اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ زندگی کیا ہے تو میرا ایک لفظی جواب ہو گا
کشمکش ۔
پیدائش سے موت تک کی کشمکش ۔
خوشیوں سے دکھوں تک کی کشمکش
غریبی سے امیری تک کی کشمکش
امیری سے غریبی تک کی کشمکش
بچپن سے جوانی تک کی کشمکش
جوانی سے بڑھاپے تک کی کشمکش
دوستی سے اجنبیت تک کی کشمکش
محبت سے نفرت تک کی کشمکش
یہ کہانی ذوفشاں اکبر کی زندگی کی کشمکش کو بیان کرتی ہے اور اس کہانی کے آئنے میں ہم سب کو اپنی زندگیوں کی کشمکش بھی ضرور نظر آئے گی۔