Afsanay

Hamara Palestine

Afsana

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم

خون جو مجھ میں ٹھاٹھے مارتا کنارے سے جھلکنے لگے گا

جو دشمنِ جان پر گرا تونقشہ ان کا پھر دنیا سے مٹنے لگے گا

شور اس ڈبے نما کمرے میں  تھا پر  خاموشی اس کو گھیرے ہوئے تھی جیسے جھیل میں کسی قیدی کو زنجیروں سے جکڑ رکھا ہو۔ اس کی آنکھوں کو لوگوں کا  وجود نظر ہی کہا ں آ رہا تھا۔ وہ تو کھوئی تھی ان کہانیوں میں جس نے اس کے دل کو زخم زدہ کر رکھا تھا۔ کتنی تیاری کی تھی اس نے آج کے دن کی اور کتنی کروائی گئی تھی اس سے لیکن کیا اس نے سچ میں تیاری کی تھی وہی جو اسے کروائی گئی تھی ۔

شفق یہ لو پانی۔  عبایہ ذیب تن کیے لاریب جو کافی دیر سے ہجوم سے لڑتی آخر پانی لانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی۔

مجھے نہیں پینا۔ شفق نے سنجیدگی سے کہا۔

لاریب کا اس کے انکار سے منہ کھلا رہ گیا، اس کی کی گئی جدوجہد ،خیر وہ آج اس  سے ضد نہیں کرنا چاہتی تھی۔

شفق اور لاریب بہت پرانی تو نہیں لیکن جب سے دونوں نے سیم کالج میں ایڈمیشن لیا تھا اچھی دوست بن چکی تھیں۔ لاریب ہی تھی جو شفق کو اچھے سے جانتی تھی اور جس سے شفق بنا ہچکچائے ہر بات کر لیتی تھی یہی تو  دوستی ہوتی ہے۔

شفق۔۔لاریب نے اس کا ہاتھ اپنے دونو ں ہاتھو ں کے درمیان لیا تو اس نے ایک پل کو نگاہ اس کی جانب کی۔

شفق مجھے ڈر لگ رہا ہے، کیا یہ ٹھیک ہے جو تم کرنے جا رہی ہو۔ ڈر لاریب کی آنکھوں میں تھا جو شفق اس دن سے ہی دیکھ رہی تھی جب سے اپنے دل کی سنتے شفق نے بہت سی تبدیلیاں اپنے عنوان میں لائی تھیں یا یہ کہوں عنوان ہی بدل دیا تھا۔

کیا تمہیں لگتا ہے یہ غلط ہے لاریب۔ شفق نے ایک سوالیہ نگاہ اس پر ڈالی۔

نہیں، غلط نہیں ہے اسی لئے تو ڈر لگ رہا ہے۔ تم جانتی تو ہو اس دنیا میں ہر اس آواز کو دبا دیا جاتا ہے جو سچ ہو۔ مجھے فکر ہے تمہاری۔

مجھے بھی ڈر لگ رہا ہے اس لئے نہیں کہ سچ بولا تو میرا انجام کیا ہو گا۔ میری للکار مجھ پر کیا اثر مرتب کرے گی۔ ڈر لگ رہا ہے مجھے اپنے خاموش ہونے سے، کہیں میں وہ نہ کہہ سکی جو مجھے کہنا ہے۔ ظلم کرنے سے بڑا گناہ خاموش رہنا ہے۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے اپنے گناہ گار ہونے سے۔ شفق نے  کہتے آنکھ میچ لی تھی۔

ڈرو نہیں پیاری شفق، میری شفق بہت بہادر ہے وہ سب کی روحیں جھنجوڑ دینے کا ہنر رکھتی ہے اور تم آج بھی یہ کر لوگی مجھے تم پر یقین ہے۔ لاریب نے اس کی ٹھوڈی کو اپنی دو انگلیوں سے ہلاتے کہا تو شفق ہنس دی ۔

جب کوئی مشکل آئے آپکا ساتھ دینے والا آپ پر خود سے زیادہ یقین کرنے والا، آپ کو پریشانی کی دنیا سے ہاتھ پکڑ کر نکال لانے والا، جب آپ خود کو کمزور سمجنے لگیں تو آپ کو سب سے طاقت ور بنانے والا، آپ کو آپکی غلطیاں بتانے والا، ان کی اصلاح کرنے والا آپ کو آپ سے زیادہ جاننے والا ایک دوست ہی تو ہوتا ہے۔ شفق کے لیے لاریب کچھ ایسی ہی تو ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ  کھڑے رہنا یہی ان کی پہچان تھی وہ کالج ہو یا گھر ۔

  کچھ اس طرح دوستی کا رشتہ نبھایا جاۓ

  کہ  تیری میری  دوستی کے صدقے اتاریں جائے

جلد از جلد سب پارٹیسپینٹ روم نمبر 12 میں اکھٹے ہو جائیں۔  اناؤنسمینٹ ہو چکی تھی۔ شفق نے لاریب کی طرف دیکھا۔

شفق یاد رکھنا سب سے پہلے تمہارے ساتھ اللّه ہے، اس کے بعد ہر وہ شخص جو تم سے محبت کرتا ہے اور اس فہرست میں تم مجھے ہمیشہ اوّل پاؤ گی۔ شفق نے لاریب کو گلے سے لگایا اور ویٹنگ روم سے اب وہ اپنی منزل کی طرف بڑھ گئی۔ اور لاریب نے بھی رخ اوڈئینس ایریا کی طرف کیا۔

شفق  روم نمبر 12  میں پہنچی جہاں پہلے سے ہی بہت سے پارٹیسپینٹ تھے جو اپنی قابلیت کا جوہر دکھانے آئے تھے لیکن شفق تو یہاں بس اپنا مدعا بیان کرنے آئی تھی۔

یکے بعد دیگرے سب اسٹیج پر جا چکے تھے جن کی سپیچ کو کافی سراہا بھی گیا تھا۔ اوڈئینس نے ہر ایک کے لئے بھرپور تالیاں بجائیں تھیں۔

اب مائیک میں شفق کا نام گونج رہا تھا۔ شفق نے ایک گہرا سانس باہر نکالا اور خود کو اسٹیج پر جانے کو تیار کیا۔

لاریب کی نگاہیں اسی کو تلاش کر رہی تھیں۔ شفق کے اسٹیج پر آتے ہی اس نے ہوا میں اپنا انگوٹھا ڈن میں لہرایا جو شفق کے لیے اس بات کا اشارہ تھا کا تم کر سکتی ہو جسے دیکھ کر شفق کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ ئی۔

آنکھیں بند کر کےکھولیں، سانس خارج کیا چہرے پر مسکراہٹ پھیلائے اب وہ اپنے الفاظ سب کے سامنے بلند کرنے کو تیار تھی۔

  ٹیچرز ، پرنسپل صاحبان ، تمام پولیٹیکل لیڑرز اور حاضرینِ محفل کو میرا تہہِ دل سے سلام۔

    شفق کے کہتے ہی وہاں وعلیکم السلام  کی آوازیں ایک ساتھ گونجی۔

    میرا نام شفق علی ہے اور یہاں آپ سب کے سامنے اپنے عنوان “ہمارا فلسطین” پر حقیر سے کچھ جملے کہنے آ ئی ہوں۔

بلند کروں گی آواز اپنی سرِ محفل حاضرین

مجھے  فلسطین کے لئے تمہیں للکارنا ہوگا

 ہمارا فلسطین، میڈم اس کا عنوان تو”امن پسند پاکستان” تھا۔ یہ کیا بول رہی ہے۔ ایک عورت نے سنتے ہی  ساتھ کھڑی عورت کو بولا یقیناً دونوں شفق کی ٹیچرز تھیں جنہوں نے اس کی سپیچ کی تیاری کروائی تھی۔

  میں رجیکٹ کرواتی ہوں اس کی سپیچ. رکو کرنے دو میں اسے اچھے سے جانتی ہوں۔ تمہیں اس کا ولولہ نظر نہیں آتا، جوش دیکھو یہ تو طہ ہے وہ یہاں فقط سپیچ دینے نہیں آ ئی۔ بس سنتی جاؤ۔ ایک مسکراہٹ ان کے چہرے پر آ ئی تھی اب کون جانتا ہے شفق کو عنوان کی تبدیلی کی رضا مندی دینے میں اس کے دل کے علاوہ بھی کسی کی دلی خوائش شامل تھی۔

 جی بلکل سہی سنا آپ کے کانوں نے میں نے ابھی “فلسطین” کا ذکر ہی کیا ہے۔ سب سے پہلے کیوں نہ کچھ پیچھے کی کہانی یاد کروائی جاۓ۔

 میں آغاز کروں گی فلسطینی مسئلے کے حقائق اور  پس منظر سے۔ جیسے کہ ہم جانتے ہیں برطانوی مینڈیٹ میں آنے سے پہلے فلسطین سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ 1917 میں لارڑ آرتھر بلفور سلطنتِ برطانیہ کے وزیر خارجہ تھے۔ ان کو اس بات کا یقین تھا کہ وہ عالمی جنگ میں فتح حاصل کر لیں گے۔ لارڑ آرتھر نے ایک برطانوی صہیونی لیڈر مسڑ والٹر کو خط لکھا جس میں “فلسطین یہودی لوگوں کی ریاست کے بارے میں مثبت خیالات رکھتی ہے” لکھا تھا۔ کہتے شفق کے لہجے میں  افسردگی سی تھی۔ سانس بحال کرتی اس نے دوبارہ بولنا شروع کیا ۔

 جب خط لکھا گیا تب فلسطین ترک سلطنت کا حصہ تھا البتہ برطانیہ چوہدری تھا ادھر ترکی اور یورپ کا مرد بیمار بن چکا تھا ۔صاف ہے شکاری کا اب  شکار دبوچنہ اب اور بھی آسان ہو گیا تھا ۔

 خیر کیا آپ کو معلوم ہے یہودی اور صہیونی میں کیا فرق ہے۔ شفق نے سوال کیا  اور جواب کے انتظار میں خاموش ہوئی۔ توقع کے مطابق سب ایسے خاموش تھے  جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔

 جواب نہ ملنے پر شفق نے پھر جملہ ترتیب دیا۔

 کوئی بات نہیں میں بتاتی ہوں ،صہیونی تحریک تھی جو انیسویں صدی (اواخر) میں  یورپ میں شروع ہوئی۔ یہ تو انتہا پسند یہودی  تھے جو اپنی الگ  ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔ جہاں کسی اور  مذہب کا باشندہ رہائش پذیر نہ ہو۔ باعثِ غور ہے یہ بات کہ ہر یہودی صہیونی نہیں ہوتا۔

 فلسطین میں صدیوں سے تینوں  ادیان اسلام ،عیسائیت اور یہودیت کے پیروکار امن وآشتنی کی فضا میں رہا کرتے تھے۔ خلیفہ  دوم سیدنا عمر فاروق ؓ نے یروشلم فتح کیا اس وقت مسلمانوں کا قبلہ اول بھی یہاں تھا۔ فتح کے بعد نماز پڑھنے کے لئے کوئی مناسب جگہ نہیں تھی تب عیسائیوں نے آپ ؓ کو کلیسا میں نماز ادا کرنے کی پیشکش کی جسے آپ ؓ نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ اگر میں کلیسا میں نماز ادا کروں گا تو دوسرے مسلمان بھی میری پیروی کریں گے اور آہستہ آہستہ اپکی جائے عبادت آپ کے پاس نہیں رہے گی۔ اسکی رواداری بیشک اسلام میں اہم حثیت رکھتی ہے۔

 شفق پر اعتمادی سے ہر الفاظ ادا کر رہی تھی اور ادھر اوڈئینس میں بیٹھی لاریب بہت خوش تھی، کیوں نہ ہوتی لاریب کی توقح کے عین مطابق شفق اسٹیج پر دھواں دار پرفارمنس دے رہی تھی۔

   1917 کو فلسطین میں یہودیوں کی آبادی ٹوٹل آبادی کا سات فیصد تھی، عیسائی دس اشاریہ پانچ فیصد تھے جب کہ  مسلمان بیاسی فیصد تھے اس لیا تب یہ صہیونی تحریک مقبول نہ ہو سکی لیکن اس کہ برعکس یہودی وہاں تمام حقوق کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے ۔

     اب  ذرا ذکر کرتی ہوں ہٹلر کا۔ دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلر نے یہودی آبادی پر ظلم ڈھائے تو برطانیہ اور باقی ان کی اتحادی ممالک میں ہمدردی کا کیڑا پھدکنے لگا۔ ہٹلر نے کہا تھا اس وقت :

       میں چاہتا تو دنیا کے تمام یہودیوں کو ختم کر سکتا تھا  مگر کچھ یہودی میں نے اس لیے چھوڑ دیے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ میں نے ان کے ساتھی یہودیوں کو کیوں قتل کیا۔

         ہٹلر کی دور اندیشی کو سلام ۔۔ آخر آج ہمہیں علم ہو ہی گیا۔

           ایک اور بات ہٹلر کی بتانا چاہوں گی :ایسا شخص جسے تاریخ کا کچھ علم نہیں وہ ایسا ہی انسان ہے جس کا کان اور  آنکھیں نہیں”

             الفاظ کچھ اوپر نیچے ہوگئے ہوں تو معذرت۔ سینے پر ہاتھ رکھتے اس نے احتراماً کہا۔

               میں اپنی پوری  کوشش کر رہی ہوں کہ کم از کم آپ اپنی سماعت اور  بینائی کو کھونے سے بچ جائیں۔خیر آگے بڑھتے ہیں.

                 شاہ فیصل مرحوم کی ایک بات مجھے یاد آ گئی۔ وہ فرماتے ہیں یہودیوں پر ستم جرمنوں نے ڈھائے مگر قیمت عربیوں کو ادا کرنا پڑی۔

                   نومبر 1947 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی پارٹیشن کی قرار دار پاس کی جس کے مطابق فلسطین میں عرب اور یہودی ریاستوں کے قیام کے ساتھ ساتھ یروشلم  کے شہر کے لیے انٹرنیشنل کنٹرول کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ عربوں نے اس کو مسترد کیا جب کہ فلسطین نے قبول کیا جس سے یہودیوں کی آبادی یہاں بڑھنے لگی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 1948 کو اسرائیل بنا۔ عرب ممالک اور اسرائیل کی جنگ ہوئی تو عرب لیڈرز کہا کرتے تھے اسرائیل بنا تو ہم اسے اٹھا کر پانی میں پھینک دیں گے لیکن ہوا کیا جنگ میں عربوں کو شکست ہوئی پھر ہوا مسلمان کی تباہی کا آغاز۔ مجھے ہمارے قائد کی بات یاد آ گئی انہوں نے کہا تھا اگر مجھے کٹا پھٹا پاکستان بھی ملا تو میں قبول کر لوں گا۔کبھی کبھی میں سوچتی ہوں اگر پاکستان آزاد نہ ہوا ہوتا تو ہمارا حال بھی انڈیا میں موجود مسلمانوں اور فلسطین میں موجود ہمارے بہن بھائیوں جیسا ہوتا نہ میں آپ کے سامنے کھڑی تقریر کر رہی ہوتی نہ ہی آپ خاموشی سے  فلسطین میں ہونے والی خون ریزی کو اپنی آرام گاہ میں بیٹھے سکون سے دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں پھیر لیتے۔

                     شفق کی اس بات نے وہاں بیٹھے لوگوں کو آخر  نظریں جھکانے پر مجبور کر ہی دیا تھا۔

                       فلسطین کا مسئلہ ہماری سوچ کہ مطابق اسلام اور  یہودیت کا ہے اور یہ سچ بھی ہے لیکن جیسے میں نے تاریخ کو آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کی مجھے لگتا ہے یہ انسانیت اور  صہیونیت کے درمیان جنگ ہے اور اس میں ہر اس شخص کو جہادی بننا چاہیے جس میں رائی کے دانے جتنی بھی انسانیت باقی ہے۔فلسطین کی زمین پر ہر سو زندگی اور موت  کا کھیل روز کھیلا جا رہا ہے۔ انسانیت خون میں نہا رہی ہے اور  ہم خاموش تماشائی بنے دیکھ رہے ہیں۔

                         صلاح الدین ایوبی نے کہا، مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے فلسطین ہمیشہ خون میں ہی ڈوبا رہے گا۔ ایک آنسوں شفق کی آنکھ سے بہہ نکلا تھا جسے اس نے بہنے دیا۔ دل کی زمین کی  دراڑوں کو گیلا کر کے وہ اسے بند کرنے کی  جدوجہد ہی تو کر رہی تھی ایک مدت سے۔

                           آج پھر سے ہمارے وہ بہن بھائی صلاح الدین ایوبی کو پکار رہے ہیں لیکن کون ان کو سمجھا ئے آج کے دور میں صلاح الدین ایوبی جیسے مرد ماوں نے پیدا کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔

                             فلسطین کے ایک بوسیدہ گھر کی ایک دیوار پر وہ الفاظ

                               Dear world:

                                 We don’t need sympathy

                                   We need action.

                                   یہ چھوٹی سی لائن  ہمارے چہرے پر زور دار طماچہ ہے ہم مسلم ممالک کیا کر رہے ہیں چار دن سڑکوں پر نکلے ،

                                   فلسطین فلسطین کہا اور جا اے سی میں سو گئے۔

                                   فلسطین مارچ ہوا لاہور اسلام آباد اور کئی شہروں میں لوگ باہر نکلے بس ایک سوال ہے میرا کہاں ہے اب وہ سب، کہا ں ہے، کیا آزاد ہو گیا فلسطین۔۔

                                   ایک طنزیہ مسکراہٹ شفق کے چہرے پر آئی۔

                                   کہاں ہے ہمارا آزاد فلسطین وہی اسی حالت میں، خیر میں بھی کیا پوچھ بیٹھی کشمیر بنے گا پاکستان کہتے کہتے  ایک مدت ہو گئی آج تک اس ہمدردی پر میں نے کشمیر سے فقط خون کی ندیاں ہی بہتی دیکھی ہیں۔

                                   اسرائیل بہت کوشش کر رہا ہے بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی بنانے کی ہم کیا کوشش کر رہے ہیں۔ 57 اسلامک ممالک کے حکمران اور فوجیں منہ میں دہی جمائے تماشا دیکھ رہے ہیں، افسوس ۔

                                   القرآن :سورت النساء آیت نمبر  75 ترجمہ :

                                   “آخر کیا وجہ ہے کہ تم کو اللّه کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور  بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور ہونے کی وجہ سے دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں خدایا، تو ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا حامی و مددگار پیدا کر دے “

                                   صلاح الدین ایوبی جب فلسطین آزاد کرنے نکلے تب دنیا بھر کی عیسائی قوتیں متحد ہو گئی تو ان کے مشیروں نے مشورہ دیا ابھی حملہ نہ کیا جاۓ شکست کا خطرہ ہے۔ جانتے ہیں انہوں نے کیا جواب دیا۔

                                   انہوں نے کہا: یہی تو بہترین وقت ہے انہیں اکھٹا تباہ کرنے کا ورنہ ایک ایک کو کہا ں تلاش کرتا پھیروں گا۔

                                   کیا بہادر انسان تھے وہ، یوں ہی نہیں مسجدِ اقصی سے پھر سے صلاح الدین ایوبی  کو مانگا جا رہا ہے۔

جانتے ہیں صلاح الدین ایوبی فرماتے ہیں :

مجھے اللّه تعالی سے حیا آتی ہے کہ مسجد اقصی اسیر ہو اور میں مسکراتا پھروں۔

لیکن ہم وہ غیرت مند ہیں جن کی غیرت اپنے مفاد پر جاگتی ہے۔ کوئی ہماری بہن، بیٹی، ماں، بیوی کی طرف  آنکھ بھی  اٹھائے  تو مارنے کو لاٹھیاں اٹھا لاتے ہیں،  اب کہاں ہے آپ کی غیرت جب فلسطین میں ہماری بہن بیٹیوں کو گھٹنوں تلے دے کر زمین سے لگایا جا رہا ہے۔ آنکھیں شاید اپنی بینائی کھوتی جا رہی ہیں۔ انسانیت کی عینک بنوانے میں نہ جانے اور کتنا وقت درکار ہے ہمیں۔

جانتے ہیں آپ سب اسرائیل آج کامیاب کیوں ہے ۔

sorry to say

لیکن وہ سچ میں آج کامیاب ہے۔

اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم بن گوریان  نے ایک بہت بڑی بات کہی تھی جب اس کی بیٹی نے اسے یاد دلوایا دیوارِ گریہ (lwailing wall) میں سالانہ دعا کا دن ہے۔ تو اس نے کہا آج مجھے کچھ اہم ریاستی اموار نمٹانے ہیں۔ جس پر اس کی بیٹی نے  اس سے پوچھا :

سالانہ دعا سے بھی کوئی ضروری کام ہو سکتا ہے ؟

تب بن گوریان نے ایک تاریخی جواب دیا جو مجھے لگتا ہے اگر ہمیں سمجھ آ  جاتا تو آج ان حالات سے دو چار ہونا ہمارا مقدر نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا :

اگر صرف دعا سے کام ہوتے تو تمام عرب اور مسلمان حج کے اتنے بڑے اجتماع میں ہر سال اسرائیل کی تباہی کی دعا کرتے ہیں لیکن عمل سے عاری ہیں جب کے نتیجہ تمہارے سامنے ہے عرب اور مسلمان کس حال میں ہیں اور یہودی ریاستیں دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے ۔

سہی کہا تھا اس نے اگر صرف دعا سے کام بن جاتا تو اسلام میں مسلمانوں نے نہ تو غزوہ بدر لڑی ہوتی نہ ہی

غزوہ احد اور نہ ہی غزوہ خندق جیسی جنگیں اسلامی تاریخ کا حصہ ہوتی .

کیوں بھول گئے ہم اقبال کے وہ الفاظ :

عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

یہ الفاظ اقبال نے جانتے ہیں کہاں سے لئے ہیں چلیں میں آپ کو اقبال کے ان الفاظ کی آج بنیاد بتاتی ہوں ۔ یہ الفاظ ہمارے اقبال نے قرآن سے لیے ہیں۔

قرآن پاک کی سورة النجم آیت نمبر 39 ترجمہ :

اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے۔

عمل ہی انسان کو اپنی  زندگی میں کامیاب، خوش گوار اور پر آشوب بنا سکتا ہے۔ اور ہم کیا چاہتے ہیں ، ہم چاہتے ہیں منہ میں نوالہ بھی بنا محنت سے پہنچ جاۓ۔میرا ہماری اس حالت پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔

شفق نے پل بھر کو اپنی ذات کو خاموش کر دیا تھا شاید اس نے وہاں بیٹھے لوگوں کو اپنی ذات جھنجوڑنے کا وقت دیا تھا۔ حال میں اس وقت اتنی خاموشی تھی کہ ہوا کی ہلکی سی سر سراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ نظریں جھکائے ہر بندہ  کہیں کھویا سا لگ رہا تھا شاید شفق کے الفاظوں نے ان کے اندر ہلچل مچا دی تھی۔

ہم جب اپنے گھر کا ایک شخص کھو دیتے ہیں تو اس کے دکھ میں چینختے چلاتے ہیں ایک مدت گزر جانے پر بھی اسے بھول نہیں پاتے دکھ ہونے پر رونے لگتے ہیں۔

کبھی سوچا ہے۔just imagine Guyz

وہ چھوٹا سا بچہ چینختا، روتا، غصہ میں، جوش میں آتے کتنے تلخ الفاظ بول گیا:

We lose our Familes everyday.

ایک عورت نے کہا: میں روز اپنے بچو ں کو ایک کمرے میں ایک ساتھ سلاتی ہوں اور خود بھی ان کے ہمراہ سو جاتی ہوں کہ اگر اسرائیل پھر سے بمباری کرے تو ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کا جنازہ دیکھنے کو زندہ نہ ہو۔

ہمیں ہلکی سی چوٹ لگ جاۓ نہ تو ہماری مائیں نہ جانے کیا کیا کرتی ہیں اس ماں کا درد سمجنے سے کیوں قاصر ہیں ہم، کیوں۔

وہ پیاری بچیاں جن کو دیکھ کر پیار آتا ہے ننھے ننھے خوبصورت بچے شہید ہو رہے ہیں ان کے جسم کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں سوچو ان ماؤں کا جنہیں روز اپنے لختِ جگر  اپنے ہاتھوں سے مٹی میں اتارنے پڑتے ہیں۔

وہ دس سالہ بچی اپنی بے بسی ساری دنیا کو سنا رہی ہے  کہتی ہے میں روز اپنے بہن بھائیو ں کو اپنے سامنے مرتا دیکھتی ہوں میں صرف دس سال کی ہوں مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں میں ابھی صرف دس سال کی ہوں۔

میں اسے کیسے سمجاؤں کہ وہ کس سے درخواست کر رہی ہے مدد کی۔ جو مولوی امن کی بات کرتے ہیں وہ جہاد کی باتیں کہاں کیا کرتے ہیں۔ جہاد کے لئے ہزار قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ کوئی دوسرا کون ہوتا ہے ہمیں یہ بتانے والا کہ کافروں کے ساتھ کیا کرنا ہے جب ہمارے رسول اللّه نے فرما دیا ہے کہ کافروں کے خلاف جہاد کیا جاۓ تو بات تو یہیں ختم ہو جاتی ہے۔

وہ کتنے حسین الفاظ ہیں نہ یہ  :

ہمتِ مرداں مددِ خدا ۔۔

اٹھنا ہو گا کچھ تو کرنا ہو گا۔

فلسطین کے مظاہروں میں کئی بار ہماری فوج کو پکارا گیا۔

Pakistan Army we need you.

Pakistan Army we need you.

Pakistan zindabad

Pakistan Army we need you.

یہ الفاظ فضا میں گونجے اور وہیں مردہ ہو گئے۔ کیوں؟کیوں law and order کے پابند ہیں ہم۔ جب تک آرڈر نہیں آئے گا بندوقیں زنگ آلود ہی رہیں گی۔ جیسے اب تک کشمیر پکارتا رہا اب فلسطین پکار رہا ہے لیکن ہم تو بہرے ہیں سماعت سے عاری، ہمارے کانوں کو کہاں سنائی دے گی انکی چینخیں اور پکاریں۔

آخر اٹھانے ہی پڑے ہاتھوں میں ہتھیار ہماری فلسطینی بہنوں، بیٹیوں کو۔ اپنی سروں کی چادروں کو آخر  کب تک مٹی میں مٹی ہونے دیتی۔ ہاتھوں سے  چوڑیاں نکال کر دوپٹوں کو کفن کی طرح سر پر باندھ لیا ہے۔ گرفتار ہوتی ہیں تو چہروں پر فتح کی رونق نظر آتی ہیں۔ ان عورتوں کی نسوانیت تب تک مردہ نہیں ہوگی جب تک مردوں میں مردانگی زندہ نہیں ہو گی۔ آج ہم کتنا بھی کہیں Feministic society ہو گی ہے لیکن میں اسے نہیں مانوں گی عورت کو ہمیشہ  مرد کے ساتھ کی ضرورت  رہتی ہے نہ ہوتی تو اسے عورت کا سرپرست نہ بنایا ہوتا۔

ہم تب آزاد ہو گیں جب ہمارے مرد بہادر بنیں گے۔ لیکن آج کل کیا کرتا پھر رہا ہے ہمارا مرد۔social media کے اس دور میں میڈیا کو اور اپنی ذات کو مزاق بنا دیا ہے۔ facebook,instagram, اور اس جیسی بہت سی سوشل ایپس کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن جانتے ہیں کس لیے انتہائی افسوس سے کہوں گی اپنے نفس کو مطمئن کرنے کا لیے۔ مجھے  اس سے پیار ہو گیا، وہ مجھے چاہیے۔ لڑکے اور لڑکیاں ان ایپس پر کنٹیکٹ کرتے ہیں اور نفس کو مطمئن کرنے کا کاروبار سبز کیا جا رہا ہے۔ ایک نہیں تو دوسری، دوسری نہیں تو تیسری ایک کے بعد ایک صرف مرد ہی نہیں عورتیں بھی اس میں ان کے شانہ بشانہ اپنا حصہ ادا کر رہی ہیں۔ ہمیں مینٹلی طور پر کمزور کرنا ان یہودیوں کا پہلا منصوبہ تھا۔ انہوں نے ہمیں اپنا عادی کر دیا ہے۔ یہ اپپس انہی کی بنائی گئی ہیں لیکن افسوس ترقی کی راہ میں ان کے استعمال کے بخیر کامیاب ہونا نہ ممکن بنا دیا گیا ہے۔ ہزارو ں پروڈکٹز جو ہم روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں وہ بھی اسی کی بنائی گئی ہیں اور ہم جانے انجانے میں ان کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔ معذرت کے ساتھ ہم سب ہی یہ سب استعمال کر کہ ہم انھیں جنگی ہتھیار خریدنے کے لیے رقم  دے رہے ہیں۔ اور کچھ نہیں کم سے کم یہ نہ خرید کر انکو نقصان تو پہنچا ہی سکتے ہیں کچھ تو ہو گا۔ جس ملک کی  معیشت کمزور ہو وہ ملک بھی کمزور ہوتا ہے یہ باتیں ہم سب ہی جانتے ہیں مجھے  بار بار بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

تمہیں سکھ تک لے جانے تک

اپنی جان  تک لوٹا دوں تو

فلسطین کو آزاد بنانے تک

اپنی سانس تک  مٹا دوں تو

تمہیں ہنسی سے ہمکنار کروانے تک

اپنی آخری حد ہمت کی  آزما لوں تو

ہتھیار ہاتھوں میں اٹھانے تک

چوڑی ہاتھوں سے اتار دوں تو

سر پر سفید کفن باندھنے تک

جوڑا لال دلہن کا اتار دوں تو

ذرخیز زمین فلسطین کی کرنے تک

ندیاں دشمنوں کے خون سے بھر دوں تو

اپنے بچو ں کو مسکراہٹ دینے تک

ان ظالموں کی  گردن اتار دوں تو

للکار عربوں کی بلند ہونے تک

خود کو شیرنی بنا دوں تو

اندھیرے ذاتِ آدم کے مٹنے تک

خود ہی دیا جلا دوں تو

 اب نئی تاریخ دنیا کی بنانے  تک

 قلم خون سے بھر کے لکھ دوں تو

  قلم خون سے بھر کے لکھ دوں تو کہتے ہی آنسو شفق کی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے وہاں صرف شفق ہی نہیں تھی جس کی آنکھیں نم تھیں سامنے بیٹھا ہر شخص غمذدہ لگ رہا تھا۔

 فلسطین کے بچے خوف و حراص سے دو چار ہیں۔صدموں نے ان کی آوازیں چھین لی ہیں۔ کیا وہ یہ سب دیکھنے کو دنیا میں آئے ہیں۔ یہ تو چلو دنیا میں آچکے ہیں اس نا شیزہ  بچے کا کیا قصور تھا جو اپنی ماں کی آغوش  میں تھا ابھی اس دنیا کی حیوانیت کو کیا دیکھتا ان ظالموں نے اسے اس کی ماں کی محفوظ کوکھ میں ہی شہید کر دیا۔ اور ان شیطان صفت کافروں نے بڑی بہادری سے نعرے لگائے تھے :

  One shot Two kills.

   One shot Two kills.

 ہائے میرے اللّه، ظالم کو کب تک اتنی آزادی دے گا کہ تیرے سامنے تیرے بندوں کی جانوں پر عذاب ڈھائیں۔ آخر کب تک میرے مولا آخر کب تک ان کی لاشیں ہمیں دیکھنی ہوں گی۔ یہ معصوموں کے بہتےخون کے فوارے آخر کب تک، آخر کب تک۔ کب کھینچیں گے آپ ان ظالموں کی رسی۔ کب ملے گا صبر کا پھل۔

  اب شفق دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔ اس کے رونے کی آوازیں سارے حال میں گونج رہی تھیں کوئی اسے چپ کروانے والا بھی نہیں تھا، ہوتا بھی کیسے اس کے الفاظوں نے سب کو اپنی نشستوں پر جما سا دیا تھا۔

 داستان خون کی جب  سنائی گئی

  تب جا کرحواس باختہِ جہاں ہوئے

تالیاں بجنا شرو ع ہوئی تو روتی شفق پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔

تالیاں، تالیاں کیوں، مت بجائیں یہ تالیاں۔ شفق کی جوشیلی رعب دار آواز نے پھر حال  میں پن ڈراپ سائیلنس کر دی۔

آپ سب تالیاں کیوں بجا رہے ہیں یہ کوئی تقریر نہیں تھی یہ میرے دل کی آواز تھی آپ تالیاں بجا کر اس کا مذاق مٹ بنائیں۔ نہ ہی میں یہاں کسی ایوارڈ کے لیے آئی تھی، یہاں نہ ہی اپنی تعریف کے نعرے سنانا چاہتی ہوں میں۔ یہ  تالیاں مجھے ہجروں سی محسوس ہوتی ہیں  مت بجائیں خدا را۔

کچھ کرنا ہے تو فلسطین کے لیے کچھ کریں۔ میں نہیں جانتی مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں جو کر سکتی ہوں، کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔

تالیاں بجا کر آپ سب غائب ہو جائیں گے کیا اس کا کوئی فائدہ ہے نہیں۔ مجھے رسپانس چاہیے۔ میں بھی وہی الفاظ کہنا چاہتی ہوں۔

I don’t need your sympathy.

 I need action.

  Please take steps for palestein

   Please.

آج میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں میں کون ہوں۔

  میرے والد ایک شہید ہیں، کارگل کی جنگ یاد ہوگی آپ سب کو میرے والد اسی جنگ میں شہید ہوئے تھے۔ میرے لیے فکر کی بات ہے کہ میں ایک شہید کی بیٹی ہوں۔ اس وقت میری پیدائش ہونے والی تھی جب میری والدہ کو میرے والد کے شہید ہونے کی خبر ملی۔ میری دادو کہا کرتی ہیں وہ میرے والد سے بھی زائدہ بہادر ہیں۔ میں نے اپنے والد نہیں دیکھے لیکن جانتی ہوں انہوں نے شہید ہو کر کئی بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیا۔

   I’m proud of him.

 میرے بھائی آج سے کچھ سال پہلے آرمی کا حصہ بنے۔ ابو جیسا جوش تھا ان میں، امی کہتی ہیں۔ وہ امی کی گود میں سر رکھ کر  کہا کرتے تھے وہ بھی ابو جی کی طرح شہید ہونا چاہتے ہیں۔ تب میری والدہ نے ان کی بات پر آمین، انشااللہ کہا۔ مجھے بہت عجیب لگا یا یہ کہوں کہ بہت برا لگا بھلا کیسے کوئی ماں اپنے بیٹے کو زندگی سے آزاد ہونے کی بات پر امین کہہ سکتی ہے۔ اس دن مجھے سمجھ نہیں آئی لیکن بارڈر پر تعینات ہوئے تو بہت خوش تھے۔ کم ہی گھر آیا کرتے تھے میں اکثر ان سے ناراض رہتی تھی تب بھی ناراض تھی کیوں کہ وہ میری برتھڈے پر گھر نہیں آئے تھے۔ کچھ دن پہلے فون پر امی سے کہنے لگے اس بار میں ہر حالت میں اپنی گڑیا رانی کی برتھڈے پر آؤں گا. وہ ہمیشہ اپنا وعدہ وفا کیا کرتے تھے تو بھلا اب کیسے نہ کرتے۔ وہ عین میری برتھڈے پر آئے۔ جانتے ہیں کیسے پاکستان کے جھنڈے میں لپٹے ہوئے۔وہ شہید ہوگئے تھے۔ دشمنوں کی ظالم گولیوں نے ان کا سینہ زخمی کر دیا تھا اس دن جب بھائی امی جی کے سامنے تھے وہ ذرا نہیں روئی، بھائی کے بے حرکت ماتھے کا بوسہ لیا۔ جب بھی امی جی ان کے ماتھے کا بوسہ لیا کرتی تھیں وہ ان کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا لیا کرتے تھے اس دن نہیں لگایا میں رو رہی تھی لیکن امی جی کے چہرے پر آنسو کی بوند تو دور کی بات شکن بھی نہ تھی درد کی۔

 اس دن دادو کی بات سچ  لگی مجھے میری والدہ سچ میں بہت بہادر تھیں کہنے لگیں آج میرے بیٹے نے اپنا قول پورا کیا۔ آج وہ اپنے والد کی طرح شہید ہو گیا۔

 آج مجھے میرے بیٹے نے دنیا کی سب سے  خوش نصیب ماں بنا دیا۔ آج تم نے میرے بیٹے ہونے کا فرض پورا کیا ۔

 Proud of you my son .

 Proud of you.

  آج سے کچھ ماہ تک میں بھی آرمی کا حصہ بن جاؤں گی۔ ایک شہید باپ کی بیٹی، ایک شہید  بھائی کی ہمشیرا، ایک بہادر ماں کی لاڈو ہوں، مجھے بھی شہید ہونا ہے، مجھے بھی اپنا فرض پورا کرنا ہے۔ جب میں اپنی ماں سے شہید ہونے کی بات کرتی ہوں تو وہ ہنس کر آمین، انشااللہ کہتی ہیں۔ مجھے یقین ہے ایک دن شہادت میرا بھی مقدر بنے گی۔ میری والدہ کہتی ہیں :

    زندگی کا اختتام شہادت سے بہتر کیا ہو گا۔

      اور یہ الفاظ مجھے سکون دیتے ہیں۔ ایک دن انشااللہ میرا بھی مقدر جنت ہو گی۔ رب کے سامنے جاتے میں شرمندہ نہیں ہوں گی۔ لیکن میں فلسطین کے لیے شہید ہونا چاہتی ہوں۔

        ایک چمک شفق کی آنکھو ں میں آئی۔

          یہی تھا جو مجھے کہنا تھا۔ آپ کی تالیاں مجھے نہیں چاہیے۔ ہو سکے تو کچھ اپنے لیے کیجیے۔

            ہمارے فلسطینی بہن بھائوں کو ہماری ضرورت ہے، خدا راہ آگے بڑھیں اور مدد کریں جو آپ کر سکتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے کرنے کو بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سٹیٹس لگانے، سٹوری لگانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ بائیکوٹ کرنا ہو گا۔ اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ ہتھیار اٹھانے ہوں گے جوش لانا ہو گا، ظالموں کے حلق  سے ان کی زبان کھیچنا ہو گی۔ کسی کو تو صلاح الدین ایوبی بننا ہو گا کسی کو تو لگام ڈالنا ہوگی ان جنگلی بھیڑیوں کو۔

              آپ کو، آپ کو شاید آپ کو ،کسی کو تو

                شفق سامنے بیٹھے لوگو ں کی طرف ہاتھ اٹھاتے کہنے لگی ۔

                  آج رات شاید نیند نہ آئے، خدا کرے آپ سب کو نہ آئے اور سکوں کی تلاش  میں  آپ  سب فلسطین کو آزاد کروا بیٹھیں۔

                    میری کسی بات نے آپ کا دل دکھایا ہو یا دل آزاری کو ہو تو تہہ دل سے معذرت۔

                      میرا مقصد صرف دروازے پر دستک دینا تھا سو دے دی کھولنا نہ کھولنا آپ کی اپنی مرضی ہے۔لیکن اتنا ضرور کہنا چاہوں گی کھول کر دیکھنا کتنے ہی معصوم آپ کے منتظر ہیں۔

                        مجھے سننے کے لیے آپ کا شکریہ۔

                          اللّه حافظ ۔

                            شفق کہتی، سوال ان کے دلوں میں پرو کراسٹیج سے اتر گئی، کئی سوال۔

                              تو آ گئی میری شیرنی آگ لگا کر۔

                                لاریب جو کب سے  اس کا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھتے ہی بولی۔ شفق نے بنا وقت لگائے اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔

                                  I’m proud of you my girl.

                                    لیکن ذرا یہ سینٹمینٹز بعد میں دکھانا۔ اگر ہیڈ کوارٹر  میں خبر ہوگئی کہ دو حسینائیں رات کے اس پہر غائب ہیں تو شہید ہونے کا سپنا دھرے کا دھرا ہی رہ جاۓ گا۔ لاریب کہتی ہنسنے لگی۔

                                      اللّه نہ کرے، کہتی شفق نے اسے چپیڑ لگائی اور چل دی۔ باہر نکلنے سے پہلے اس کی نظر ایک خاتون پر پڑی تھی جس نے اسے ویل ڈن کہا تھا۔

                                        کہا تھا نہ میں نے وہ یہاں فقط سپیچ دینے نہیں آئی۔

ختم شد

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.