Afsanay

Zulam Rahe or Aman Bhi Ho

میرا قصور یہ ہے کہ میرا کوئی بھائی نہیں ہے؟ یا باپ حیات نہیں ہے؟ جن کے باپ بھائی نہیں ہوتے اُنکی زندگی نہیں ہوتی؟ اُنھیں گلی محلے میں سے گزرنے نہیں دیتے لوگ۔۔ اس میں میرا کیا قصور ہے؟ وہ چینخ رہی تھی دانی اسے چپ کروانے کی کافی کوشش کر رہی تھی پر وہ چپ نہیں ہورہی تھی اور ہمیشہ کی طرح سدرہ بیگم آنکھوں میں آنسو لیے اپنی بیٹی کو دیکھے جا رہی تھی۔۔
آج بھی جب وہ دہی لینے دکان پر گئی تو وہ دکان دار گانا لگائے بیٹھا تھا۔۔ پہلے اُسکا باپ کام کرتا تھا دکان پر تو مہرین کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا پر اب اسکا بیٹا بیٹھتا ہے دکان پر۔۔ مہرین کچھ بھی لینے جائے وہ ٹھرک پن کا مظاہرہ کرتا تھا مہرین کو دیکھتے ہی خود بھی گانے شروع ہوجاتا ہے۔۔ سودا دینے کے بہانے اُسکا ہاتھ پکڑتا تھا اور کئی بار اپنا نمبر دینے کی بھی کوشش کی جو کہ مہرین نے اسکے منہ پر مار دیا پر دلاور کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔
آج بھی وہی سب ہوا تھا اس لیے مہرین غصے میں تھی، جب اس نے چیخنا چلانا بند کیا تو سدرہ بیگم اُسکے پاس آ بیٹھی اور پیار سے گلے لگایا۔۔ دانی نے ماں بیٹی کو اکیلا ہی چھوڑنا بہتر سمجھا اور واپس اپنے گھر چلی گئی
“میری پیاری بیٹی۔۔ میں نے ساری عمر صبر کیا ہے اور میں چاہتی ہوں تم بھی صبر کرو، صبر سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے۔۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے” آنکھوں میں آنسو لیے وہ مہرین کو سمجھا رہی تھی مہرین چپ ہوگئی
” سمجھ رہی ہو میری بات؟ سدرہ بیگم نے اسکی طرف دیکھا تو اس نے ہولے سے اثبات میں سر ہلایا
” اب جاؤ منہ ہاتھ دھو کر اؤ میں کھانا لگاتی ہوں” مہرین نے پھیکی مسکراہٹ ماں کی طرف اچھالی اور اپنے کمرے میں گھس گئی
                              «»«»«»«»«»
دو دن بعد
وہ جلدی جلدی کالج جانے کے لئے تیار ہورہی تھی۔ آج اُسکی آنکھ دیر سے کھلی تھی۔۔وہ آج ناشتا کیے بغیر جا رہی تھی سدرہ بیگم اسے ڈانٹ رہی تھی پر وہ تیار ہونے میں مصروف تھی۔۔
جلدی سے اپنا بیگ اٹھایا اور سدرہ بیگم کا گال چوم کر وہ جلدی سے گھر سے نکل آئی
” توبہ توبہ یہ لڑکی مجال ہے جو میری سن لے” وہ خود سے کہتے ہوئے پھر سے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی
مہرین تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے جا رہی تھی ساتھ ہی دلاور بھی اُسکے ہم قدم ہو لیا۔۔ پر مہرین نے اسے نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھا
” ویسے تمہیں پتا ہے کیا ؟ اچھا نہیں پتا تو بتا دیتا ہوں ایک تو تم ہو بہت حسین اوپر سے اس یونیفرم میں اور حسین لگتی ہو خالہ کو کہو نظر اُتار لیا کرے تمہاری” دلاور بی اے پاس تھا شکل بھی اچھی خاصی تھی۔۔ بس اس ٹھڑک پن کی وجہ سے مہرین کو اس سے سخت نفرت تھی
” تم میری بات سن رہی ہو؟ مہرین نے اور تیز چلنا شروع کیا وہ پیدل ہی کالج جاتی تھی۔۔ پہلے تو کبھی دلاور ایسے اُسکے پیچھے نہیں آیا تھا۔۔ شاید وہ نئے طریقے سے اب اسے تنگ کرنا چاہتا تھا۔۔
” یار مہرین میری بات تو سنو! جب کافی دیر تک وہ باکواس کرتا رہا اور مہرین کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو وہ اُسکے آگے آ کھڑا ہوگیا
” کیا بدتمیزی ہے یہ؟ راستہ چھوڑو میرا” مہرین کو اب غصہ آرہا تھا
“یار میری بات تو سنو” دلاور نے ابھی اپنی بات مکمل ہی نہیں کی تھی کہ مہرین نے اُسکے گال پر تھپڑ دے مارا
” آئندہ اگر میرا راستہ روکا تو اس سے بھی بُرا ہوگا” اتنا کہہ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتی چلی گئی۔۔ پیچھے دلاور اپنے گال پر ہاتھ رکھے اسے جاتا دیکھ رہا تھا
” اس تھپڑ کا بدلہ میں ضرور لوں گا۔۔ تم صرف انتظار کرو” غصے کی شدت سے دلاور کی آنکھیں لال ہوچکی تھی وہ غصے سے کانپ رہا تھا
اِدھر مہرین کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا۔۔ وہ غصے میں تھپڑ تو مار ائی تھی پر اب آگے کیا ہوگا یہ سوچ کر اُسکا جسم ڈر کے مارے کانپ رہا تھا
” دلاور اب کیا کریگا؟ کہیں وہ کچھ غلط نہ کردے” سوچ سوچ کر وہ پریشان ہوگئی تھی۔۔
/////////////////////////
ایک ہفتے بعد
مہرین اپنی دوست دانین کے گھر سے واپس آرہی تھی راستے میں دلاور کی دکان پر اُسکی نظر گئی تو وہ بند تھا۔۔ اس دن کے بعد اسکا دلاور سے سامنا نہیں ہوا تھا
مہرین کو لگا دلاور نے اُسکی جان چھوڑدی۔۔ یہ سوچ کر ہی اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے گھر کے راستے چل دی۔۔ تھوڑا آگے چلتے ہی کسی نے اسکا دوپٹہ پکڑا مہرین کی سانس اٹک گئی اس نے ایک دم سے مڑ کر پیچھے دیکھا تو وہاں دلاور کھڑا تھا اُسکی آنکھیں لال تھی اور چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی
” دلاور تم ” اس سے زیادہ وہ کچھ نہ بول سکی دلاور نے ایک جھٹکے سے اسکا دوپٹہ اتار کر اسکے گلے میں لپیٹا اور دونوں طرف سے اس دوپٹے کو کھینچ رہا تھا۔۔
مہرین کی آنکھیں اُبل کر باہر آرہی تھی اُسکا دم گھٹ رہا تھا اُسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا تھا اور شاید اب اسکی آخری سانسیں چل رہی تھی۔۔ آہستہ آہستہ اُسکی آنکھوں کے سامنے بلکل اندھیرا آچکا تھا اور اسکی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگئی تھی۔۔!
دلاور نے ایک دم سے اسکا دوپٹہ چھوڑ دیا۔۔ اور کھڑا ہوگیا دو قدم پیچھے ہو لیا اور گہری گہری سانسیں لینے لگا۔۔
” کیا کہا تھا تم نے اگلی بار اگر راستہ روکا تو اس سے بھی بُرا کروگی۔۔” دلاور سامنے پڑی مہرین کی لاش سے بات کر رہا تھا۔۔ غصے اور خوف سے کانپ رہا تھا۔۔ دل میں ایک خیال بھی آیا تھا کہ یہ کیا کردیا دلاور۔ پر اس وقت وہ صرف اپنے دماغ کی سن رہا تھا۔۔
دو لوگوں کی آواز سنائی دی تو وہ ایک دم سے وہاں سے بھاگ کر اپنے گھر چل دیا۔۔
///////////////
تین دن بعد
سدرہ بیگم اور دانی ساتھ بیٹھی تھی مہرین کی موت کا صدمہ بہت گہرا تھا تین دن مسلسل رو رو کر اب اُنکے آنسو خشک ہوچکے تھے وہ دونوں چپ چاپ بیٹھی تھیں
ایک ماں کی اکلوتی اولاد کو مارا گیا تھا وہ اپنی جوان بیٹی کے موت کا صدمہ لیے بیٹھی تھی۔۔ دنیا میں اسکا سہارا اللہ کے بعد مہرین ہی تھی۔۔ شاید اُسکی پوری کائنات لوٹ گئی تھی۔۔ وہ ایک بے بس لاچار ماں تھی۔۔ وہ تو کسی سے اتنا بھی نہ پوچھ سکتی تھی کہ اسکی بیٹی کو کس نے مارا؟ کیوں مارا؟ اُسکا قصور کیا تھا؟
اگر وہ کچھ پوچھتی تو لوگ طرح طرح کی باتیں بناتے جن کی وجہ سے وہ چپ تھی
اور ایک لڑکی کی بہن جیسی دوست کو مارا گیا تھا۔۔ دانی کا پورا بچپن مہرین کے ساتھ گزرا تھا۔۔ وہ کیسے ایک دم سے اُسے چھوڑ کر چلی گئی۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔ دونوں خالی ہاتھ بیٹھے تھے۔۔ سدرہ بیگم نے منع کردیا تھا کہ مہرین کے کیس کو پولیس تک کوئی نہ لے جائے۔۔
” اب وہ مر گئی ہے میں اپنی بیٹی کا اور تماشا نہیں بنانا چاہتی۔۔۔!
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے؟ تم ہی کہو
ہنستی گاتی روشن وادی
تاریکی میں ڈوب گئی
بیتے دن کی لاش پہ آے دل
میں روتی ہوں تم بھی رو
ہر دھڑکن پر خوف کے پہرے
ہر آنسو پر پابندی
یہ جیون بھی کیا جیون ہے
آگ لگے اس جیون کو
اپنے ہونٹ سیئے ہیں تم نے
میری زبان کو مت روکو
تم کو اگر توفیق نہیں
 مجھ کو ہی سچ کہنے دو
( حبیب جالب )
ختم شد
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.