجابی لڑکی ہے

اگر  ہم آج کی لڑکی کی بات کریں تو حجاب لینا آج کی لڑکی کے لیے وبال جان ہے  

اور یہاں یہ لائن بطور خاص کہی جاتی ہے کہ حجاب کرنا آسان نہیں ہے مختصراً دین پر چلنا مشکل ہوتا ہے

لیکن میں یہاں یہ کہتی ہوں کہ دین پر چلنا مشکل بنایا کس نے

نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم تو آسان دین کی تکمیل کے لیے آئے تھے الله تعالیٰ قرآن پاک میں جابجا فرماتے ہیں کہ

“بےشک یہ  قرآن وہ راہ نمائی کرتا ہے اس (راہ) کے لیے  وہ (جو) سب سے زیادہ سیدھی ہے اوروہ خوش خبری دیتا ہے ایمان والوں کو  وہ جو عمل کرتے ہیں نیک بےشک ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا”

سورۂ بنی اسرائیل آیت 9)1)

 قرآن پاک کہہ رہا ہے کہ یہ آسان ہے احادیث کہہ رہی ہے کہ دین آسان ہے لیکن ہم——افسوس ہم کہتے ہیں کہ دین پر چلنا مشکل ہے

نماز کی پابندی مشکل ہے

حجاب کرنا مشکل ہے

سچ بولنا مشکل ہے

اچھا تو زرا دیر نظر تو ڈالیں کہ آسان کیا ہے

گانے سننا

جینز اور کرتا پہننا

نماز نہ پڑھنا اور اپنی دھن میں مگن رہنا

جھوٹ بولنا

حرام ،حلال کے فرق کو پس پشت ڈالنا

ان سب باتوں کو مد نظر رکھ کر تو صرف یہ سمجھ آتا ہے کہ دین مشکل نہیں ہے قرآن پاک پر عمل کرنا مشکل نہیں ہے اپنے نفس کو قابو کرنا مشکل ہے اور ہم نفس کے غلام دین کو قصوروار ٹھراتے رہتے ہیں دراصل

بات  شروع ہوئی کرونا سے تھی

نہیں بلکے اس کی وجہ سے لگانے والے ماسک سے 

کل پرسوں یونہی بیچ سفر میں لوگوں پر نظر پڑی عورتیں ،مرد،لڑکے،لڑکیاں سب نے ماسک لگائے ہوئے تھے

ناجانے کیوں ایک ٹیس سی دل میں چبھی کہ کیا ہم اتنے حد سے گزر گئے ہیں کہ ہمارے اعمال نے ہمیں ایک دوسرے کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا

ہم پھر بھی وہی ہیں آج بھی ہم غور کرنے کے بجائے کہ وبائیں نیک قوم پر حملہ نہیں کرتی یہ تو ان پر آتی ہے جن سے الله تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں

جن کا نام آسمانی مخلوق میں برے لفظوں میں ہوتا ہے

ہاں وہ دنیا میں بڑے اچھے ہوتے ہیں

ماسک کی حد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عورت کو پردے کا حکم دیا ہے اور اس وبا نے آدمیوں سے بھی پردہ کروالیا

تو میں سوچ رہی تھی کہ ہم کتنی کوئی ڈھیٹ قوم ہیں

سوری نیور مائینڈ اس قوم میں ،میں خود بھی شامل ہوں

ہاں میں کہہ رہی تھی کہ ہم اتنے کوئی نافرمان ہیں کہ اب بھی نہیں سمجھ رہے کہ اللہ تعالیٰ کیا چاہتے ہیں

انھوں نے اس وبا کے ذریعے ہم سب کو پردے کے احکامات پر عمل کرنے کی تلقین کی لیکن ہم سدا کے ڈھیٹ اب بھی صرف ماسک پر ٹکے ہیں

میں نے دیکھا ان لڑکیوں کو جنھوں نے چہرہ پر ماسک لگایا ہوا ہے اور مفلر کی طرح ڈوپٹہ لیا ہوا ہے کچھ تو باقائدہ اسکارف پن اپ کی ہوئی ہیں لیکن ماسک لگایا ہوا ہے

بھئ میں صرف یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ ماسک سے بھی تو منہ چھپ گیا بیماری آئی تو فیشن ختم ہوگیا منہ چھپنا شروع ہوگئے لیکن جب یہی بات اللہ تعالیٰ نے کہی

تو سنی نہیں

میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر آپ ماسک سے نقاب کرسکتی ہیں تو آپ اپنے اسکارف سے کیوں نہیں کرسکتی

آخر کیا وجہ ہے ؟

کیا ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے؟

بے شک حجابی لڑکی کی زندگی مشکل ہے لیکن جانتے ہیں کب تک اسوقت تک جب تک ہر چار میں سے صرف ایک حجاب کرے جی ہاں جب چاروں حجاب کریں گی نہ تو کوئی نگاہ غلط نہیں ڈال سکتا

لیکن جب چار میں سے صرف ایک حجاب کرئے گی تو سب سے پہلی انگلی ہی اس پر اس کی ساتھی دوست اٹھائے گی کیونکہ وہ خود یہ نہ کرسکی

اور پھر جس کی دنیا تنگ ہوتی ہے اسی کی تو جنت ہوتی ہے

کیونکہ جنت والوں کے لیے تو دنیا قید خانہ ہے

جی ہاں

نبی کریم صلی الله عليه وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے

تو کیا قید خانے میں کبھی کسی کو سکھ ملا ہے

ہم دنیاوی چند خوشیوں کے لیے آخرت کیوں خراب کرنا چاہتے ہیں

قرآن پاک میں آتا ہے:

“وہ جنہوں نے کہا  اپنے بھائیوں کو اور وہ خود بیٹھ گئے اگر وہ اطاعت کرتے ہماری  نہ وہ قتل کیے جاتے  کہہ دیجیے پس دور کرو  اپنے نفسوں سے موت کو اگر  ہو تم سچّے”

[Aal-e-‘Imran: 168]

 

سورہ الاعمران کی اس آیت 168 کا ایک الگ ہی مفہوم سمجھ آیا الحمدللہ ویسے تو قرآن پاک کی ہر آیت ہر دفعہ نئے پہلو سے روشناس کرواتی ہے آج اس آیت کو پڑھ کر بھی ایک بات سمجھ آئی یہ آیت جنگ بدر کے موقع پر نازل ہوئی تھی جس میں منافقین جنھوں نے جنگ میں جانے سے انکار کردیا تھا اپنے شہید ہونے والے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو وہ بھی ہماری طرح زندہ ہوتے جس پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر وہ کوئی ایسا اختیار رکھتے ہیں تو اپنی موت کو ٹال کر دکھائیں کیونکہ موت تو سب کو آنی ہے اور جب آنی ہے اور جہاں آنی ہے انسان خودبخود وہاں پہنچ جاتا ہے

میں یہ سوچ رہی تھی کہ ہم میں سے اکثر لڑکیاں اسلیے حجاب نہیں کرتی کہ گھروالے ناراض ہونگے اور گھر والوں کی ناراضگی کی وجہ کہ خاندان  والے  انگلیاں اٹھاتے ہیں سب سے پہلا جملہ ہی یہی ہوتا ہے کہ اب یہ شادی میں بھی منہ ڈھک کر بیٹھے گی بلاح بلاح

اور آخر میں بات سسرال کی آتی ہے جہاں اس بات کو اتنا ایشو بنا لیا جاتا ہے کیونکہ ہمارا سسرالی معاشرہ صرف لڑکی پر تنقید کے مواقع ڈھونڈتا ہے اور یہی کہا جاتا ہے ہمیں سب پتہ ہے ان پردے والی عورتوں کا پردے کی آڑ میں کیا کیا کرتی پھرتی ہیں ۔

خیر میں یہ سوچ رہی تھی کہ ہم اس دنیا اور اس کے مسئلے اور لوگوں کی باتیں سوچ کر اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بھول جاتے ہیں یا یاد رکھ کر بھی مجبوری کی نظر کر دیتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہونی چاہیئے۔

آپ خود سوچیں کیا جو لڑکی حجاب نہیں کرتی اس پر کوئی تنقید نہیں کرتا کیا اسی شادی میں جس میں حجاب والی لڑکی کو سنایا جاتا ہے وہی دوسری طرف یہ نہیں کہا جارہا ہوتا کہ کیسی لڑکی ہے شرم تو بیچ ہی دی ہے،یا ڈھنک سے ڈوپٹہ بھی نہیں لے سکتی

بیٹھنے کی تو تمیز ہی نہیں ہے۔

کیا وہ لڑکی جو برخا بھی نہ پہنتی ہو کجا کے حجاب اس کے سسرال میں کوئی مسئلے نہیں ہوتے یا اس کے خاندان والے اس پر طنز نہیں کرتے

تو بات صرف اتنی سی ہے کہ جب معاملہ دونوں طرف برابر ہے تو ہم اللہ تعالیٰ کی بات کیوں نہیں مانتے بھئی جب حجاب کئے بغیر بھی ایک لڑکی نے ساری جگہ باتیں ہی سننی ہیں طنز ہی سہنے ہیں تو کیوں نہ لوگوں کو چھوڑ کر رب کو راضی کرنے کے بارے میں سوچ لیا جائے جس میں فلاح ہی فلاح ہے

ناجانے کیوں ہم اس نہج پر نہیں سوچتےیا شاید یہ سب بوندے بہانے ہیں اصل میں تو ہمارا نفس ہے ہم اپنے نفس کے غلام ہے ہمیں خود کو یہ موڈرن لباس اور اٹھنا بیٹھنا پسند ہے ہمارے خود کے دل سے خوف خدا ختم ہے

باقی تو سب کمزور دلائل ہیں

جو بے وجہ ہیں۔

حجاب نہ کرنے والے ایک اور جملہ جو بڑے فخر سے کہتے ہیں وہ یہ کہ بندے کی نظر صاف ہونی چاہیئے

سب سے پہلی بات کہ پردہ صرف جسم کی حفاظت نہیں کرتا بلکے یہ عزت کی حفاظت کرتا ہے عورت کی عصمت کی لاج رکھتا ہے

اور دوسری بات کہ ہمیں کیا معلوم کہ سامنے والے کی نظر میں کیا ہے ہم کسی کے دل کا حال نہیں جانتے

اور پردہ کا اصل مقصد صرف  جسم ڈھانپنا نہیں ہے بلکے اس کا اصل مقصد تو فتنہ سے بچانا ہے

مسلمانوں کو صراط مستقیم سے شیطانی راہ اختیار کرنے سے بچانا

پردہ صرف ہم آج کل کے لوگوں کے لیے نہیں ہے بلکے یہ امہات المومنین نے بھی کیا جیسا کہ قرآن پاک کی آیت میں آتا ہے:

اے | نبی | کہہ دیجیے | اپنی بیویوں سے | اور اپنی بیٹیوں سے | اور عورتوں سے | مومنوں کی | کہ وہ لٹکالیں | اپنے اوپر | اپنی چادروں میں سے | یہ | قریب تر ہے  کہ | وہ پہچان لی جائیں | پھر نہ | وہ ایذا دی جائیں  اور ہے اللہ  بہت بخشنے والا | نہایت رحم کرنے والا

[Al-Ahzab:59]

کیا اس آیت کو پڑھ کر بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ نظر صاف ہونی چاہیئے آپ خود سوچیں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور جن پر نازل ہوئی تو کس کی نظر سے ان کو بچانا تھا صحابہ کرام کی نظروں سے 

اللہ اکبر کیا صحابہ کی نظریں بری تھی جو اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو پردے کا حکم دیا نہیں۔۔

نہیں ہر گز نہیں بلکے یہ مومن عورت کو پہچان ایک رتبہ عطاکیا گیا  تھا

کہا کبھی سوچا کہ کیوں روز ایک عورت کی عزت پامال ہوتی ہے کیوں روزانہ عورت کسی نہ کسی کی حوس کا شکار ہوتی ہے ٹی وی پر نیوز سن کر سب کو دکھ ہوتا ہے لیکن کبھی اس حادثے کے رونما ہونے کی وجہ دریافت کی

کیا آج کی عورت خود دعوت نظارہ نہیں بنی پھرتی

ہم آجکل کی عورتیں بولڈنیس بولڈنیس کے نعرے لگاتی اپنی قدر کھوتی جارہی ہیں

مجھے لگتا ہے اب ایک عورت کو اپنا سٹینڈرڈ بنا لینا چاہئے کہ کوئی جب اس سے بات کریں تو اس کی نظریں خود بخود جھک جائیں، وہ کہیں سے گزرے تو لوگوں کو اس کی ہیل کی ٹک ٹک یا پرفیوم کی خوشبو فتنہ میں نہ ڈالے، اس کے گھر اس کے کمرے میں آنے سے پہلے کوئی سو بار اجازت طلب کی جائے  ہاں ہم عورتوں کو اب اپنا سٹینڈرڈ بنا لینا چاہیے

یہ سٹینڈرڈ نہیں ہے کہ ہم بڑی سی گاڑی میں جینس کرتا پہن کر اتریں اور بڑے شوپنگ مال میں شاپنگ کم اور خود کی زیادہ اشتہارکاری کریں

اسٹینڈرڈ تو وہ ہے کہ آپ چاہے بڑی گاڑی سے اتریں یا چھوٹے رکشے سے آپ کی آمد نامحرموں کے سر جھکا دےاور یقین کریں یہ مشکل نہیں ہے یہ مختلف ہے

تو خود کو مختلف بنا لیں لیڈیز

ہم مردوں کی برابری کرنے میں اپنا

Gender

تک بھولتے جارہے ہیں

عورت کا اصل مقام ا سکا گھر ہے ہاں بوقت ضرورت نکلا جاسکتا ہے نوکری کی جاسکتی ہے لیکن حدود کی پاسداری اولین ہے

یہ جو آجکل کی نسل شوقیہ نوکری کرتی اور سڑکوں پر پھرتی نظر آتی ہے اور اس کو وہ آزادی کا نام دیتی ہے

تو یہ آزادی نہیں بدترین قید ہے

کیونکہ نفس کی قید سب سے بری ہے

انسان کو سب ہونا چاہیے لیکن نفس کا غلام نہیں یہ نفس کی غلامی آدمی کو قبر اور پھر جہنم تک لے جاتی ہے واللہ اعالم

زندگی کا کام چلنا ہے یہ چلتی رہے گی یہ گاڑی رکتی نہیں ہے پھر چاہے آپ اس میں نافرمان بنے یا فرمانبردار اس نے گزر جانا ہے اصل فیصلہ تو روز آخر ہے یہ دن تو امتحان کے ہیں

مومن بننے کے لیے دل کو مارنا پڑتا ہے دل کو مارے  بغیر نور نہیں ملتا اور پھر روشنی کی تلاش میں اندھیروں میں تو جانا پڑتا ہے جبھی کوئی چراغ روشن ملتا ہے

 

تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے زندگی گزارے یہ دنیا اس کے لوگ نہ کل خوش تھے،نہ آج خوش ہیں اور نہ کل خوش ہونگے

جبکہ ہمارے اللہ تعالیٰ کل بھی ہمارے منتظر تھے،آج بھی ہیں اور کل بھی ہونگے۔

ہمیں بس ایک قدم بڑھانا ہے نماز کی طرف قرآن پاک کی طرف ،حجابی مسلمہ بننے کہ طرف،۔

گھر والوں کی ناراضگی سے نہ گھبرایا کرہں انھیں وقت دیا کریں وہ اگر آج آپکے حجاب سے ناراض ہیں تو  کل مان جائیں گے کہ جو بات آپ کو اور مجھے ایک عر صے میں سمجھ آئی ہے  انھیں ہماری دو گھنٹے کی بحث نہیں سمجھا سکتی۔

آخر میں یہی کہونگی کہ زندگی کو اللہ کے لیے گزاریں کہ وہی اصل خالق و مالک ہے باقی سب تو مٹی کا ڈھیر ہے

وہ ذات اس لائق ہے کہ اس کی سنی جائے اس پر عمل کیا جائے

At The End All best of Luck my HIJABI MUSLIM GIRLS

صبر اور برداشت کے ساتھ

ثابت قدم رہیں کہ یہی کامیابی کی کنجی ہے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک ہدایت دے اور ہمیں صراط مستقیم پر چلنے والا سچا اور پکا مسلمان بنائے آمین ثم آمین۔

جزاکم الله خیراً و کثیراً

السلام و علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Check Also
Close
Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.