Afsanay

Dill Hara

“امی میں جیسی ہوں خوش ہوں یہ آٹا لگا کر کیا لوگ مجھے پسند کرلیں گے”

“تو پھر کیس چاہتی ہو یہ تمہاری رنگت دیکھ کر لوگ واپس لوٹ جائیں “

“تو لوٹ جائیں امی مجھے فرق نہیں پڑھتا میرا رنگ جیسا بھی ہے اللہّ نے بنایا اور اس ہی کا دیا ہوا ہے”

“ہونہہ۔۔اللہّ نے ایک اولاد دی وہ بھی ایسی!”

۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ دھکتے دل کے ساتھ چاند کو دیکھ کر مسکرائی۔۔

وہ ہلکے سے بولی

“اللہّ چاند پر بھی تو داغ ہوتا ہے کتنا خوبصورتی سے لوگ اسے دیکھتے ہیں اور انسانوں کو ناجانے کیا سمجھا ہوا۔ بس خوبصورتی پر مرتے ہیں لوگ”

وہ ہلکا سا مسکرائی

“اور میں جانتی ہوں کہ میں بہت خوبصورت ہوں آخر تیری بنائی ہوئی مخلوق ہوں”

وہ کہہ کر آنکھیں موند گئی۔۔

۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

“چلو سیرت اب بس کرو چادر لے کو اب چھپا کر کیا فائدہ جب ہاتھ پیر نہیں چلانے اب جو ہو وہ تو نظر آنا ہے اب چل پڑو قاسم باہر صبر کر رہا ہے “.

“جی امی”

سیرت اپنی امی (کلثوم بیگم ) کے ساتھ اکیلی رہتی تھی باپ (نواز صاحب ) تو تب ہی چھوڑ گیا جب وہ دو سال کی تھی پھپھو نے ساتھ دیا اور ان کا ایک بیٹا قاسم جس کی شادی سر پر تھی ۔۔اس کی شاپنگ کے لیے ساتھ جارہے تھے ۔۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔

” فہم یار تم کتنے پیارے ہو نا ہر لڑکی تو تم پر مرتی ہے “

اس کا دوست حسرت سے بولا۔۔

“سوواٹ یار سب اپنی جگہ پیارے ہیں سب کو اللہّ نے بنایا ہے خوبصورت بنایا ہے جیسا بھی بنایا ۔۔

” جب انسان کا دل خوبصورت ہوتا ہے تو شکل سے محبت خودبخود ہوجاتی ہے “

ہر وہ انسان خوبصورت ہوتا ہے جو اپنی سیرت سے خوبصورت ہو “

وہ دونوں دوست اپنی اماؤں کے ساتھ آئی تھے اور شاپنگ میں مردوں کا کیا کام کہہ کر باہر بیٹھے تھے۔۔

فہم ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔۔عزت کی روٹی باپ کما کر لاتا اور باپ کے ساتھ ہی کپڑوں کی اپنی دکان پر بیٹھتا اور چلاتا ۔۔وہ خوبصورت تھا مگر اس کی سیرت اس سے زیادہ خوبصورت تھی ماں باپ نے اس کی پرورش میں کمی نا چھوڑی اور اسے بتایا کہ عورت کی عزت کیا ہوتی ہے چھوٹے گھر بسا ہوا ،حلال روزی اور ایم بی اے کیا ہوا ۔۔سکون تھا سب سے بڑھ کر اور کیا چاہیے انسان کو ۔۔

جب باہر سے گزرتے قاسم اور سیرت نے باتیں سنی اور قاسم سیرت کو دیکھ کر ہنسا اور بولا ۔۔

“جو بھی کرلو سیرت نام ماموں نے تمہارا رکھ دیا ہونا

“بلیک بیوٹی چاہیے تھا “

وہ قہقہہ لگا گیا

جب کے پاس کھڑے فہم نے افسوس سے سر ہلایا ۔۔

۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔

آج پھر ایک رشتہ دہلیز پر آیا وہ 24 سال کی لڑکی بچپن سے اپنوں سے اپنا مزاق بنتا دیکھ کر خواب دیکھنا تو اس نے کب سے چھوڑ دیے مگر اللہّ سے امید لگانا کبھی نا چھوڑی ۔۔ ناجانے قسمت میں کیا لکھ تھا ۔۔لوگ پڑھ لکھ کر کس جہالت کی طرف جارہے تھے ۔۔

جب ماں کی آواز پر ہوش آیا

“آج پھر ویسے ہی بیٹھی ہو اس رنگ کر کچھ تھوپ لینا تھا ۔”

وہ خاموش رہی ۔۔چلو لوگ آگے ہیں ۔۔

“امی کیوں روز روز یہ کرتی ہیں۔۔جب نصحیب میں”

“اوو بی بی چپ جر جا باپ تو تجھے میرے سر چھوڑ کو چلا گیا !پھوٹی قسمت میری “

آج شاید اس کی قسمت میں فیصلہ لکھا گیا تھا ۔۔

وہ اپنے سانولے رنگ (وہ رنگ جس میں بہت کشش تھی مگر کوئی سمجھتا نہیں) ،بادمی آنکھیں ،مناسب جسامت اور 4’5 قد لیے آج ایک بار پھر قسمت کے کھیل کو دیکھ رہی تھی جب سامنے موجود عورت سے پیار سے اسے دیکھا اور گلے لگا لیا ۔۔

“ماشاللہّ بہن آپ کی بچی تو بہت پیاری ہے بس یہ ہی میری بہو بنے گی ۔۔”

سمینہ بیگم نے خوشی سے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا تو وہ حیرانگی سے ماں اور پھپھو کو دیکھنے لگی۔۔

“بہن مگر آپ کا بچہ تو بہت “

اس سے پہلے کہ کلثوم بیگم بات مکمل کرتی ۔۔

“اللہّ نے میرے بچے کس جوڑ اس کے ساتھ بنایا ہے”

اور باتوں ہی باتوں میں ایک ماہ بعد کی تاریخ دی گئی۔۔

۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔

وقت کا کام ہے گزرنا تو جیسے جیسے وقت نے گزرنا ہوتا وہ گزر ہی جاتا۔۔آج اس کی شادی کا دن آن پہنچا اندر کہیں خوف تھا کہ جس شخص کے ساتھ بیاہ کر جارہی اُس نے تو اسے اس سانولی رنگت کے ساتھ دیکھا ہی نہیں تو کیا آج اس کا رسوا ہونے کا دن ہے مگر وہ بھول گئی شاید۔۔

“اللہّ سب سے بڑا ہے وہ غفور و رحیم ہے “

نکاح شروع ہوا ۔۔

نکاح کے بول گونجنے لگے

“دُختر نواز سیرت نواز کیا آپ کو فہم بن حسنین حق مہر 3 لاکھ کیا آپ کو قبول ہے”

سوچوں کا دارومدار صرف آنے والی زندگی پر تھا کیا اس کا یہ سانولا رنگ اس لے ڈوبے گا ساری زندگی ہر ایک سے ظنز سننے کے بعد کیا اب بھی ۔۔!

نکاح کے بعد وہ اپنی ماں اور ساس کے ہمراہ لایا گیا ۔۔

وہ ہلکے رنگ کا جوڑے میں ملبوس جس پر بہت خوبصورت اور نفیس کام ہوا تھا ساتھ ہی ہلکا سا تیار ہوئے ۔۔۔اپنے سانولے رنگ کے ساتھ بھی اسپرا لگ رہی تھی ۔۔

مگر وہ اسپرا آنکھوں میں اُداسی لیے جب فہم نے اپنی ہمسفر کا ہاتھ تھاما اور لے کر سٹیج پر آیا ۔۔

اور دل سے مسکرایا۔

تو! اپنی سانولی رنگت پر ہوچلی ہے اداس ۔۔

زوال حسن کی وحشت کسی حسین سے پوچھ ۔۔

وہ دونوں خاموشی سے بیٹھے مبارک باد وصول کر رہی تھی جب دونوں کے کانوں میں پاس کھڑی خاتون کی آواز گونجی

“بہن ایسی کیا مجبوری تھی کہ تمہاری بیٹے کو ایسی لڑکی کے ساتھ بیاہ دیا ۔۔ اس کی تو ماں نے بھی جان چھوڑوائی ہے “

ایک آنسو سیرت کی آنکھ سے گرا کر فہم کے ہاتھ پر گرا جب وہ اس کا ہاتھ تھام کر اُٹھا اور بولا تو سب کو دھنگ کر گیا ۔۔

“سب کو کالا رنگ پسند تو بہت ہوتا ہے مگر جب وہ رنگ آپ کی یا کسی کی سکن پر آتا ہے تو وہ آپ کو زہر لگتا ہے براُ لگتا ہے میرا جوڑ اللہّ نے سیرت کے ساتھ بنایا ہماری سیرتیں دیکھ کر صورتوں پر تو کوئی بھی جاسکتا دیکھ سکتا ۔۔کیا جن کا رنگ سانولا ہے یا جن کے رنگوں میں کوئی مسلۂ ہے کیا انھیں جینے کا حق نہیں ۔۔

اگر ایک ماں اپنی اولاد میں فرق کر رہی رنگ کی بنا پر تو وہ کیسی ماں ہے ۔۔آپ سب جو میری بیوی کے رنگ ہر بول رہے کیا ایک دن اللہّ کو جواب نہیں دینا ۔۔۔ اس معاشرے نے ایک ایسا اصول بنا لیا ہے کہ سانولا رنگ ہے تو وہ عورت گھر سے باہر نا نکلے وہ شادی نا کرے وہ سانس لینا چھوڑ دے کیا یہ انسانیت ہے آپ لوگوں کی ۔۔

مجھے معلوم ہے کہ میری بیوی کی صورت سے زیادہ اس کی سیرت حوبصورت ہے ۔۔مجھے معلوم ہے کہ میری بیوی سانولے رنگ کے ساتھ کتنی کشش رکھتی ہے ۔۔یہ دل ہارا ہے میں نے اس سانولے رنگ پر ۔۔میرے ماں باپ نے سیکھایا ہے کہ انسان کو رنگ پسند ہے کیونکہ وہ اللہّ نے بنائے ہیں تو جب وہ ہی ایک رنگ کڈی کا ہے جس کو پہننے کے لوگ دیوانے ہیں تو کیا آپ انھیں زہنی مریض بنا دیں گے ۔۔اس رنگ پر جب دل ہارا تھا نا تو یہ اور پیارا لگا تھا ۔۔”

وہ کہہ کر آگے بڑا اور سیرت کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔یہ مان، یہ عزت جب ایک مرد دیتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تربیت کتنی اعلی ہوئی ہے سب کو چھوڑ کر وہ سیرت کا ہاتھ تھامے بڑھ گیا ۔۔

“جینا ہر انسان کا حق ہے “

مجھ سے نہ مل سکے گا کسی کا مزاج بھی۔۔

مجھ کو تو اب گلاب بھی کالے پسند ہے ۔۔

************

نارملایز کریں ڈارک سکن ٹون والے لوگوں کو بھی جینے کا حق ہے اور وہ میں نے باقیوں سے زیادہ خوبصورت دیکھے ہیں

از علمیر اعجاز

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Check Also
Close
Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.