یہ کہانی ایک معصوم سی لڑکی ہے جیسے معاشرے کی نا انصافی نے ظالم خودغرض اور نہایت بے رحم بنا دیا ہے کہ جیسے نہ خود کے زخم نظر آتے ہیں نہ دوسروں کی پروا ہے جو روز دماغی اور دلی جنگ کا نشانہ بنتی ہے جو ظاہری طور پر زندہ ہے مگر دماغی طور پر ختم ہو گئی ہے .
“ہر دوسرے گھر کی کہانی: جب بیوی اپنے آپ کو بھول کر کاموں میں الجھ جاتی ہے اور شوہر کی توجہ سے محروم رہتا ہے، تو رشتے میں تلخی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن ایک ماں کی نصیحت اور خود کو سنوارنے سے محبت دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔ یاد رکھیں، رشتے کو بچانے کے لیے پیار، صبر اور بات چیت ضروری ہے۔”
یہ افسانہ اُن تمام عورتوں کے نام ہے جنہوں نے مرد ذات کے ظلم و ستم برداشت کیے، اور اس بے رحم معاشرے میں جینے کی کوشش کی۔ اُن کہانیوں کے نام جو کبھی زبان تک نہ پہنچ سکیں، اُن چیخوں کے نام جو کانوں تک نہ گئیں، اور اُن خوابوں کے نام جو ظلم کے بوجھ تلے کچلے گئے۔ یہ اُن دلوں کی صدا ہے جو جانتے ہیں کہ اصل انصاف صرف اللّٰہ کی عدالت میں ملے گا۔
آج کے دور میں مرد عورتوں کے معاملے میں اللّٰہ سے کیوں نہیں ڈرتے؟ شاید اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے میں نے اپنی سوچ کو ایک افسانے کی صورت میں بیان کیا ہے۔
یہ ایک روحانی ناول ہے جو انسان کے اندر چھپے مقصدِ حیات اور اصلاحِ نفس کے سفر کو بیان کرتا ہے۔
یہ دکھاتا ہے کہ جب انسان دنیاوی خواہشات کے پیچھے بھاگ کر اپنے رب کو بھول جاتا ہے،
تو اللہ کس طرح اُسے آزمائشوں کے ذریعے اپنی طرف واپس بلاتا ہے۔
جو خود کو تلاش کرنے کا سفر کرتے ہیں نہ وہ اتنے منصوبے نہیں بناتے
یہ لڑکی مجھے عام نہیں لگ رہی کچھ تو عجیب منفرد بات ہے اس میں اس کی آںکھوں میں ایک ان دیکھی قوت کئی راز چھپے ہیں ایسی شخصیتوں سے اب کم ہی سامنہ ہوتا ہے انہوں نے دہیمی آواز میں ساتھ بیٹھے لڑکے کے ساتھ اپنا نظریہ پیش کیا جو چہرا دوسری جانب کیئے بیٹھا تھا
زندگی ٹرین کےایک ڈبے کے مانند ہے جس میں ہم اپنی یادیں بناتے ہیں
پر ٹرین کی سیٹی کی آواز وقتاً بہ وقتاً یہ یاد دلا تی رہتی ہے کہ ہم یہاں کچھ وقت کے مہمان ہیں
ہر کہانی کا اختمام حاصل ہوجانا نہیں ہوتا ۔ حاصل ہوکر کہانی ختم ہوجاتی ہے پوری ہوکر زمانے میں کھو جاتی ہے لیکن کچھ لوگ لاحاصل ہوکر بھی اگلے شخص کا کردار بدل دیتے ہیں اس کی روح ان سے جڑ جاتی ہے