Afsanay

Zaat e Rihaai

Afsana

اوائل دسمبر کی وہ اداس خشک شام تھی۔ اونگھتے سورج کی تپش کا احساس نہ ہونے کے برابر تھا۔ جاڑے کی اس جما دینے والی سردی میں جہاں ہر ذی روح اپنے محفوظ آشیانوں میں دبکی بیٹھی تھی وہاں وہ سانولی پکی رنگت کی مالک گھنگھریالے بالوں والی انتیس سالہ عورت اس خاموش ویران سٹیشن سے چند قدموں کے فاصلے پر ایک قدآور درخت تلے سیمنٹ کے ادھ ٹوٹے بینچ پر موبائل ہاتھ میں تھامے گم سم سی بیٹھی تھی۔ دماغ سوچوں کی ڈوڑوں میں الجھا ہوا تھا۔ چہرے کے تاثرات اسکے اندر کی اظطرابی حالت کو بیان کر رہے تھے۔ اس نے نظر جھکا کر ہاتھ میں تھامے بٹنوں والے موبائل کو دیکھا جس کی جلتی بجھتی بتی کسی نئے پیغام کا پتہ دیتی تھی۔ اس نے پیغام بھیجنے والے کا نام پڑھا تو چہرہ بےتاثر تھا۔ کبھی یہ ہی نام اپنے موبائل پر جگمگاتا دیکھ اسکا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ جاتا تھا آج نہیں کانپا تھا کیونکہ جس خوف کے باعث وہ تب ڈرتی تھی اب اس سے بڑے خوف کا سامنا کر رہی تھی۔ خزاں کی خشک ہواؤں سے پودوں،بیلوں اور درختوں کے پتے ایک خاص انداز میں آہستگی سے نیچے آ گر رہے تھے۔
چھ سال،.. چھ سال کیا کم ہوتے ہیں ضمیر کا بوجھ اٹھانے کو؟
خیبر میل ٹرین پوری رفتار سے ہوا کو چیرتے ہوئے آئی اور گزر بھی گئی لیکن اس وجود میں اس دوران کوئی حرکت واقع نہیں ہوئی سوائے گھنگھریالے بالوں کی چند لٹوں کے جو چہرے پر آئیں اور ہٹ گئیں۔ ٹرین کی تیز آواز اس کے کانوں کو کسی صور کی مانند محسوس ہوئی تھی۔ یہ آواز پچھلے چھ سالوں سے کسی آسیب کی مانند اس کے تعاقب میں تھی۔ ہوا کی دوش پر رقص کرتے سوکھے زرد پتے تالیاں بجاتے پاس سے اڑتے ہوئے بھی اس کی توجہ حاصل نہ کرسکے۔ خیالوں میں سوئی ایک تلخ یاد جاگی تو اسکے وجود کو خوف نے کسی اژدھے کی مانند اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔ اسکے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا۔ اس نے ایک خوفزدہ سی نظر اپنے ہاتھ میں تھامے موبائل پر ڈالی جس کی خاموشی کالی سکرین سامنے تھی۔ سکرین کی سیاہی ایک سلگتے ہوے منظر کو اسکے دماغ کی سلیٹ پر ابھار گئی۔ خوف ہی خوف تھا چاروں طرف… نہیں کہیں سے رونے کی آواز بھی آرہی تھی کوئی رو رہا تھا، کوئی چیخ رہا تھا، مدد کے لیے پکار رہا۔
اسکے قدموں تلے سے جیسے آہستہ آہستہ زمین سرکتی جارہی تھی۔
وہ آواز کسی بچے کی تھی…کسی چار سالہ تکلیف سے کراہتے لڑکے کی۔ وہ لڑکا خوبصورت تھا۔ گورا رنگ اور پرکشش نین نقش کا مالک معصوم بچہ۔
تھک کر اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے سر بینچ کی پشت پر ٹکایا تو آنکھوں میں کسی کا عکس جھلملایا۔ سانولی رنگت کا گھنگھریالے بالوں والا چار سالہ ہسپتال کے بستر پر تڑپتا ہوا بچہ۔
اس کے چہرے پر تکلیف ابھری۔ پتہ ہی نہ چلا کب چہرے پر گرم سیال بہنے لگ گیا۔
“کسی اور کی اولاد کی تکلیف نے تمہیں تکلیف نہ پہنچائی پھر اپنی اولاد کی تکلیف کیوں تکلیف پہنچا رہی ہے؟” کانوں میں کسی کی شکوہ کرتی آواز آئی۔
یہ فیصلہ مشکل تھا بہت بہت بہت مشکل!
“میں یہ نہیں کرسکتی؟” ہاتھ میں تھامے موبائل کو گود میں گرا کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“جب کوئی کام مشکل لگے تو جانتی ہو کیا کرنا چاہیے؟” کانوں میں شناسا سی آواز ابھری تو اسکے آنسوؤں کی روانی میں کمی آئی۔
“کیا کرنا چاہیے؟” اسے اپنی آواز بھی کہیں سے سنائی دی تھی۔
“ہر کام کا کوئی نا کوئی انجام ضرور ہوتا ہے۔ ہمیں بس یہ کرنا ہوتا ہے کہ اس کام کے دو ایکسٹریمسٹ نتیجوں کو سوچنا ہے۔ ایک نتیجہ جو خوبصورت ہو، بالکل کسی امید کی طرح اور ایک نتیجہ جو بھیانک ہو کسی خوف جیسا۔ پھر دیکھنا ہے کہ اس خوف کا پلڑا زیادہ بھاری ہے یا اس امید کا۔ اگر امید کا پلڑا بھاری محسوس ہو تو وہ کام لو۔ اور اگر خوف کا پلڑا بھاری محسوس ہو تو چھوڑ دو۔” وہ نرم سی آواز اس کے آنسوؤں کو بالکل روک گئی تھی۔
اس نے آنکھیں بند کر کے دو ایکسٹریم نتیجوں کو سوچا۔
نتیجہ سامنے آیا تو چناؤ مشکل ہوا۔ ایک طرف خوبصورت دنیا تھی اور آخرت کی بربادی تو دوسری طرف خوبصورت آخرت اور دنیاوی بھلائی کی امید۔ فیصلہ مشکل ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں۔ دنیا کے برعکس آخرت کا پلڑا اسے بھاری ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
مومن کے لیے دنیا کا پلڑا بھاری ہوتا ہی نہیں ہے اگر ہو جائے تو وہ مومن نہیں رہتا۔
اس نے گود سے موبائل کو دوبارہ اٹھایا تو اس بار خوف کی بجائے آنکھوں میں ایک عزم تھا پختہ عزم۔
وہ رہائی چاہتی تھی اپنی ذات سے رہائی، تلخ یادوں سے رہائی، ضمیر کی زخمی کردینے والی سخت پھوار سے رہائی اور رہائی کبھی آسان نہیں ہوتی۔ رہائی کے بدلے میں کچھ کھونا شرط ہے۔ اور کچھ کھونا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ کھو کر ہی درجے ملتے ہیں۔ درجے پانا آسان نہیں ہوتا۔ اگر آسان ہوتا تو آج سب ہی بڑے بڑے درجوں پر ہوتے۔ قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور قربانی دینے کا حوصلہ سب میں نہیں ہوتا۔
وہ قربانی دینے جارہی تھی، وہ کچھ اپنا سب سے قیمتی کھونے جارہی تھی وہ درجہ پانے جارہی تھی۔
فون بک سے مطلوبہ نمبر نکال کر کچھ لمحے اس دیکھا۔
“کچھ بولتی کیوں نہیں ہو زلیخا؟ بولو خدا کے لیے بولو۔ تمہارے الفاظ میرے معصوم بچے کو انصاف دلوائیں گے۔” اس منت کرتی آواز میں کرب شامل تھا گہرا کرب۔
“تمہیں ایک ماں کی ممتا کا واسطہ میرے بچے کو انصاف دلوا دو۔ ” وہ خوبصورت نین نقش والی گوری رنگت کی مالک چہرے پر بےبسی سجائے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔ وہ ایک ماں تھی جو اس کے پاس فریاد لے کر آئی تھی۔ زلیخا خدا نہیں تھی نہ اختیارات کی مالک تھی۔ لیکن کبھی کبھی اللہ انسانوں کو اختیارات دے کر آزماتا ہے۔ وہ فرعون بھی نہ تھی ظلم اس نے نہیں کیا تھا۔ پھر وہ کون تھی؟ وہ بزدل تھی۔
جیسے فرعون کو بےشمار اختیارات دے کر آزمایا گیا تھا اسی طرح اسے بھی اختیارات دے کر کبھی آزمایا گیا تھا۔ فرعون ان اختیارات کے ملتے ہی خود کو خدا سمجھ بیٹھا تھا، ایک ظالم خدا۔ اس نے خود کو خدا تو نہیں سمجھا لیکن اس نے خدا کی صف کو چھوڑ دوسرا راستہ چنا تھا۔ فرار، رہائی، آزادی انہی سب کے لیے تو اس نے اپنے لبوں کو مقفل کر دیا تھا چھ سال پہلے اور آج چھ سال گزر جانے کے بعد بھی فرار، رہائی، آزادی ہی وجہ تھی اس قفل کو کھولنے کی۔
پژمردہ چہرے پر سجی شدتِ گریہ سے سوجی آنکھوں میں ویرانی تھی۔ نمبر ملا کر اس نے موبائل کان سے لگایا تو ہاتھوں میں لرزش واضح تھی۔
“ہیلو! زلیخا…” فون پر کسی نے اسکا نام بےتابی سے لیا۔ اس نے کرب سے آنکھیں بند کیں۔ تو کیا وہ آج تک اسکے جواب کے انتظار میں تھی؟ تو کیا آج بھی اختیار اس کے ہی ہاتھ میں تھا؟ کون کہتا ہے اختیار رکھنے والا آزاد ہوتا ہے؟ کوئی اس سے آکر پوچھے تو سہی کہ وہ حالات کی کتنی ظالم کڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔
“زلیخا یہ تم ہی ہو نا؟” سامنے والے کا لہجہ آج بھی بےبسی لیے ہوئے تھا۔ ماں ہمیشہ سے بےبس ہی کیوں ہوتی ہے؟ سامنے والی ایک ماں تھی جو چھ سال پہلے اپنے بچے کے ساتھ ہوئے ظلم کا انصاف لینے کو زندہ اور بےتاب تھی۔ یہاں بھی ایک ماں تھی جو اپنی اولاد کی سانسوں کے لیے بےتاب تھی۔
“میں گواہی دینے کو تیار ہوں۔” لمبی خاموشی کے بعد زلیخا نے خود کو کہتے سنا تو چند لمحوں کے لیے وقت تھم گیا شاید کسی کی سانسیں بھی تھمی تھیں۔ چلتی ٹھنڈی ہوائیں زرد پتوں کو اڑاتی بھی تھمی تھیں۔ اس نے فون کان سے ہٹا کر بند کرکے گود میں رکھ دیا۔ اور چہرہ ہاتھوں میں تھام کر رو دی۔ دل کا ایک بوجھ سرکا تھا۔ موبائل تھرتھرا رہا تھا لیکن اس نے ایک بھی نظر اس پر ڈالنے کی زحمت نہ کی۔ وہ جس تکلیف سے اس لمحے گزر رہی تھی یہ صرف یا وہ جانتی تھی یا اسکا رب۔ دنیا کے مقابل آخرت کو چننا آسان نہیں ہوتا۔ کانٹوں پر سفر کرنا ہوتا ہے پھر ہی خوبصورت منزل ملتی ہے۔ موبائل ہاتھ میں تھامتی وہ بینچ سے اٹھی تو لگا جیسے ان کچھ لمحوں میں وہ میلوں کی مسافت طے کر آئی ہے۔ اپنی نم آلودہ آنکھوں کو انگلیوں کے پوروں سے صاف کرتی وہ قدم بہ قدم ڈوبتے سورج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ایک اور ٹرین تیزی سے گزر گئی اور وہ چلتی گئی۔ نارنجی سورج ڈوب رہا تھا ساتھ اسکی ذات بھی کہیں ڈوب رہی تھی۔ وہ اپنی ذات کو خاک کرکے ظلم کو خاک کرنے جارہی تھی۔ وہ حق کے ساتھ کھڑی ہونے جارہی تھی۔ وہ ڈوب کر ابھرنے جا رہی تھی۔ سرکتے لمحوں میں دور کہیں اسکا سراپا بھی سورج کے ساتھ گم ہو گیا۔
دو مہینے بعد….!
عدالت کمرے کی باہری جانب وہ دونوں آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ زلیخا کی نم آنکھوں میں چمک تھی دنیا فتح کرلینے جیسی چمک۔
“چار سال میں لگاتار تمہارا دروازہ کھٹکھٹاتی رہی زلیخا کہ تم میرے بچے کو انصاف دلواؤ۔ اور ہر بار میں نامراد ہی لوٹائی گئی۔ پھر میں نے تمہارے دروازے پر آنا بند کردیا، تمہارے سامنے جھولی پھیلانا چھوڑ دی۔ اللہ کے سامنے جھولی پھیلائی۔ اس سے مانگا دو سال لگاتار اس سے انصاف کی فریاد کرتی رہی۔ اب تو میں تھکنے لگ گئی تھی دعائیں کرنا چھوڑ چکی تھی تمام دروازوں کو بند پا کر میں پلٹنے لگی تھی زلیخا کہ اس دن تمہارا فون آگیا۔ اور مجھے زندگی کی نوید مل گئی۔” حبیبہ روتے ہوئے زلیخا کا ہاتھ تھامے کہہ رہی تھی۔
“میرا جرم میری خاموشی تھی۔ چار سال ایک سسکتی ماں کی بےبسی دیکھ کر میں خاموش رہی پھر دو سال پہلے میرے جرم کی سنوائی ہو گئی۔ میرا بیٹا جو اب چار سال کا ہے۔ دو سال پہلے ڈاکٹروں نے اس کے دل میں موجود سوراخ کا انکشاف کیا۔ ” جھکی نظروں سے اپنے لبوں کو کاٹتے ہوئے وہ مشکل سے لفظ ادا کر پا رہی تھی۔ سامنے والی کا چہرہ بھی زرد ہوا۔
“کسی اور کے بچے کے ساتھ ظلم ہوتا دیکھ کر میں خاموش ہو گئی اور میرے بچے کی تکلیف پر اللہ خاموش ہوگیا۔” وہ لڑکھڑاتی آواز سے بولی۔
“میری خطائیں میرے بچے کو تباہ کر گئیں۔” غیرمرئی نقطے پر نظریں جمائے وہ کہہ رہی تھی۔
چھ سال پہلے…!
وہ اور حبیبہ ٹرین اسٹیشن پر پہلی بار ایک دوسرے سے ملی تھیں۔ حبیبہ بلوچستان کی ایک خوبصورت پٹھان لڑکی تھی جس کے ساتھ اسکا چار سالہ بیٹا تھا۔ زلیخا اپنے شوہر کے ساتھ اسٹیشن پر موجود تھی اسکی والدہ کا گھر کشمیر تھا تو اسکا شوہر اسے ٹرین تک چھوڑنے آیا تھا۔ ٹرین کے انتظار میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی جب کچھ فاصلے پر موجود بینچ پر چادر میں لپٹی روتی ایک بچے کو سینے سے لگائی عورت اسے دکھائی دی۔ اسے اس کے رونے کی وجہ جاننے کا تجسس ہوا لیکن ٹرین کے ہارن پر وہ اپنے سامان کی جانب متوجہ ہوگئی۔ سامان اٹھا کر پلٹی تو وہ بینچ خالی پایا۔ اتفاق سے جس کیبن میں اسکی سیٹ تھی اسی کیبن میں وہ عورت اور اسکا بچہ بھی تھا۔ کیبن میں اور بھی لوگ تھے لیکن وہ اس عورت کے سامنے جا بیٹھی۔ بور نہ ہونے کے لیے اس عورت سے باتیں کرنے لگ گئی جو کافی ڈری بیٹھی تھی۔ اس سے اس کے خوف کی وجہ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ اسکا شوہر دو سال پہلے مر گیا اور اس کے شوہر کے سوتیلے بھائی اس کے بیٹے کو قتل کر دینا چاہتے ہیں تاکہ تمام جائیداد پر قبضہ کر سکیں۔ اسی لیے وہ اپنے بیٹے کو لے کر یہاں سے بھاگ رہی ہے۔ زلیخا کو جان کر افسوس ہوا۔ ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی جہاں آدھے گھنٹے کا سٹے تھا۔ وہ تینوں بھی ایک ساتھ گاڑی سے اتر آئے۔ واشروم اسٹیشن کے قدرے سنسان طرف تھے۔ حبیبہ واشروم تھی اور زلیخا نے اس بچے کے ساتھ کھڑی تھی۔ زلیخا نے اپنے موبائل کی جانب دیکھا اور کیمرا اون کرکے ساتھ موجود کھیتوں کی وڈیو بنانے لگ گئی جب اسے گولی کی آواز سنائی دی۔ وہ چیخ کر پلٹی تو نظر سیدھا گولی چلانے والے پر گئی اور اسی لمحے اس چہرے کو اس کے موبائل کے کیمرے نے بھی ریکارڈ کیا۔ بچے کی چیخ وپکار اسے دھچکا دے گئی وہ چار سالہ بچہ زمین پر اوندھے منہ گرا تڑپ رہا تھا۔ زلیخا کی آنکھیں پتھر ہو گئیں اور جسم نے حرکت چھوڑ دی۔ واشروم سے نکلتی حبیبہ کی دل دہلا دینے والی چیخ اسے ہلا گئی۔
وہ واحد عینی شاہد تھی اس قتل کی۔ حبیبہ چاہتی تھی کہ وہ گواہی دے لیکن وہ اپنی بقاہ کے لیے خاموش رہی۔ دوسری جانب سے ملتی دھمکیاں اسے بزدل بنا گئیں۔ پہلے ضمیر اکساتا تھا حق کے ساتھ کھڑا ہونے کو لیکن جب شوہر کی وفات پر وہ اور اسکا بیٹا اکیلے ہو گئے تو اس نے اپنا دل پتھر کر لیا۔ اس کے بچے کو ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت تھی۔ اسکا بچہ تکلیف میں تھا تو وہ بھی حبیبہ کی تکلیف سمجھ پائی۔ اس کے بیٹے کا بچنا ممکن نہیں تھا پھر وہ کس کے لیے دنیا چنتی اسے تو آخرت ہی چننی تھی۔ ہر دھمکی کو پس منظر میں ڈال کر وہ تیار ہو گئی گواہی اور ثبوت دینے کو۔ آج حبیبہ کے بیٹے کو انصاف ملا تھا۔ اللہ نے اسے اختیار دیا اور اس نے حق کا ساتھ دیا۔ وہ مسکرائی۔
اپنے پرس سے ایک پرچی نکال کر اس نے حبیبہ کی جانب بڑھائی۔
“یہ کیا ہے؟” حبیبہ نے اسے تھام کر اچھنبے سے پوچھا۔
“میرے جانے کے پندرہ منٹ بعد کھولنا۔ اللہ حافظ!” حبیبہ سے کہہ کر ایک الوداعی نظر اس پر ڈال کر وہ پلٹی تو بےاختیار ہی آنکھیں آنسوؤں سے بھری۔ حبیبہ نے اسکی جانب دیکھا کچھ غلط تھا کچھ تھا جو غلط تھا لیکن کیا وہ سمجھ نہیں پائی۔
اسکے نکل جانے کے ٹھیک پندرہ منٹ بعد حبیبہ نے پرچی کھولی تو دنگ رہ گئی۔ اس کے چہرے پر کئی رنگ ابھر کر معدوم ہوئے۔ اس نے سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا تو دل دھل گیا وہ بھاگی باہر کی جانب۔
سڑک پر نم آنکھیں لیے وہ چلتی جارہی تھی۔ اسکی کوئی منزل نہ تھی۔
“اللہ یہ آسان نہ تھا۔ یہ میں نے تیری خاطر کیا۔ ابراہیم کے لیے اسماعیل کی قربانی دینا آسان نہیں لیکن ابراہیم نے اللہ کی خاطر قربانی دی..اللہ میں نے بھی تیری خاطر اپنے اسمائیل کی قربانی دی۔ یعقوب کے لیے یوسف کی جدائی آسان نہیں..اللہ میں تیرے لیے یہ جدائی چنتی ہوں۔ اللہ میں اپنا بیٹا تیرے حوالے کرتی ہوں۔ ” نم آنکھوں سے اللہ سے وہ محو گفتگو تھی۔ ناجانے کہاں سے تیز گاڑی آئی اور ٹکر سے اسے اڑا گئی۔ اس نے ایک زوردار ٹکر کے بعد پہلے اپنے آپ کو پہلے ہوا میں معلق ہوتا پایا اور پھر زمین پر گرا ہوا۔ کانوں میں گونجتے ہارن چیخیں سب سن ہوتا جارہا تھا۔ کھلی آنکھوں سے اس نے سڑک پر پھیلتے اپنے خون کو دیکھا۔
ایمبولینس کا سائرن قریب سے قریب ہوتا جارہا تھا اور اسکی دھڑکنیں مدھم سے مدھم۔
تکلیف؟ نہیں وہ تکلیف نہیں محسوس کر رہی تھی وہ کچھ اور محسوس کر رہی تھی کچھ ایسا جو آج تک اس نے محسوس نہ کیا تھا۔ کچھ ایسا جو زندہ لوگ محسوس کر ہی نہیں سکتے۔ کچھ ایسا جو اللہ کے نیک بندے اللہ سے ملاقات سے پہلے محسوس کرتے ہیں۔
تمام آوازیں آنا بند ہو گئی تھیں۔ آنکھوں کے پردے سیاہ ہوگئے تھے۔ اسے اپنا آپ ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ جسم کے بوجھ سے آزاد ہو گئی تھی۔ اسے ذاتِ رہائی
  مل گئی تھی۔ اس دنیا سے اسکا رابطہ کٹ چکا تھا۔
وہ نفس المطمئنہ کہلائی گئی تھی۔ اسکا انجام خوبصورت تھا وہ ایکسٹریمسٹ خوبصورت انجام جو اس نے سوچا تھا یہ انجام اس سے کئی درجے خوبصورت تھا۔ اسکی قربانی ضائع نہ گئی تھی۔ وہ اطمینان والی جانوں میں شامل ہو چکی تھی۔
بھاگتی ہوئی حبیبہ لوگوں کی بھیڑ کو چیرتے ہوئے اس ہسپتال میں داخل ہوئی تھی۔
“حبیبہ.. حبیبہ نام ہے میرا۔ میرے نام سے زلیخا نے کچھ رکھوایا۔ ” کاؤنٹر پر کھڑی وہ بےتابی سے پوچھ رہی تھی۔
“یس میم یہ لیں آپکی امانت۔” اس نرس نے ایک پارسل اسکی جانب بڑھا دیا۔ سب سے اوپر ایک پرچہ تھا اس نے اسے کھولا۔
“میرے بیٹے کو ایک دل کی ضرورت ہے۔ میرے مرنے کے بعد میرا دل میرے بیٹے کا ہوگا۔ اس پارسل میں تمام کاغذات ہیں اور تمام پر میرے دستخط بھی ہیں۔ تم بس انکو ڈاکٹرز تک پہنچا دینا اور میرا بیٹا آج سے تمہارا۔ ” وہ لکھی تحریر پڑھ کر حبیبہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا پلٹ کر کاؤنٹر کا سہارا لیتی اسکی نظریں باہر سے اندر لاتے اسٹریچر پر پڑی۔ اس اسٹریچر پر پڑا بےجان وجود زلیخا کا ہی تھا۔ بے اختیار چہرے پر ہاتھ رکھ کر وہ چیخی تھی۔ اسکی جانب بھاگی۔ اسے جھنجھوڑ کر اسکا نام پکارتی وہ اسے اٹھا رہی تھی لیکن بےسود۔ اسٹریچر کا سہارا لیتے پھوٹ پھوٹ کر روتے وہ زمین پر بیٹھتی گئی۔ زلیخا کے سر سے بہتا خون اب رکا ہوا تھا۔ اسکے بےجان چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ وہ مسکراہٹ حبیبہ کو سن کر گئی ایسی مسکراہٹ اس نے کبھی نہ دیکھی تھی۔ وہ مسکراہٹ مسحور کر دینے والی تھی۔ اور حبیبہ مسحور ہو چکی تھی۔
پانچ سال بعد…!
سانولی رنگت کا گھنگھریالے بالوں والا نو سالہ لڑکا گارڈن میں فٹ بال سے کھیل رہا تھا اور وہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ماما آپ بھی کھیلیں نا میرے ساتھ۔” فٹ بال اس کے پاس آئی تو اس نے بھی کرسی پر بیٹھے بیٹھے کک ماری تو وہ بچہ بولا۔
“نہیں آپ کھیلو۔ ماما چائے پی لیں۔ ” میز سے کپ کو تھام کر لبوں سے لگا کر وہ مسکرا کر بولی تو وہ ناراضگی سے دیکھتا پلٹ گیا۔
“زلیخا! تمہاری آزمائش بڑی تھی۔ تم اللہ کے خاص بندوں میں سے تھی۔ اور اللہ نے تمہاری قربانی قبول کر کے تمہیں یقیناً بڑا درجہ دیا ہوگا۔ ” مسکرا کر اس نے سوچا۔ منظر مدھم ہوتا ہوا معدوم ہوگیا اور ہوائیں مسکراتی ہوئی پلٹ گئیں۔
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.