Poetry Collection by Farheen Abrar | Novels Hub
Authors

Poetry Collection by Farheen Abrar

غزل

                             غم

لوگ سنبھل جاتے ہیں کٹھن مراحل  سے گزر کر
جو رہ جاتے ہیں غموں میں ڈوبے ہوۓ
وہ اہلِ غم کیا کریں؟
یوں بے سبب الجھے ہوۓ
کبھی ہنستے  ہوۓ  کبھی روتے ہوۓ
تپتے صحرا کی مانند کبھی جلتے ہوۓ
برف کی مانند کبھی پگھلتے ہوۓ
خوابیدہ کبھی حالات سے لڑتے ہوۓ
  کبھی خارزار میںکبھی ڈھلتی شام میں
چلتے رہے دیۓ امیدوں کے بُجھاتے ہوۓ
                     عمرِ رواں گزر رہی ہے گردش میں اگر
سنو اہلِ زمانہ ابھی سنبھلنا ہے مجھے
ان غموں کو پَسِ پُشت ڈال کر
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close