Authors

Nawaye Dill

Nawaye Dill written by Riffat Fatima

Riffat Fatima is a new Social Media writer and now her Novels/Poetry are being written with Novels Hub. Novels Hub is a new platform for new or well known Urdu writers to show their abilities in a different genre of Urdu Adab.

Regards

Novels Hub

Downloading Link

Complete Poetry Collection Nawaye Dill Online Reading

 

حمد

میرے مشکل کشا اے میرے کبریا

مجھ پہ کردے کرم اے میرے کبریا

میں گنہگار ہوں، میں سیہ کار ہوں

تیری رحمت کی لیکن طلبگار ہوں

اے میرے کبریا ہے یہ کہنا تیرا

حاوی میرے غضب پہ ہے رحمت میری

اے میرے کبریا مجھ پہ کردے رحم

مجھ پہ کردے کرم اے میرے کبریا

میرے مشکل کشا اے میرے کبریا

❤❤❤❤❤

میری سادگی دیکھ

میں عشق بلالی یا خدا چاہتی ہوں

میری سادگی دیکھ کیا چاہتی ہوں

نہیں چاہتی کسری سی شان شوکت

فقط میں نصیب ابوذر مانگتی ہوں

مجھے دنیا کے رنگ بھاتے نہیں ہیں

ابوبکر سی سادگی چاہتی ہوں

میری اک التجا یہ بھی ہے میرے رب

میں عثماں غنی سی حیا چاہتی ہوں

میرے دیس پہ مولا کردے رحم اب

میں عمروعلی کا عدل چاہتی ہوں

❤❤❤❤❤

میری سادگی دیکھ (۲)

مجھے نہ طلب ہے نہ چاہت ہے زر کی

نہ مال نہ دولت نہ شاہی قصر کی

نہ شہرت کی چاہت مانند قمر کی

بس اک رمق انسانیت چاہتی ہوں

میری سادگی دیکھ کیا چاہتی ہوں

حلب کے مسلماں فلسطیں کے بچے

وہ شام و یمن جو ہیں روتے بلکتے

جو کشمیر وادی میں شعلے بھڑکتے

بس ان کے لیے میں اماں چاہتی ہوں

میری سادگی دیکھ کیا چاہتی ہوں

یہ انساں نما جو ہیں بربر سے پھرتے

ہیں اپنا یہ دامن لہو سے جو بھرتے

ہیں ظالم درندے یہ وحشی سے شکرے

ملے ان سے سب کو نجاہ چاہتی ہوں

میری سادگی دیکھ کیا چاہتی ہوں

❤❤❤❤❤

 

نثری نظم

تم جانتے ہو لوگو؟؟

یہ وطن کیونکر قائم ہے؟؟

تم جانتے ہو لوگو؟؟

کہ وہ کون ہیں جن کے دم سے۔۔

ہزار ہا سانحات کے باوجود

امید کی رسی قائم ہے۔

آؤ بتاؤں میں تم کو

کہ وہ کون مسیحا ہیں۔

جو سرحدوں پہ

پہاڑوں میں

برف زاروں میں

ریگزاروں میں

اپنا چین نیند آرام

سب تیاگ دیتے ہیں

وطن پہ مشکل کی کوئی گھڑی ہو

وہ گھڑی قوم پہ کتنی ہی کڑی ہو

وہ ہمیشہ قوم کے آگے مضبوط دیوار بن جاتے ہیں

سنو ہم وطنو

کہ وہ کون مسیحا ہیں

وہ ، وہ ہیں جو گلیشیئرز پہ

برف کا کفن اوڑھ کر دائمی زندگی کا آغاز کرتے ہیں

وہ، وہ ہیں جو

اپنے لہو سے

وطن کے گلشن کی

آبیاری کرتے ہیں

وہ، وہ ہیں جو ہماری چین کی نیند کی خاطر

خود کو رتجگوں کے حوالے کردیتے ہیں

اب جان تو گئے ہی ہوگے

کہ وہ کون مسیحا ہیں

وہ ہمارے عظیم محافظ ہیں

کہ رب کی رحمت کے بعد

جن کے دم سے یہ دھرتی سلامت ہے

❣❣❣❣❣❣❣❣❣

ماضی

اے وقت

ذرا سا تھم تو سہی

تھوڑا سا پلٹ کر دیکھ سہی

میرے ماضی کی دھندلی تصویر

میرے دیکھ کی وہ اک ریکھ سہی

یہ ریکھ مگر ہے تیری عطا

جیسے بسے بسائے شہروں میں

سیلاب گزرتا جائے ہے

اور اپنی تباہی کے وہ نشاں ہر شے پہ چھوٹے جائے ہے

کچھ ایسے ہی۔۔۔۔

ہاں کچھ ایسے ہی تو نے مجھ کو

بن باس کا سفر عطا کی

دے کر پھر انوکھا سا وہ سفر

کوئی ہم سفر نہیں ساتھ دیا

اس تپتے جلتے صحرا میں

بے حال سے مجھے بدحال کیا۔۔

اے وقت کبھی تو تھم تو ذرا

آ پاس میرے مجھے دیکھ ذرا

❤❤❤❤❤❤❤

میرے بدگماں

میرے بدگماں

تیری خیر ہو

میری بات سن

رک تو ذرا

تو ہے کیوں خفا؟؟؟

میرے بدگماں

تو مجھے بتا

تجھے کیا ہوا؟؟؟

تیرے دل کا موسم اس قدر

جو بدل گیا تو کس لیے؟؟؟

مجھے کرکے تنہا اس قدر

اس زندگی کے سراب میں

تو جو آگے مجھ سے نکل گیا

مجھے چھوڑ کر میرے بدگماں

تو یہ کیوں بھلا؟؟

سن تو سہی

میری بات سن

مجھے بھول جاؤ گے تم مگر

تمہیں کیسے بھولوں میں یہ بتا۔۔۔۔۔۔۔

میرے بدگماں ۔۔۔ میرے بدگماں ۔۔۔

❤❤❤❤❤❤❤

محبت تم سے نفرت ہے

محبت تم سے نفرت ہے

جو تم میں مبتلا ہو

تم اسی کو مار دیتی ہو

جوقیدی ہو تمہارا اسکو تم

دکھوں کے بحر میں کچھ اس طرح سے غرق کرتی ہو

کہ چاہے لاکھ سر پٹخے

یا ڈالے واسطے تم کو

ڈبو کے تم تو رہتی ہو

مجھے تم سے عداوت ہے

محبت تم سے نفرت ہے

کہ تم وہ سنگ دل حاکم ہو

جس کے شہر میں کوئی بھی انساں

سر اٹھا کر چل نہیں سکتا

کہ تم تو وہ قلعہ ہو

جہاں سانسوں پہ بندش ہے

جہاں سانسیں اگر چلتی بھی ہوں تو۔۔۔

لاکھوں پہروں میں انہیں ہر آن ہر لمحہ تھم جانے کا خدشہ ہے۔۔۔

کہ گویا اب ۔۔۔ ابھی۔۔۔ اس وقت۔۔۔

یا جانے کب کہاں کس وقت۔۔۔۔

وفا کے سنگ دل فرماں روا کا

بلاوا در پہ آ ٹھہرے۔۔۔۔

بللا کر اپنے پیروکار کو وہ

کسی سولی پہ چڑھا دے

نہ جانے کب۔۔۔

کہاں کس موڑ پہ۔۔۔

کیا فیصلہ کردے۔۔۔

جدائی موت ٹھہرا دے۔۔۔

یا ملن کرکے مقدر

زندگانی کو امر کردے

جو تو چاہے وہی کردے

مگر سن لے۔۔۔

مجھے تم سے عداوت ہے

محبت تم سے نفرت ہے

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

!!میرے خواب

میری آنکھوں میں بستے خواب

سسکتے ٹوٹتے جلتے

ازل سے مرثیہ کہتے

میری بنجر سی آنکھوں میں

بکھرتے خواب

مثیل صبح کا تارہ

ذرا سی دیر کو نکلے

ابھرتے چمکتے پھر ڈوبتے

ذرا بے رنگ سرگوشی سی کرتے

میری ہاری تھکی آنکھوں سے

بہتے خواب

میری بے رنگ آنکھوں کے

سبھی رنگیں قبا سے خواب

کہ بے آواز آنکھوں کے

صدائے قرمزی سے خواب

میری ساکن سی آنکھوں کے

مہاجر سے سبھی ہیں خواب

اذیت کے عذابوں میں

بہار خوشنما سے خواب

💕💕💕💕💕💕💕💕💕

اپنا جیون

بھور سمے جب دور افق پہ

لالی سی چھا جائے ہے

اور ڈوبتا سورج دیکھ کے

یوں دل میرا ڈوبا جائے ہے

اک دن بیکار جیئے پھر ہم

اک شب بے خواب گزاریں گے

بے خوابی سے ہاں یاد آیا

کچھ خواب تھے ہم نے بھی دیکھے

کچھ تعبیریں بھی پوچھی تھیں

تیرے سنگ جینے اور مرنے کی

ساری تدبیریں سوچی تھیں

پھر خواب وہ سارے ٹوٹ گئے

اور سب تعبیریں جھوٹ ہوئیں

اب بے خوابی کی راتیں ہیں

اور بیکاری کے دن اپنے

یہی اپنا جیون ہے جاناں

بیکار جیئے پھر ہم جاناں

💫💫💫💫💫💫💫💫💫

غزل

کون کس کا بھلا قتیل ہوا

شہر کا شہر بے فصیل ہوا

زندگی زندان در زندان ہے

اور جینا بہت طویل ہوا

خوف کی تیرگی ہے ہر جانب

آس کا راستہ قلیل ہوا

💫💫💫💫💫💫💫💫💫

جوا

کھیل بیٹھے انا کا ہم جوا

کھیل بیٹھے ہیں جیت بیٹھے ہیں

اب محبت کو ہار بیٹھے ہیں

ساتھ تیرا گنوا کے بیٹھے ہیں

💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕

محبت

محبت چاند ہے؟؟؟ یا چاند جیسی ہے؟؟

محبت دھوپ ہے؟؟ یا دھوپ جیسی ہے؟؟

محبت رنگ ہے؟؟ یا پھر دھنک ہے؟؟؟

محبت سانس ہے؟ یا زندگی کا استعارہ ہے؟؟

محبت میں نفع ہے یا خسارہ ہے؟؟

محبت رنگ خوشبو ہے یا پھر ٹوٹا ہوا تارہ؟

محبت آسماں ہے یا کوئی بادل ہے آوارہ

محبت کے ہزاروں رنگ

لاکھوں استعارے ہیں

قسم لے لو مجھے تو

سب کے سب رنگ ہی پیارے ہیں

💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫

محبت جاودانی ہے

کبھی جو داستاں لکھوں

محبت کے سفر میں

جو اذیت میں نے جھیلی ہے

عمر جو میں نے رولی ہے

جو خالی میری جھولی ہے

اسے میں رائیگاں لکھوں؟؟

!!!نہیں ہمدم

محبت کی کہانی میں

نفع نقصان کیا لکھوں؟؟؟

!!!ارے پاگل

محبت کے سفر کی داستاں کو

میں تجارت لکھ نہیں سکتی

کہ میرا ماننا یہ ہے

محبت آسمانی ہے

ہم زمیں زادوں کی یہ بیکار

نفع نقصان کی باتوں سے

کہیں ماورا ہے

حقیقت میں محبت جاودانی ہے۔۔۔۔

محبت آسمانی ہے۔۔۔۔

💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫

وفا جن کی وراثت ہو

بہت ہی دور سرحد پر

کھڑے ہیں سر بلند ہو کر

کوئی موسم ہو شدت کا

ڈٹے ہیں وہ جری ہو کر

وطن کی آن پر جو

آنچ تک آنے نہیں دیتے

وفا جن کی وراثت ہو

وہ میلی آنکھ دشمن کی

کبھی اٹھنے نہیں دیتے

کوئی لمحہ ہو آفت کا

گھڑی کوئی کٹھن سی ہو

عوام الناس کے سر پر

کوئی مشکل سی ٹھہری ہو

تو یہ سینہ سپر ہیں پھر

کہ اس دیس سے وفاداری

وراثت میں ملی جن کو

وہ مٹ جاتے ہیں کٹ جاتے ہیں

لیکن۔۔۔۔

اس وطن کی آن پر

آنچ تک آنے نہیں دیتے

وفا جن کی وراثت ہو

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.