Share:
Notifications
Clear all

Hijr e Yaran by Umme Abbas Episode 15

1 Posts
1 Users
0 Reactions
469 Views
(@admin)
Member Admin
Joined: 6 years ago
Posts: 58
Topic starter  

اے بی بی ۔لو میرے جڑے ہاتھ دیکھو ۔غلطی ہو گئی میرے اور منا سے جو اس بچے کی مدد لے لی ہم نے ۔ایک تو میرے پاؤں میں اتنی گہری موچ آئی کہ چلنا محال ہو گیا تھا ۔اوپر سے اگر اس بچے نے خدا خوفی کے باعث اپنی گاڑی میں ڈال کر مجھے یہاں تک چھوڑا بھی ہے تو بجائے اسکی شکر گزار ہونے کے تم ہمارے ساتھ ساتھ اسے بھی برا بھلا کہہ رہی ہو ۔کمال کرتی ہو صلہ تم بھی ۔وہاں تکلیف کے مارے میری جان نکلی جا رہی تھی اور تم کہہ رہی ہو ہم تمہیں کال کرتے ۔اتنا ہوش ہی کسے تھا بی بی ۔"خالہ نے بھی بنا لگی لپٹی رکھے اسے کھری کھری سنائی تھیں۔ایک تو پہلے ہی پاؤں میں سے نکلتی درد کی ٹھیسیں جینا محال کر رہی تھیں اوپر سے پچھلے دس منٹ سے صلہ کا لیکچر تھا جو ختم ہونے میں نہ آ رہا تھا ۔صلہ ہکا بكا ہاتھ روکے انہیں دیکھنے لگی ۔پیچھے کھڑے شہیر نے اپنی مسکراہٹ چھپانے کو ٹھوڑی بالکل ہی سینے سے لگا لی تھی ۔

مگر ہلکی سی کھی کھی کی آواز پھر بھی صلہ کے کانوں تک پہنچ ہی گئی تھی اور وہ پیچھے مڑ کر اسے گھورنا بالکل نہیں بھولی تھی ۔جس پر وہ جھٹ سے سیدھا ہوتا چہرے پر سنجیدگی طاری کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔

صلہ واپس خالہ کی طرف مڑی ۔

"خالہ میں تو بس یہ کہہ رہی تھی آپ کو کسی انجان بندے کو یوں گھر تک نہیں لانا چاہیے تھا ۔سیف نہیں ہے ایسا کرنا ۔"وضاحتی لہجے میں کہتے اس بار اسکی آواز دهیمی اور مفاہمتی سی تھی ۔خالہ نے بے زار شکل بناتے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا تھا ۔

"جانتی ہوں میں اسے ۔اچھا شریف بچہ ہے ۔اب تمہاری طرح ہر ایک کو شک کی عینک سے نہیں دیکھا جاتا مجھ سے ۔پٹی کر دی ہے تو ہٹو میں ٹانگ سیدھی کروں ۔ہائے ۔۔۔۔موئے درد سے جان نکلی جا رہی ہے ۔"

صلہ جھٹ سے سائیڈ پر ہوتی بیڈ سے نیچے اتری تھی ۔خالہ کی ٹانگ سیدھی کرتے انکے اوپر لحاف ڈالا ۔

"میں دودھ گرم کر کے لاتی ہوں ساتھ پین کلر لے لیں ۔آرام آ جائے گا درد کا ۔"کہتے ہوئے شہیر کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتی وہ کمرے سے نکل گئی تھی ۔

"نانو کو اب تنگ مت کرنا ۔انہیں پین ہو رہا ہے ۔میں دیکھ رہی ہوں آج کل کچھ زیادہ ہی کھسر پهسر ہو رہی ہے تمہاری انکے ساتھ ۔"کچن کی طرف بڑھتی وہ مصروف سی بول رہی تھی۔شہیر گڑبڑا کر لیونگ ایریا میں صوفے پر رکھے بیگ پر جھکا ۔چہرے کی ہوائیاں اڑی تھیں ۔

"نہیں تو ماما ۔ہم ایسے ہی اپنی باتیں کرتے ہیں ۔"اسکی طرف پشت کیے آنکھیں میچ لی ۔

صلہ نے سر کو خم دیتے ہوئے گلاس میں دودھ انڈیلا ۔

"ٹھیک ہے میں نے کب کہا کہ پڑوسیوں کی باتیں کرتے ہو ۔میں بس یہ کہہ رہی ہوں اب انہیں آرام کرنے دینا ۔"

کچن کی ایک کیبنٹ سے فرسٹ ایڈ باکس نکالتے پین کلر ڈھونڈتے اس کے کہنے کی دیر تھی ۔شہیر فوری طور پر اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگا چکا تھا ۔صلہ نے اسے جاتے دیکھا اور پھر سر کو نفی میں ہلاتے ایک گہرا سانس بھرتے خالہ کے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔آج کل وہ کچھ عجیب سا رویہ اپنائے ہوئے تھا ۔اسے مسکراتے ہوئے دیکھتا رہتا ،پوچھنے پر جھینپ کر سر نفی میں ہلا دیتا ،اسکی اور خالہ کی خفیہ باتیں بھی بڑھ گئی تھیں ،اسے دیکھ کر دونوں یوں چپ کر جاتے جیسے کبھی بولے ہی نہ ہوں ۔

اپنے کمرے میں آ کر اس نے بیگ بیڈ پر رکھا تھا ۔ہاتھ سینے پر رکھتے آنکھیں بند کر کے گہرے گہرے سانس لیے تھے ۔پچھلے کچھ دنوں سے وہ ماں سے یوں ہی چھپتا پھرتا تھا ۔اسکے سوالوں اور نظروں سے كتراتا تھا ۔

سانس بحال ہوتے وہ جھک کر اب اپنا بیگ کھول رہا تھا اس کے اندر سے ڈرائنگ نوٹ بک نکالتے اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں الوہی سی چمک تھی ۔

نوٹ بک کے اندر سے ایک صفحہ نکالتے اسکی آنکھوں میں ستائش کے جگنو ٹمٹما رہے تھے ۔ہونٹ بے آواز واؤ کے انداز میں سکڑے ۔یہ گفٹ اسے آج ہی مرتضیٰ نے دیا تھا اور یہ اسے ملنے والے چند یادگار ترین تحفوں میں سے ایک تھا ۔باہر سے صلہ اسے آواز دے رہی تھی ۔شہیر نے سٹپٹا کر دروازے کی جانب دیکھا ،نوٹ بک اور ہاتھ میں تھاما صفحہ گرتے گرتے بچے تھے ۔تیز تیز واپس سے وہ صفحہ نوٹ بک میں ڈالتے بیگ میں میں گھساتے زپ بند کی ،بیگ اپنی جگہ رکھتے وہ واپس باہر کی جانب بھاگا تھا ۔

 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . اگلے تین چار دن تک رقيه خالہ کے پاؤں کی موچ ٹھیک ہوئی تو ویک اینڈ کے باوجود شہیر بضد تھا اسے پارک جانا ہے ۔وہ اتنے دن جا نہیں پایا تھا اس لئے رقيه خالہ بھی خلاف معمول ویک اینڈ کے چیٹ ڈے کے باوجود خوشی خوشی اسے ساتھ لئے چل پڑی تھیں ۔صلہ کو بھی شہیر نے آفر کی تھی مگر وہ منع کر گئی تھی ۔

انکے جانے کے بعد وہ تفصیلی فلیٹ کی صفائی کا ارادہ رکھتی تھی ۔اور شروعات اس نے اپنے کمرے سے کی تھی ۔شہیر ویسے تو بڑا ڈسپلنڈ بچہ تھا ۔اسکی چیزیں ہمیشہ اپنی جگہ پر ہی ملتی تھیں ۔اس لئے صلہ کو اسکی طرف سے کبھی اتنی پریشانی ہوئی بھی نہیں تھی ۔صفائی سے فارغ ہو کر یوں ہی بے ارادہ اسکی نگاہ اسکے بیگ پر پڑی تھی ۔آج وہ پارک بیگ لے کر نہیں گیا تھا ۔

کتنے دن ہوئے تھے اس نے اپنی کوئی نئی ڈرائنگ اسے دکھائی بھی نہیں تھی ۔یوں ہی بے مقصد اسکا وہیں کھڑے کھڑے اس نے اسکا بیگ کھول کر ڈرائنگ بک نکالی تھی ۔کھول کر صفحے پلٹتے وہ بیڈ کی جانب بڑھی ،بلا شبہ اسکا بیٹا ایک اچھا آرٹسٹ تھا ۔اتنی سی عمر میں بھی اسکے ہاتھ میں بڑی صفائی تھی ۔حالانکہ صلہ کی اپنی ڈرائنگ کبھی اچھی نہیں رہی تھی ۔اپنے اسکول کے دنوں میں سائنس کی ڈائیگرامز بناتے تو اسکی جان جایا کرتی تھی ۔شہیر کی بنائی ڈرائنگز دیکھتے اسکی آنکھوں میں تفخر بھری چمک سی در آتی تھی ۔

پیج پلٹتے ہوئے کچھ نیچے گرا تھا ۔وہ جھک کر دیکھنے لگی ،اسکی قدموں کے بالکل قریب ایک صفحہ گرا پڑا تھا ۔جھک کر صفحہ اٹھاتے ،سیدھی ہوئی وہ اسکا رخ پلٹ کر دیکھنے لگی، اسکے چہرے کے تاثرات یوں تیزی سے بدلے تھے مانو جیسے کہیں رنگ آ کر اسکے چہرے پر سے ہوتے گزر گئے ہوں ۔آنکھوں میں تحیر اور بے یقینی تھی جو حد سے سوا تھی ۔اس کی پلکوں نے جهپکنے سے انکار کر دیا تھا ۔دم سادھے وہ کتنی دیر یک ٹک اس سفید صفحے پر بکھری کچی پینسل کی سرمئی سی سیاہی کو دیکھتی رہی تھی جو شہیر کے خوب صورت سے اسکیچ میں ڈھلی ہوئی تھی ۔اسکی حیرت ،اسکا ٹھٹکنا یوں ہی تو نہیں تھا ۔ماضی کے زنگ آلود کواڑوں سے کوئی یاد جھانکتی مسکرا رہی تھی اور وہ وحشت زدہ سی ہوتی چلی جا رہی تھی ۔صفحے کے بالکل کنارے پر مرتضیٰ لکھا ہوا تھا ۔خشک ہوتے گلے اور فق ہوئی رنگت کے ساتھ وہ سرعت سے اٹھتی الماری کی جانب بڑھی تھی ۔لاکر میں چابی لگاتے اسکے ہاتھ ہلکی سی کپكپاہٹ لئے ہوئے تھے ۔ فائل نکال کر اس نے تیزی سے مطلوبہ شے بر آمد کی تھی ۔اور پھر پلٹ کر بیڈ کی جانب تیز قدموں سے آئی تھی ۔وہ دونوں صفحے بیڈ پر ساتھ ساتھ رکھے وہ زمین پر پیروں کے وزن پر بیٹھتی چلی گئی ۔ایک ہاتھ ہونٹوں پر آن دھرا تھا ۔اگر یہ اتفاق تھا تو بہت سی مماثلت لیے ہوئے تھا اور اگر اسکے دل میں پنپتا خدشہ درست تھا تو ۔۔۔۔اس نے سر کو نفی میں جنبش دے ڈالی تھی ۔یہ سوچ سوچنا بھی جیسے اسکے کے لئے ممنوع تھا تو ایسا ہو بھی کیسے سکتا تھا ۔سامنے دو اسکیچز پڑے تھے ۔ایک شہیر کا اور دوسرا اسکا اپنا ۔دونوں کو بنانے والے کا انداز بالکل ایک جیسا لگتا تھا یہاں تک کہ آخر میں لکھے نام مختلف تھے مگر ہینڈ رائٹنگ کس قدر ملتی جلتی تھی ۔

بے یقینی کے سمندر میں اب تشویش اور خدشوں کے طوفان سے اٹھنے لگے تھے ۔اگلے ہی پل بنا ایک بھی لمحہ ضائع کیے وہ اپنا دوپٹہ ہی ٹھیک سے اوڑھتی بنا چادر لینے کا تردد کرتے کمرے سے نکل رہی تھی ۔بلڈنگ کا گیٹ پار کرتے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر چلتے اسکے قدموں کی رفتار بہت تیز تھی ۔اپنی کیفیت اسکے خود کے لئے سمجھنا مشکل تھا وہ صرف ایک خدشے کے زیر اثر یوں ہیجان انگیزی کا شکار ہو رہی تھی ۔دل کہہ رہا تھا ایسا کچھ نہیں جیسا وہ سوچ رہی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ بے ہنگم انداز میں دھڑک بھی رہا تھا ۔اسے خود پر تاؤ بھی آیا تھا ۔شہیر کے معاملے میں اتنی غفلت اس نے کیسے برت لی تھی ۔اسے پہلے ایسا کرنے کا خیال کیونکر نہ آیا تھا ۔ہاتھ سے ماتھے پر چمکتی پسینے کی بوندیں صاف کی تھیں جو نومبر کے آغاز کے اچھے خاصے خوشگوار موسم میں بھی اسے آ رہا تھا ۔

پارک میں داخل ہوتے بنا آگے پیچھے کہیں نظر کیے وہ سیدھی اس سمت بڑھی تھی جہاں شہیر کی موجودگی کا اسے سو فیصد یقین تھا ۔تیز چلنے کے باعث اب اسکا سانس بھی پھولنے لگا تھا مگر وہ چال دهیمی کرنے کی متقاضی نہیں تھی ۔

اور پھر دور سے ہی شہیر اسے نظر آیا تھا ۔بینچ پر بیٹھا ہوا ،ساتھ موجود دوسرے نفس کی جانب دیکھتا کچھ کہہ رہا تھا ۔نظریں شہیر سے ہوتی ساتھ بیٹھے شخص تک گئی تھیں اور پھر پلٹنا تو دور جهپکنا بھول گئی تھیں ۔دم سادھے ،اڑی رنگت اور وحشت زدہ آنکھوں سے وہ سامنے دیکھتی رہی تھی ۔اس روئے زمین پر وہ آخری شخص بھی نہیں تھا جسے وہ شہیر کے ساتھ کبھی یوں بیٹھا تصور بھی کر سکتی کجا کے حقیقت میں ایسا ہونا ۔یہ نا ممکنات میں سے تھا تو ممکن ہو چکا تھا اور اگر خدشات کی دنیا سے اس منظر کا تعلق تھا تو حقیقت کا روپ دھار چکا تھا ۔بے جان ہوتے پیروں کے نیچے زمین سرکنے سی لگی تھی ۔

شہیر کی اس پر نظر بالکل اچانک پڑی تھی اور وہ حیرت بھری خوشی سے وہیں سے چہکتا اسے بلند آواز میں پکار چکا تھا ۔مرتضیٰ نے اسکی چینخ نما پکار پر نظروں کا زاویہ موڑا تھا ۔

اور ۔۔۔صدیوں کے فاصلوں پر کھڑے وہ دو نفوس لمحوں کے طلسم میں جکڑے گئے ،سانس ساكن ،دل کی دھڑکنیں جامد اور وقت کا پہیہ چلتے چلتے رک سا گیا تھا

 

وہ آنکھوں دیکھا جھٹلانا چاہتی تھی مگر کیا ایسا ممکن تھا ؟شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرتے اس نے دوبارہ کھولی تھیں کہ شاید وہ اسکا ذہنی اختراع ہو ۔وہ جو سوچتی رہی ہے وہی سوچیں وہم کی شکل اختیار کر گئی ہیں ۔

کہیں بار اس نے آنکھیں جهپک کر اسے دیکھا تھا ۔وہ وہی تھا ۔سوائے چند معمولی سی تبدیلیوں کے وہ ہو بہو ویسا ہی تو تھا ۔ایک گهٹی ہوئی ، بے بسی کی شکار سانس اسکے لبوں سے خارج ہوئی تھی ۔

"یہ میری ماما ہیں ۔"شہیر کی چہکتی آواز نے اس فسوں کو توڑا تھا ،جس کے سحر میں جکڑا وہ پلک جهپکنا بھول گیا تھا ۔یوں جیسے وہ لحظہ بھر بھی آنکھیں بند کرے گا تو سامنے کھڑا وجود ہوا میں تحلیل ہو جائے گا ۔گنگ صم سی کیفیت میں گھرا وہ چہرہ گھما کر خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگا تھا ۔شہیر ہاتھ کے اشارے سے صلہ کو قریب بلا رہا تھا ۔مرتضیٰ کی خالی خالی آنکھوں میں کہیں رنگ گڈ مڈ سے ہونے لگے تھے ۔دماغ میں کوئی جهماکہ سا ہوا تھا ۔ادھورا خواب پورا ہوا تھا ۔جھیل کنارے بیٹھا مرتضیٰ حیدر ،صلہ کا وہاں آنا اور کچھ دکھانے کا اصرار اور جو اس نے دیکھا تھا وہ اب یاد آیا تھا ۔اس رات اپنے خواب میں اس سے شہیر کو دیکھا تھا ۔صلہ نے انگلی کے اشارے سے اسے شہیر دکھایا تھا ۔تب یاد نہیں آیا تھا اور اب یاد آیا تھا تھا تو اسکا پورا وجود خالی پن کا شکار ہو کر رہ گیا تھا ۔جیسے کوئی خالی کمرہ ہو اور تیز ہوائیں اسکے در و دیوار سے ٹکرا تی سنسنا رہی ہوں اور اس سے پیدا ہوتی اک وحشت زدہ سی آواز تھی جو اسکے پورے وجود میں گونج رہی تھی ۔اسکی سبز آنکھوں کو چھوڑ کر اسکے سبھی نقوش اس سے کس قدر مماثلت رکھتے تھے۔اسے یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا ۔پہلی ملاقات پر اسکی سبز آنکھوں نے اسے صلہ کی یاد دلائی تھی تب بھی اس نے ایسا کچھ نہیں سوچا تھا ۔اور سوچ سکتا بھی کیسے تھا ایسا کوئی خیال کبھی اسکے دل و دماغ میں آیا ہی کب تھا ۔اپنے تئیں وہ اسے ماضی کا قصہ سمجھ کر کب کا بھول بھال گیا تھا ۔اور اب وہی قصہ ایک نئی کہانی کی صورت اختیار کرتے اسکے سامنے آن موجود تھا تو وہ خوشی ،بے یقینی ،حیرت جیسی کہیں ملی جلی کیفییات کا شکار گم صم کھڑا تھا ۔

البتہ صلہ تب تک سنبھل چکی تھی ۔اک بجلی سی تھی جو اسکے پورے وجود میں کوند کر رہ گئی ۔

شہیر کے قریب آ کر اپنی ساری توجہ اسی کی جانب مبذول کیے وہ اسکا ہاتھ پکڑتی اپنی طرف کھینچ چکی تھی ۔جیسے وہ اسکی متاع حیات ہو اور اسکے چھن جانے کا خوف اسکے چہرے کے ایک ایک نقش سے ظاہر ہو رہا ہو ۔

بنا ہونٹوں سے ایک بھی لفظ ادا کیے وہ اسے لے کر آگے بڑھی تھی ۔شہیر نا سمجھی بھرے تاثرات کے ساتھ دبا دبا سا احتجاج کرنے لگا تھا ۔

"ماما یہ مرتضیٰ سر ہیں ۔"ماں کے کھینچنے پر اس نے ہونق زدہ سے مرتضیٰ کو مڑ کر دیکھتے اس انداز میں بتایا تھا جیسے مرتضیٰ نے کوئی جادوئی ٹوپی پہن رکھی ہو جس کی وجہ سے وہ صلہ کو نظر نہ آیا ہو ۔

"شہیر چلو میرے ساتھ ۔"جس قدر سختی اسکے چہرے پر تھی اتنی ہی آواز میں بھی در آئی تھی ۔وہ خفا خفا انداز میں ماں کو گھورنے لگا تھا جو اسے مرتضیٰ کے سامنے شرمندہ کروا رہی تھی ۔بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے۔شہیر کو خفگی نے آن گھیرا ۔اتنا روڈ بی ہیو کر کے ،بنا سلام دعا کیے مرتضیٰ کو سرے سے نظر انداز کرتے صلہ تو مرتضیٰ کے سامنے اسکی ناک کٹوا رہی تھی ۔

"ماما ۔"پیچھے مڑ کر مرتضیٰ کو سرخ چہرے کے ساتھ دیکھتا وہ دھیمی آواز میں چینخا تھا ۔صلہ نے مطلق اثر نہ لیتے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی ۔وہ کافی آگے بڑھ گئی تھی جب مرتضیٰ کسی خواب کی سی کیفیت سے بیدار ہوا تھا ۔

"صلہ ۔"اسکی قدرے اؤنچی سی آواز میں بے کلی کا جوار بھاٹا جل رہا تھا ۔

اور وہ جو شہیر کی کہیں دھائیوں پر بھی رکی نہیں تھی ۔اسکی ایک پکار پر قدم تھم سے گئے تھے ۔شہیر حیران سا ماں کو ركتا دیکھ گردن گھما کر اسے دیکھنے لگا تھا جو اب بھی بت بنا کھڑا تھا ۔فرق بس یہ تھا اب وہ بے جان معلوم نہ ہوتا تھا ۔

سرخ پڑتے تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ صلہ نے ہونٹوں کو سختی سے باہم پیوست کر لیا تھا ۔گال یوں دھکنے لگے تھے مانو آگ کی لپٹیں نکل رہی ہوں ۔

رقیہ خالہ اسی سمت آ رہی تھیں ۔انہیں دیکھ کر وہ انکی طرف بڑھ گئی تھی ۔شہیر انہیں دیکھ کر کچھ شیر ہوا تھا ۔

"نانو ۔"اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا صلہ کی سخت آواز نے اسکی مدهم سی آواز کا گلا گھونٹ دیا تھا ۔

"خالہ اسے لے کر گھر چلیں ۔"اتنے کھدرے اور دو ٹوک انداز میں کہا گیا تھا کہ اسکے لال بھبھوکا چہرے کو دیکھتے متوحش سی خالہ جو کچھ پوچھنے کی لب ہلانے ہی لگی تھیں ۔ہونٹ بھینچ کر سر اثبات میں ہلاتی شہیر کا ہاتھ پکڑ گئیں تھی ۔

شہیر کو بھی ماں کے انداز سے اب صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوا تھا اسی لئے ساری خفگی جھاگ کی طرح بیٹھتی چلی گئی ۔لب کاٹتے اس نے بس آخری بار مرتضیٰ کو دیکھا تھا جو کافی دور تھا مگر دیکھ اب بھی انہی کی طرف رہا تھا ۔اسکے بعد وہ شرافت سے خالہ کے ساتھ چل دیا تھا ۔

صلہ نے انکے نظروں سے اوجهل ہونے تک نظریں ان پر جمائے رکھی تھیں ۔یہاں تک کہ اپنے پیچھے ہوتی قدموں کی آہٹ پر بھی اس نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا ۔نو سال کا طویل عرصہ بھی اسے ان آہٹوں سے غیر شناس نہیں کروا پایا تھا ۔

"صلہ ۔"اپنے بالکل پیچھے سے ،کہیں بہت قریب ہی وہ آواز کسی ہتھوڑے کی مانند اسکی سما عتوں سے ایک بار پھر ٹکرائی تھی ۔

سائیں سائیں کرتے ذہن کے ساتھ وہ مشتعل سی پلٹی تھی ۔اسکا دایاں ہاتھ پوری قوت کے ساتھ گھوما تھا اور سامنے دو قدموں کے فاصلے پر کھڑے مرتضیٰ حیدر کے گال پر زناٹے دار تهپڑ کی صورت پڑا تھا ۔یہ سب اس قدر اچانک اور غیر متوقع طور پر ہوا تھا کہ اپنی جگہ اس سے ڈیل ڈول میں کہیں زیادہ توانا ہونے کے باوجود بھی وہ اپنی جگہ سے ہل کر رہ گیا تھا ۔چہرہ ایک طرف نیچے کیے وہ گال پر جلن محسوس کر سکتا تھا اور اس سے بھی شدید اہانت کا احساس تھا ۔لب سختی سے بھینچ کر اس نے سیدھا ہوتے سرد برفیلی نظروں سے اسے گھورا تھا ۔

"ہمت بھی کیسے ہوئی آپ کی میرا نام اپنی زبان پر لانے کی ۔صلہ جہانگیر اتنی گئی گزری نہیں ہے کہ ہر راہ چلتا ایرا غیرا اسکا نام یوں سر راہ پکارتا پھرے ۔"کاٹ دار نظروں سے اسے دیکھتے اسکے الفاظ بھی چھبتے ہوئے سے تھے ۔آنکھوں میں نمی کی ہلکی سی تہہ لئے وہ چہرے پر دنیا جہاں کی سختی سمیٹ لائی تھی جس نے کچھ لمحوں کے لئے حیدر کو بھی ششدر کر کے رکھ دیا تھا ۔اسے سنبھلنے میں کچھ وقت لگا تھا ۔

"تم ۔۔۔"سبکی سے سرخ پڑتی گردن کے ساتھ طیش کے عالَم میں ایک قدم آگے لیتے وہ بھینچی ہوئی سی آواز میں دهاڑا تھا ۔مگر سامنے کھڑی صلہ نے نہ اسکے جارحانہ تاثرات کا کوئی اثر لیا تھا نہ ہی اسکی دهاڑ کا ۔حیدر رک سا گیا ۔اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے ایک گہرا سانس خارج کرتے اس نے اپنا ضبط بری طرح سے آزمایا تھا اور ساری کھولن اپنے ہی اندر اتار لی تھی ۔

"شہیر کی ماں ہو اس لئے چھوڑ رہا ہوں ورنہ اپنی جانب اٹھنے والا ہاتھ میں سلامت رہنے دینے کا قائل نہیں ہوں ۔"اسکے دائیں ہاتھ کی کلائی اپنے ہاتھ کی مضبوط گرفت میں سختی سے جکڑتے وہ پھنکارا تھا ۔صلہ بے خوفی سے اسکی تپش بھری آنکھوں میں دیکھتی ہونٹ سختی سے باہم پیوست کیے پوری طاقت لگا رہی تھی اسکے ہاتھ سے اپنی کلائی آزاد کروانے کی مگر بے سود ۔

"چیونٹی کے پر نکل آئے ہیں مگر اتنی بھی ہوا میں مت اڑو صلہ بی بی ۔آج بھی تم اپنا آپ مجھ سے چھڑا نہیں سکتی ۔"اسکے چہرے پر سختی کی جگہ کچھ کچھ بے بسی کے تاثرات دیکھ کر وہ محظوظ ہوتا مسکرایا تھا ۔اپنی مزاحمت ترک کرتے وہ تیز چھبتی نظریں اسکے چہرے پر مرکوز کر گئی تھی ۔

"بشرطیکہ میں خود نہ تمہیں چھوڑ دوں ۔"اسکی کلائی ایک دم سے آزاد کرتے وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہہ رہا تھا ۔ہوا میں معلق اسکی چھوڑی کلائی نیچے گرتی چلی گئی تھی ۔

نو سال گزرے تھے مگر اسکی ازلی خود سری جہاں کی تہاں تھی ۔کوئی احساس شرمندگی ،اپنے کیے کی کوئی ندامت کچھ بھی تو نہیں تھا ۔صلہ کے اندر لگی آگ بھڑ بھڑ جلنے لگی تھی ۔

"ہاتھی بھی ایسے ہی اپنی انا و خود سری میں مست ہوتا ہے ۔اپنی طاقت کے نشے میں مسرور ،اپنی مضبوطی کے زعم میں قید ۔مگر بھول جاتا ہے کہ ایک چھوٹی سی چیونٹی اسکی جان بھی لے سکتی ہے ۔مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی مت کرنا اس بار ۔آپ کیا چھوڑیں گے مجھے میں خود آپ کو اپنے قابل نہیں سمجھتی ۔"پلٹ کر جواب دینا اس نے سیکھ لیا تھا ۔بلکہ اس نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا یا پھر وقت ،حالات اور سامنے کھڑے شخص نے مل کر سکھا دیا تھا ۔اسے دیکھتے حیدر کی آنکھوں کا تمسخر ہنوز قائم تھا ۔

سر جھٹک کر اس نے جیسے اسکی بات کو سرے سے نظر انداز کر دیا تھا ۔

صلہ پلٹی تو اسکی آواز پر اسے پھر سے رکنا پڑا تھا ۔

"شہیر میرا بیٹا ہے ۔"وہ پوچھ نہیں رہا تھا وہ بتا بھی نہیں رہا تھا ۔شاید خود کلامی سی کی گئی تھی ۔صلہ ٹھٹک کر رکی تھی ۔اسکی آواز کے نرم تاثر پر ،اسکے انداز کی حلاوت پر ۔اندر جلتی آگ آتش فشاں کا روپ دھار گئی تھی ۔بپھری ہوئی شیرنی کی طرح پلٹ کر وہ غرائی ۔

"شہیر میرا بیٹا ہے ۔اور صرف میرا بیٹا ہے ۔آپکا اس سے کوئی تعلق، کوئی واسطہ نہیں ہے ۔اس لئے میں وارن کر رہی ہوں حیدر ،مرتضیٰ یا جو بھی ایکس وائے زیڈ ہیں آپ ۔میرے بیٹے سے دور رہیے گا آپ ۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔اپنی ذات تک جھیل گئی تھی میں اپنے بیٹے پر آپکا سایا بھی برداشت نہیں کروں گی ۔"

حیدر نے اسکے مرنے مارنے والے یہ انداز اچنبھے سے دیکھے تھے ۔منہ کے زاویے بگڑے تھے ۔

"میں آرام سے بات کر رہا ہوں نا ۔تو کیا بہتر نہیں ہو گا کہ تم بھی تحمل کا تھوڑا سا مظاہرہ کر لو ۔"تیوری چڑھائے وہ ناگواری سے اسکے تنے ہوئے چہرے کو گھور رہا تھا ۔صلہ نے تحیر آمیز انداز میں بھنویں اچکا کر اسے دیکھا تھا اور کٹیلی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر لئے بولی  ۔

"واہ واہ آپ کے مینرز حیدر صاحب ۔آج بھی آپ کو سنگین سے سنگین صورت حال میں بھی شائستہ زبان استعمال کرنے کی کتنی فکر ہے ۔"کہتے ہوئے وہ ذرا بھر رکی ،انداز تمسخر اڑانے جیسا تھا ۔اگلے ہی لمحے اسکے چہرے پر کرختگی اور نا پسندیدگی پھیلتی چلی گئی ۔

"نہیں کرتی تحمل کا مظاہرہ ۔نہیں ہوتی آپ کے جیسی کامیاب اداکاری مجھ سے ۔میں تو ایسی ہی ہوں اور ایسے ہی بات کروں گی ۔کیا کر لیں گے آپ ؟"تنفر سے اسے دیکھتی وہ دبی سی آواز میں چلائی تھی ۔حیدر نے سختی سے ہونٹوں کو بھینچ کر اسکے یہ کڑوے انداز ہضم کیے تھے ۔

"صلہ میرا ضبط مت آزماؤ ۔"سرخ ہوتی کان کی لوؤں کے ساتھ وہ بھی تلخی پر اتر آیا تھا ۔

"آپ میرا ضبط مت آزمائیے گا حیدر ۔اس بار کوئی لحاظ نہیں کروں گی میں ۔اب اگر آپ نے میرا راستہ کاٹنے کی کوشش کی تو یقین جانئیے میں وہ کر گزروں گی جس کی مجھے خود بھی خود سے توقع نہیں ہے ۔"ہاتھ اٹھا کر اسے روکتی وہ اس سے زیادہ سخت لہجہ اپنائے بے خوفی سے کہہ رہی تھی ۔حیدر کے چہرہ اب رنگ بدلنے لگا تھا ۔

"کیا کر لو گی تم ؟"کڑے تیوروں سے اسے گھورتا وہ تیز آواز میں پوچھ رہا تھا ۔جواباً وہ تلخی سے مسکراتے ہاتھ سینے پر باندھ گئی ۔

"زیادہ کچھ نہیں کروں گی بس تھوڑا سا چلاؤں گی کہ یہ شخص میرا پیچھا کرتے مجھے ہراساں کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دو منٹ نہیں لگیں گے یہاں لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہونے اور آپ کی درگت بننے میں ۔آپ کو بھولنا نہیں چاہیے یہ پاکستان ہے اور یہاں دوسروں کے مسئلوں میں کودنا لوگوں کا پسندیده مشغله ہے ۔اور اکیلی عورت کو کوئی یوں سر راہ چھیڑے تو اسکی ڈینٹنگ پینٹنگ کرنا پاکستانی عوام تو ویسے بھی عین ثواب سمجھ کر کرتی ہے ۔اس لئے کہہ رہی ہوں محتاط رہیں ۔اور مجھ سے اور میرے بیٹے سے کم از کم پچیس تیس کلو میٹر دور رہیں ۔"سلگتی نظروں سے اسے سر تا پیر دیکھتے وہ اپنی سنا کر پلٹ گئی تھی ۔اور اس بار حیدر نے واقع ہی اسے پیچھے سے پکارنے کی غلطی نہیں کی تھی ۔اس سر پھری سے کچھ بعید نہیں تھا وہ اپنا کہا کر گزرتی ۔حیدر نے اسکے دور جاتے وجود سے نظریں ہٹا کر پارک میں کافی فاصلے پر غیر متوجہ ہی سہی پر لوگوں کو دیکھا تھا پھر کچھ بے آرام ہوتے پہلو بدلتے منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے تیکھی نظروں سے اسکی پشت کو آخری بار گھورا تھا جو اب نظروں سے اوجهل ہو گئی تھی ۔اور اسکا دھیان پہلی بار اسکے لباس کی طرف گیا تھا ۔اس نے سفید رنگ ہی پہن رکھا تھا ۔اسے یاد آیا خواب میں بھی تو اس نے سفید رنگ ہی زیب تن کیا ہوا تھا ۔مگر تب تو وہ کتنی پر سکون اور ٹھنڈے مزاج کی لگ رہی تھی دهیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ ،آنکھوں میں  نرم تاثر لئے اسے دیکھتی ہوئی ۔حیدر کو خوابوں کے سچ ہونے پر یقین تو پہلے بھی نہیں تھا رہی سہی کسر ابھی کچھ دیر پہلے کی ملاقات نے نکال دی تھی ۔

ڈھیلی سی چال کے ساتھ واپس مڑتے ہوئے اس کے چہرے پر پہلے سی سختی اور تلخی نہیں تھی ۔اسکے دل و دماغ میں بس ایک جملا گونج رہا تھا ۔

"شہیر اسکا اپنا بیٹا تھا ۔"

جھک کر بینچ پر سے اپنا بیگ اٹھاتے اسکے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ بڑی نمایاں تھی ۔

 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 

خاله کی نظریں بار بار دروازے تک بے چینی سے جاتیں  اور پھر مایوس سی پلٹ آتیں ۔صوفے پر بیٹھے وہ صلہ کے رویے کی بابت سوچ رہی تھیں ۔پاس ہی منہ پھلا کر شہیر بیٹھا تھا ۔

"مرتضیٰ سر کیا سوچتے ہوں گے شہیر کی ماما کتنی ان مینرڈ ہیں ۔"یہ جملا اس نے کوئی تیسری بار دوہرایا تھا ۔اسکا اپنا ہی غم تھا ۔خالہ نے چونکتی نظروں سے اسے دیکھا ۔چہرے کی ہوائیاں الگ اڑنے لگی ۔

"منا ۔۔۔۔کہیں صلہ کو ہمارے ارادوں کی بهنک تو نہ لگ گئی ۔ہو نہ ہو یہی ہوا ہو گا ۔اسے پتہ چل گیا ہونا ہم کیا منصوبے بنا رہے ہیں ۔ہائے میرے اللّه ۔اب وہ پہلے مرتضیٰ کی طبیعت سیٹ کرے گی اور پھر گھر آتے ساتھ ہی ۔۔۔بھونچال آ جائے گا منا ۔"پریشانی سے کہتے انکو ہول سے اٹھنے لگے تھے ۔شہیر کی آنکھیں کچھ اور بڑی ہوتی چلی گئیں ۔سانس روکے اس نے روہانسی شکل بنا کر خالہ کو دیکھا تھا ۔

"ماما سب خراب کر دیں گی نانو ۔مرتضیٰ سر پھر نہیں مانیں گے ان سے شادی کرنے کے لئے ۔ہمیں انہیں وہاں اکیلا چھوڑ کر نہیں آنا چاہیے تھا ۔"پتلی سی تیز آواز میں وہ فکر مندی سے بولا ۔اسے اب بھی اپنی متوقع ڈانٹ کی پرواہ نہیں تھی ۔فکر تھی تو مرتضیٰ کی تصور کی آنکھ سے وہ ماں کو اس پر گرجتا برستا دیکھ سکتا تھا ۔اک جھرجهری سی لے کر اس نے سر کو نفی میں ہلایا تھا اگلے ہی پل وہ انکے پاس سے ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔

"میں واپس جا رہا ہوں ۔"خالہ نے منہ کھول کر حیرت سے اسکی بات سنی تھی ۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتیں ،دروازہ کھلا تھا اور آندھی طوفان کی مانند صلہ اندر داخل ہوتی دھڑام سے دروازہ بند کرتی انکی طرف مڑی تھی ۔تپے ہوئے سرخ چہرے اور حد درجه سنجیدگی میں کہیں کہیں غصے کی گھن چمک لئے وہ ان کی طرف کڑی نظروں سے دیکھتی آگے بڑھی تھی ۔خالہ بھی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوتیں شہیر کو احتیاطاً اپنے ساتھ لگاتے تھوڑا پیچھے کر گئی تھیں ۔تب تک وہ ان دونوں کے قریب آ کھڑی ہوئی ۔

"کان کھول کر سن لیں آپ دونوں ۔آج کے بعد آپ لوگ پارک نہیں جا رہے ۔اور وہ جو کوئی بھی ہے اسکا اس گھر میں میں دوبارہ نام بھی نہ سنوں ۔خاص کر کے تم شہیر ۔مجھے دوبارہ دوہرانا نہ پڑے ۔تم اس سے اب نہ تو کبھی ملو گے اور نہ ہی اسکا نام اپنی زبان پر لاؤ گے سمجھ آئی ۔"انگلی اٹھا کر شہیر کو دیکھتی وہ بے تاثر سے انداز میں تنبیہ کر رہی تھی ۔اسکی آواز معمول کے مطابق ہونے کے باوجود معمول کے جیسی نہیں تھی ۔

شہیر نے چہرہ اٹھا کر خالہ کی طرف دیکھا تو وہ اسے تسلی دینے کے سے انداز میں آنکھیں جهپکتی صلہ سے مخاطب ہوئی تھیں ۔

"کیا ہوا ہے صلہ ؟کوئی بات ہوئی ہے کیا ؟ایسے کیوں بول رہی ہو ۔تم نے خود ہی تو منا کو اجازت دی تھی اس سے بات کرنے کی ۔"رسان بھرے لہجے میں کہتے ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی تیز آواز میں صلہ نے کاٹ دی تھی ۔

"غلطی کر دی تھی میں نے ۔نہیں کرنی چاہیے تھی مگر اب سدهار رہی ہوں اس لئے خالہ آپ سے بھی ہاتھ جوڑ کر التجا کرتی ہوں میرے حال پر رحم کھائیں تھوڑا سا ۔اس قصے کو یہی ختم کر دیں ۔اسی میں ہم سب کی بہتری ہے ۔"وہ ہاتھ باندھ کر بے بسی بھرے غصے سے کہتی اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے چلی گئی تھی ۔جاتے ہوئے اسکی آنکھوں میں چمکتے پانی نے خالہ کے دل کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔

"صلہ ۔۔۔"ہاتھ بڑھا کر اسے پکارا مگر وہ ان سنی کرتی تیز قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی ۔شہیر گم صم سا کھڑا گردن ترچھی کیے اسے جاتے دیکھتا رہا ۔

"ماما کو کیا ہوا ہے نانو ۔"چہرہ گھما کر خالہ کے متوحش چہرے کو دیکھتے وہ اداسی سے پوچھ رہا تھا جس کا کوئی جواب فلحال خالہ کے اپنے پاس بھی نہیں تھا ۔

رات تک گھر میں اک بوجهل سی خاموشی پھیلی رہی تھی ۔صلہ کے کمرے میں جانے کے بعد ان دونوں میں سے کسی کی ہمت نہیں ہوئی تھی اسے بلانے یا دیکھنے بھی جانے کی ۔اپنی جگہ دونوں کو یقین آ چکا تھا وہ انکے خفیہ منصوبوں سے واقف ہو گئی ہے اسی لئے اس طرح کا سخت رد عمل دے کر گئی ہے۔

کچھ دیر بعد وہ خود ہی کمرے سے نکل آئی تھی ۔چہرہ دھلا ہوا تھا مگر آنکھوں کی سرخی اسکے رونے کی غماز تھی ۔خاموشی سے کچن میں جاتے اس نے دونوں میں سے کسی کو نہیں بلايا تھا ۔

رات کا کھانا بھی مکمل خاموشی کے ساتھ کھایا گیا تھا ۔اس نے اپنے ہونٹ سی لئے تھے تو بولنے کی جرات خالہ اور شہیر نے بھی نہیں کی تھی ۔

البتہ رات کو شہیر کو سلانے کے بعد وہ لیونگ ایریا میں دونوں پاؤں اوپر کیے ایک گھٹنہ موڑے ایک سیدھا رکھے ، جب کسی بت کی مانند بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھ رہی تھی تب اپنے کمرے سے نکل کر کچن کی طرف پانی لینے جاتیں خالہ کے قدم رک سے گئے تھے ۔اسکے پاس آ کر انہوں نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو سراسیمہ نظروں سے چونک کر انہیں دیکھنے لگی ۔



   
Quote
Share: