Janisaar
یہ کہانی ہے ان جانبازوں اور جانثاروں کی جنہوں نے اس دنیا کے مشکل راستوں کو چن کر اپنی آخرت کو آسان کر لیا، کہانی ہے جذبہ شہادت کی جس جذبے کو کوئی زوال نہیں، حق اور باطل کی لاکار میں، حلال اور حرام کی تکرار میں جیتا ہے تو بس مٹی کا جانثار۔
Meet The Author
ازل سے زمانے میں ایک رواج ہے چلتا آیا ، پڑھنے والا خود کی شخصیت کو کرداروں میں ہے ڈھونڈتا آیا ، ہر کردار پڑھنے والے کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے ، یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو کس کردار کی کہانی سے مماثلت شدہ پاتا ہے ، میرا ماننا ہے کہ انسان ہر موڑ پر اپنی زندگی کا ہیرو اور ولن خود ہوتا ہے، جب اس کے کردار سے کسی کو فائدہ ہو تو وہ ہیرو ہے اور یہی فرد کسی کے نقصان کا محتمل ہوجائے تو ولن ، جانشین کے ہیرو اور ولن کو پڑھنے والا خود ڈھونڈے گا ، وہ اپنی شخصیت کی مناسبت کا کردار بھی خود ہی چنے گا اور پھر اس سے اپنے لئے سبق اخذ کرے گا ، جانشین کی کہانی زندگی کی دوڑ میں دوڑنے والے مسافروں کی ہے ، وہ مسافر جنہیں قافلوں کی سنگت بھی ملی، کبھی ہجر کا عذاب بھی ، کبھی وصل کا تحفہ ملا ، کبھی آزمائش کا وبال بھی ، جو رک گیا وہ رکا رہا جو چل پڑا وہ کھڑا رہا زندگی کے امتحان میں ۔
ازل سے زمانے میں ایک رواج ہے چلتا آیا ، پڑھنے والا خود کی شخصیت کو کرداروں میں ہے ڈھونڈتا آیا ، ہر کردار پڑھنے والے کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے ، یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو کس کردار کی کہانی سے مماثلت شدہ پاتا ہے ، میرا ماننا ہے کہ انسان ہر موڑ پر اپنی زندگی کا ہیرو اور ولن خود ہوتا ہے، جب اس کے کردار سے کسی کو فائدہ ہو تو وہ ہیرو ہے اور یہی فرد کسی کے نقصان کا محتمل ہوجائے تو ولن ، جانشین کے ہیرو اور ولن کو پڑھنے والا خود ڈھونڈے گا ، وہ اپنی شخصیت کی مناسبت کا کردار بھی خود ہی چنے گا اور پھر اس سے اپنے لئے سبق اخذ کرے گا ، جانشین کی کہانی زندگی کی دوڑ میں دوڑنے والے مسافروں کی ہے ، وہ مسافر جنہیں قافلوں کی سنگت بھی ملی، کبھی ہجر کا عذاب بھی ، کبھی وصل کا تحفہ ملا ، کبھی آزمائش کا وبال بھی ، جو رک گیا وہ رکا رہا جو چل پڑا وہ کھڑا رہا زندگی کے امتحان میں ۔
ازل سے زمانے میں ایک رواج ہے چلتا آیا ، پڑھنے والا خود کی شخصیت کو کرداروں میں ہے ڈھونڈتا آیا ، ہر کردار پڑھنے والے کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے ، یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو کس کردار کی کہانی سے مماثلت شدہ پاتا ہے ، میرا ماننا ہے کہ انسان ہر موڑ پر اپنی زندگی کا ہیرو اور ولن خود ہوتا ہے، جب اس کے کردار سے کسی کو فائدہ ہو تو وہ ہیرو ہے اور یہی فرد کسی کے نقصان کا محتمل ہوجائے تو ولن ، جانشین کے ہیرو اور ولن کو پڑھنے والا خود ڈھونڈے گا ، وہ اپنی شخصیت کی مناسبت کا کردار بھی خود ہی چنے گا اور پھر اس سے اپنے لئے سبق اخذ کرے گا ، جانشین کی کہانی زندگی کی دوڑ میں دوڑنے والے مسافروں کی ہے ، وہ مسافر جنہیں قافلوں کی سنگت بھی ملی، کبھی ہجر کا عذاب بھی ، کبھی وصل کا تحفہ ملا ، کبھی آزمائش کا وبال بھی ، جو رک گیا وہ رکا رہا جو چل پڑا وہ کھڑا رہا زندگی کے امتحان میں
ازل سے زمانے میں ایک رواج ہے چلتا آیا ، پڑھنے والا خود کی شخصیت کو کرداروں میں ہے ڈھونڈتا آیا ، ہر کردار پڑھنے والے کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے ، یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو کس کردار کی کہانی سے مماثلت شدہ پاتا ہے ، میرا ماننا ہے کہ انسان ہر موڑ پر اپنی زندگی کا ہیرو اور ولن خود ہوتا ہے، جب اس کے کردار سے کسی کو فائدہ ہو تو وہ ہیرو ہے اور یہی فرد کسی کے نقصان کا محتمل ہوجائے تو ولن ، جانشین کے ہیرو اور ولن کو پڑھنے والا خود ڈھونڈے گا ، وہ اپنی شخصیت کی مناسبت کا کردار بھی خود ہی چنے گا اور پھر اس سے اپنے لئے سبق اخذ کرے گا ، جانشین کی کہانی زندگی کی دوڑ میں دوڑنے والے مسافروں کی ہے ، وہ مسافر جنہیں قافلوں کی سنگت بھی ملی، کبھی ہجر کا عذاب بھی ، کبھی وصل کا تحفہ ملا ، کبھی آزمائش کا وبال بھی ، جو رک گیا وہ رکا رہا جو چل پڑا وہ کھڑا رہا زندگی کے امتحان میں ۔
ازل سے زمانے میں ایک رواج ہے چلتا آیا ، پڑھنے والا خود کی شخصیت کو کرداروں میں ہے ڈھونڈتا آیا ، ہر کردار پڑھنے والے کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے ، یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو کس کردار کی کہانی سے مماثلت شدہ پاتا ہے ، میرا ماننا ہے کہ انسان ہر موڑ پر اپنی زندگی کا ہیرو اور ولن خود ہوتا ہے، جب اس کے کردار سے کسی کو فائدہ ہو تو وہ ہیرو ہے اور یہی فرد کسی کے نقصان کا محتمل ہوجائے تو ولن ، جانشین کے ہیرو اور ولن کو پڑھنے والا خود ڈھونڈے گا ، وہ اپنی شخصیت کی مناسبت کا کردار بھی خود ہی چنے گا اور پھر اس سے اپنے لئے سبق اخذ کرے گا ، جانشین کی کہانی زندگی کی دوڑ میں دوڑنے والے مسافروں کی ہے ، وہ مسافر جنہیں قافلوں کی سنگت بھی ملی، کبھی ہجر کا عذاب بھی ، کبھی وصل کا تحفہ ملا ، کبھی آزمائش کا وبال بھی ، جو رک گیا وہ رکا رہا جو چل پڑا وہ کھڑا رہا زندگی کے امتحان میں ۔
ازل سے زمانے میں ایک رواج ہے چلتا آیا ، پڑھنے والا خود کی شخصیت کو کرداروں میں ہے ڈھونڈتا آیا ، ہر کردار پڑھنے والے کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے ، یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو کس کردار کی کہانی سے مماثلت شدہ پاتا ہے ، میرا ماننا ہے کہ انسان ہر موڑ پر اپنی زندگی کا ہیرو اور ولن خود ہوتا ہے، جب اس کے کردار سے کسی کو فائدہ ہو تو وہ ہیرو ہے اور یہی فرد کسی کے نقصان کا محتمل ہوجائے تو ولن ، جانشین کے ہیرو اور ولن کو پڑھنے والا خود ڈھونڈے گا ، وہ اپنی شخصیت کی مناسبت کا کردار بھی خود ہی چنے گا اور پھر اس سے اپنے لئے سبق اخذ کرے گا ، جانشین کی کہانی زندگی کی دوڑ میں دوڑنے والے مسافروں کی ہے ، وہ مسافر جنہیں قافلوں کی سنگت بھی ملی، کبھی ہجر کا عذاب بھی ، کبھی وصل کا تحفہ ملا ، کبھی آزمائش کا وبال بھی ، جو رک گیا وہ رکا رہا جو چل پڑا وہ کھڑا رہا زندگی کے امتحان میں ۔
Janisaar written by Fatima Farooq
یہ کہانی ہے ان جانبازوں اور جانثاروں کی جنہوں نے اس دنیا کے مشکل راستوں کو چن کر اپنی آخرت کو آسان کر لیا، کہانی ہے جذبہ شہادت کی جس جذبے کو کوئی زوال نہیں، حق اور باطل کی لاکار میں، حلال اور حرام کی تکرار میں جیتا ہے تو بس مٹی کا جانثار۔
Fatima Farooq is a Social Media writer and now her Novels are being written with Novels Hub. Novels Hub is a new platform for new or well known Urdu writers to show their abilities in different genre of Urdu Adab.
Regards
Novels Hub
Views: 4,793
Reviews
There are no reviews yet.